ہمیں فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اہلسنت جیش العدل میں شامل ہو رہے ہیں
اور سب بہادر ہیں ۔
ان کی رگوں میں اسلام کے خون دوڑتا ہے۔ وہ اپنے مذہب اسلام کے بھی اتنے ہی شیدائی ہیں۔
اپنی روایات اور اصولوں کے بھی پاسدار ہیں۔ نسل در نسل صدی در صدی وہ ایسے نغمے بھی الاپتے آتے ہیں،
جس سے دل گرم رہتے ہیں، حوصلے جوان۔ لہو رگوں میں ہی نہیں دوڑتا پھرتا آنکھوں سے ٹپکتا ہے۔
یہ وہی جواں ہیں، شباب جن کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری۔ یہ وہ شاہیں ہیں جو چٹانوں میں بسیرا کرتے ہیں ۔
بنجر پہاڑوں، سنگلاخ راستوں، کچے مکانوں میں زندگی کی سختیاں جھیلتے کیا سوچ رہے ہیں۔ ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہے۔
جو صدمے وہ جھیل رہے ہیں، ان کے ذہنوں اور ہونٹوں پر جو چنگاریاں سلگ رہی ہیں، ہم ان کی تپش محسوس کر رہے ہیں ۔
وہ جو یہاں آتے ہی نہیں، انہیں کچھ جلنے کی بو کیسے آئے گی۔ یہ دھواں جو دلوں سے اٹھ رہا ہے، انہیں کیسے نظر آئے گا۔
ادبی محفلوں میں، سماجی تقریبوں میں ایک نظم کی سطریں بڑی عقیدت سے سنی جاتی ہیں ۔
”یہ خط ہوا کے دوش پر بھیج رہا ہوں۔ ان بہادروں کے نام جو پہاڑوں پر موجود ہیں۔
ان یتیموں کے نام جن کے باپ شہید کر دیئے گئے۔ دیکھو میری ماں شہیدوں کی خوشبوؤں کے ساتھ بیٹھی ہے۔
بہن شعلوں میں گھری ہوئی ہے۔
کون ہے جو میرے اندر کے دکھ کو محسوس کرے۔ کون ہے جو مجھے نئے اور خوبصورت کپڑے پہنائے۔
کون ہے جو مجھے سینے سے لگائے۔ ایک رات میری ماں نالہ و فریاد کرے گی۔ وقت سدا ایک سا نہیں رہتا۔ شہیدوں کا خون آپ کو آواز دے رہا ہے۔
رگوں میں غیرت ہے تو خوبصورت بیویوں اور نرم بستروں کو چھوڑ دو۔
گندم کی روٹی ترک کر دو، پہاڑوں پر جاؤ، بجری پہ سو جاؤ، پتھروں کو تکیہ بناؤ، بھوکے پیٹ کے ساتھ پہاڑوں پر دن رات گزارو،
شہیدوں کے خون سے اگی جڑی بوٹیوں کو ڈھونڈو،

No comments:
Post a Comment