Sunday, 18 October 2015

شیعہ افغانوں کی شامی جنگ کے لئے ایرانی بھرتی

ایرانی پاسداران انقلاب شیعہ مسلک افغانوں کو پانچ سو ڈالر ماہانہ مشاہرے اور ایران میں سکونت کے عوض شام میں لڑائی کے لئے بھرتی کر رہے ہیں۔
افغانستان میں ہزارہ شیعہ آبادیوں میں ایران کے فرنٹ مین کے طور پر شام کی لڑائی میں نوجوانوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری ہے۔ 
ماضی میں بھی ایران، افغان ہزارہ شیعہ آبادی کی قابل رحم حالت کا فائدہ اٹھا کر ایسے کام کرنا رہا ہے۔
برطانوی جریدے 'ٹائمز' نے اپنی جون 2015ء کی اشاعت میں شامل ایک رپورٹ میں پانچ ہزاروں افغانوں کی شامی فوج کے شانہ بشانہ شامی لڑائی میں شرکت کا انکشاف کیا تھا۔ 
اخبار نے دعوی کیا تھا کہ ایران اپنے شہروں میں پناہ گزین افغان ہزارہ اقلیت کے نوجوانوں کو شام میں براہ راست بھرتی کر رہا ہے۔
اس سال کے اوائل میں جنوبی شام کے علاقوں دمشق، درعا اور القنیطرہ [جنہیں 'موت کی مثلت' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے] میں ہونے والی لڑائی میں شامی فوجیوں کے ساتھ افغانوں کو بھی 'داد شجاعت' دیتے دیکھا گیا۔
 سوشل میڈیا پر بشار الاسد کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے جنازوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بڑے پیمانے پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
فارسی زبان کے اخباری ذرائع کے حوالے سے جمع کردہ معلومات کے مطابق جنوری دو ہزار تیرہ سے شام میں 113 ایران، 121 افغان اور 20 پاکستانی شہری مارے جا چکے ہیں۔

No comments:

Post a Comment