ایرانی حکومتی ماتحت ادارے اطلاعات اور سپاه پاسداران کی توسط سے مغربی بلوچستان میں ایک منظم بلوچ نسل کشی پالیسی کے تحت چند دیہاتوں میں بلوچ خاندانوں کے تمام مرد اراکین قتل یا پھانسی دے دیئے گئے
ان دیہاتوں کے نام ذیل میں هیں
سرجنگل: یہ دیہات زهدان سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر هے یہاں کے اکثر مردوں کو زاہدان کے مرکزی جیل میں پھانسی دے دیگئی انهیں حکومتی پالیسوں کے مخالفین اور مختلف بہانوں کے تحت گرفتار کیا گیا تها,
جس میں خاص کر منشیات فروشی اور حکومت مخالفین مسلح گوپوں سے رابطہ کے جرائم کے لئے سزائے موت دے دی گئی اور اس بہانے کے تحت 85 بلوچ فرزندوں کو پھانسی دی گئی.
ںصرت آباد: 2000 اور2001 میں ایرانی فورسز کے آپریشن سے، ںصرت آباد کے تمام خاندانوں کے ممبران جن میں 12 سال کے بچوں سے لیکر 70 سال کے درمیان تمام مردوں کو حکومت مخالف قرار دیکرہلاک کردیا گیا
کناردر: یہ دیہات ڈسٹرک بنت نیکشهرسے متعلق هے جو کہ بندرگاه چابهار کے شمال غرب میں 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع هے.
یہاں 1990 میں ایرانی فورسسز کی آپریشن سے گاؤں کے لگ بهگ تمام مرد اور چند خواتین بهی هلاک کردئے گئے تهے جن میں بچے اور عمر رسیده لوگ بهی شامل هیں ان حراست شدہ افراد کو دن ڈهارے بچوں اور عورتوں کے سامنے کهڑا کرکے گولی مار دیگئی
۰انہیں حکومت مخالف سرگرمی میں ملوث هونے کے شبے میں بیدردی سے قتل کردیا گیا۰
کنادر سے موصول هونے والے چند افرادوں کے نام میں جو قتل عام هوئے
دین محمد بلوچ 100 سال
لاغر بلوچ 17 سال
طلب خان بلوچ 30 سال
دادمحمد بلوچ 35 سال
هالوگ بلوچ 50 سال
مجید بلوچ فرزند هوتک 35سال
بی بی مهتاب بلوچ 60سال
خالقداد بلوچ 35 سال
پسُند بلوچ 60سال
شکرالله بلوچ 30 سال
پیربخش بلوچ 30سال
پیرداد بلوچ 35 سال
مرادبخش فرزند دین محمد نصیر 50 سال
محمود بلوچ
مجید بلوچ هوتک 35 سال

No comments:
Post a Comment