ایرانی فلم ’محمد‘ نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
اس فلم میں پیغمبر اسلام کے بچپن کی زندگی کو تاریخی حوالوں کے تناظر میں فلم بند کیا گیا ہے۔
تاہم کچھ عرب سنی مذہبی رہنماؤں نے اس فلم پر پابندی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔
جمعرات ستائیس اگست کو ایرانی سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ۔ ماجد ماجدی کی ہدایتکاری میں بنائی گئی اس 171منٹ دورانیے کی فلم پر چالیس ملین ڈالر (چھتیس ملین یورو) کے برابر لاگت آئی ہے۔
بصری حوالوں سے چونکا دینے والی اس فلم کی تیاری کے لیے ایرانی حکومت نے بھی سرمایہ فراہم کیا۔
ایران میں آج تک بنائی جانے والی اس سب سے زیادہ لاگت والی تاریخی فلم کو سات برس کے عرصے میں مکمل کیا گیا۔
ماجد ماجدی کی ہدایتکاری میں بنائی گئی اس 171منٹ دورانیے کی فلم پر چالیس ملین ڈالر کے برابر لاگت آئی ہے۔
رافضی ایجنڈے کا فروغ‘
دوسری طرف کینیڈا کے شہر مونٹریال میں واقع امپیریل سینما، جہاں اس فلم کی نمائش کی جا رہی ہے، کے باہر پچاس مظاہرین نے اس فلم کے خلاف احتجاج بھی کیا۔
تاہم چند تنقیدی حلقوں نے فلم ’محمد‘ پر کچھ اعتراضات بھی کیے ہیں۔
پروگرام کے مطابق تین حصوں پر مشتمل ’محمد‘ نامی اس فلم سیریز کے باقی دو حصے کب فلمائے جائیں گے اور کب وہ سینما گھروں میں نماش کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ مغربی ممالک میں شائع کیے گئے پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں پر ایران کی رافضی حکومت نے بھی سخت احتجاج کیا تھا ۔
لیکن اس فلم کے لیے ایرانی رافضی حکومت نے خود رقم دیے۔
No comments:
Post a Comment