Friday, 25 March 2016

ایرانی بلوچستان میں روافض حکومت کے قتل عام شروع کردی

ایرانی حکومتی ماتحت ادارے اطلاعات اور سپاه پاسداران کی توسط سے مغربی بلوچستان میں ایک منظم بلوچ نسل کشی پالیسی کے تحت چند دیہاتوں میں بلوچ خاندانوں کے تمام مرد اراکین قتل یا پھانسی دے دیئے گئے
ان دیہاتوں کے نام ذیل میں هیں
سرجنگل: یہ دیہات زهدان سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر هے یہاں کے اکثر مردوں کو زاہدان کے مرکزی جیل  میں پھانسی دے دیگئی انهیں حکومتی پالیسوں کے مخالفین اور مختلف بہانوں کے تحت گرفتار کیا گیا تها,
 جس میں خاص کر منشیات فروشی اور حکومت مخالفین مسلح گوپوں سے رابطہ کے جرائم کے لئے سزائے موت دے دی گئی اور اس بہانے کے تحت 85 بلوچ فرزندوں کو پھانسی دی گئی.
ںصرت آباد: 2000 اور2001 میں ایرانی فورسز کے آپریشن سے، ںصرت آباد کے تمام خاندانوں کے ممبران جن میں 12 سال کے بچوں سے لیکر 70 سال کے درمیان تمام مردوں کو حکومت مخالف قرار دیکرہلاک کردیا گیا
کناردر: یہ دیہات ڈسٹرک بنت نیکشهرسے متعلق هے جو کہ بندرگاه چابهار کے شمال غرب میں 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع هے.
 یہاں 1990 میں ایرانی فورسسز کی آپریشن سے گاؤں کے لگ بهگ تمام مرد اور چند خواتین بهی هلاک کردئے گئے تهے جن میں بچے اور عمر رسیده لوگ بهی شامل هیں ان حراست شدہ افراد کو دن ڈهارے بچوں اور عورتوں کے سامنے کهڑا کرکے گولی مار دیگئی
۰انہیں حکومت مخالف سرگرمی میں ملوث هونے کے شبے میں بیدردی سے قتل کردیا گیا۰ 
کنادر سے موصول هونے والے چند افرادوں کے نام میں جو قتل عام هوئے

 دین محمد بلوچ 100 سال

 لاغر بلوچ 17 سال

 طلب خان بلوچ 30 سال

 دادمحمد بلوچ 35 سال

هالوگ بلوچ 50 سال

مجید بلوچ فرزند هوتک 35سال

 بی بی مهتاب بلوچ 60سال

خالقداد بلوچ 35 سال

 پسُند بلوچ 60سال

 شکرالله بلوچ 30 سال

 پیربخش بلوچ 30سال

پیرداد بلوچ 35 سال

 مرادبخش فرزند دین محمد نصیر 50 سال

 محمود بلوچ

مجید بلوچ هوتک 35 سال 

No comments:

Post a Comment