Sunday, 21 February 2016

لبنانی حکومت سے حزب اللہ کو نکیل ڈالنے کا مطالبہ

سعودی عرب کی جانب سے لبنان کی سیکیورٹی فوسز کی امداد روکے جانے کے اعلان کے ردعمل میں جہاں بعض سیاسی جماعتوں نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے وہیں ملک بیشتر سیاسی قیادت سعودی اقدام کو ایران نواز حزب اللہ کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنان کی ایک سرکردہ سیاسی جماعت ’لبنانی فورسز‘ کے سربراہ سمیر جعجع نے سعودی عرب کی جانب سے لبنانی فوج کی امداد روکنے کی تمام ذمہ داری حزب اللہ پرعاید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے وہ حزب اللہ کو ریاض پر یلغار سے روکے۔ 
ادھر لبنانی کابینہ کے حزب اللہ مخالف وزیرعدل اشرف ریفی نے میچل سماحہ کیس کو اعلیٰ عدالتی کونسل میں پیش نہ کیے جانے کے خلاف بہ طور احتجاج استعفیٰ پیش کردیا ہے۔
وزیر انصاف کے استعفے سے متعلق الحدث ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سمیر جعجع نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مارچ گروپ 14 حکومت میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے لبنان اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو کابینہ میں مزید وزراء بھی اپنے استعفے دے سکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں سمیر جعجع نے بیروت حکومت کے حزب اللہ کے حوالے سے اختیار کردہ موقف کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حزب اللہ کو سعودی عرب کے خلاف جارحیت اور بلا جواز الزام تراشی سے منع کرے۔
ادھر لبنانی رکن پارلیمنٹ سامی الجمیل نے ’العربیہ‘ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی کہ لبنان ایران کا باجگزار ملک بننے جا رہا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ لبنانی قوم سعودی عرب کے احسانات کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ 
سعودی بھائیوں نے مشکل وقت میں کئی سال تک ہماری مدد کی۔
خیال رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب نے بیروت کے بعض متنازعہ اقدامات کے باعث لبنان کی فوجی امداد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 
اس اعلان کے بعد لبنان کی بیشتر سیاسی قیادت نے سعودی اقدام کو ایران نواز حزب اللہ کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

No comments:

Post a Comment