ایرانی حکومت کی جانب سے جہاں بڑی تعداد میں رضاکار جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں بھیجے گئے ہیں وہیں لڑائی میں زخمی ہونے والے اجرتی قاتلوں کو علاج کے لیے واپس تہران لایا جا تا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق پچھلے کچھ عرصے کے دوران شام میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہونے والے 1500 جنگجوؤں کو ایران کے بقیۃ اللہ اسپتال میں علاج کے لیے لایا گیا۔ ان میں عراق، افغانستان اور پاکستانی جنگجو بھی شامل ہیں۔
فارسی نیوز ویب پورٹل’’پائیداری ملی‘‘ نے اسپتال کے ڈائریکٹر علی رضا جلالی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ شام میں زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے بقیۃ اللہ اسپتال لائے جانے والوں میں 425 پاسداران انقلاب کے اہلکار جب کہ باقی رضاکار ملیشیا کے 1049 جنگجو شامل ہیں۔
ادھر ایک دوسری خبرمیں بتایا گیا ہے کہ شام میں ایک ہفتے کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے مزید 42 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ ہلاکتیں شمالی شہر حلب میں نبل اور الزھراء قصبوں پر قبضوں کے لیے ہونے والی لڑائی کے دوران ہوئیں۔
حلب میں ایرانی فوجی گاڑیاں
ایران کے فارسی ذرائع ابلاغ نے حال ہی میں شام کے جنگ زدہ شہر حلب میں
شامی اور ایرانی فوجیوں کے زیراستعمال فوجی گاڑیوں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔
ان تصاویر میں پاسداران انقلاب کے زیراستعمال ’’کویران‘‘ نامی گاڑیاں بھی شامل ہیں جب پر راکٹ لانچر نصب کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ’’کویران‘‘ فوجی گاڑیوں پر 107 ملی میٹر دھانے والے ’’فجر1‘‘ راکٹوں کے لانچر نصب ہیں اور انہیں چھ فروری کو شمالی حلب میں لڑائی کے دوران استعمال بھی کیا گیا۔



No comments:
Post a Comment