Saturday, 29 August 2015

شام میں ایرانی رافضی افسرسمیت 17 افغان جنگجو ہلاک



شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں برسر پیکار ایرانی رافضی عسکری تنظیم "فاطمیون" ملیشیا کے تحت لڑتے ہوئے پاسداران رافضی انقلاب کا ایک سینیر عہدیدار اور سترہ افغان جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی "دفاع پریس" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کیپٹن احمد حیاری گذشتہ سوموار کو اللاذقیہ کے پہاڑی علاقوں اپوزیشن کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔
 اسی لڑائی میں ایرانی رافضی ٹی وی کے نامہ نگار "محمد حسن حسنی" جو کیپٹن حیاری کے ہمراہ تھا بھی زخمی ہوا ہے۔
ایران میں سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ [اگست] کے دوران شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی حمایت میں لڑتے ہوئے 17 افغان جنگجو بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ 
ہلاک ہونے والے افغان جنگجو بھی "فاطمیون" ملیشیا میں شامل تھے۔
خیال رہے کہ ایران کی سرکاری رافضی خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے پچھلے جون کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سنہ 2011ء کے بعد سے شام میں "فاطمیون" بریگیڈ میں شامل افغانی اور پاکستانی جنگجوئوں سمیت 400 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں تاہم آزاد ذرائع شام میں مرنے والے افغان جنگجوئوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بیان کرتےہیں۔
افغانی خبر رساں ایجنسی "کاما" کے مطابق اس وقت ایک اندازے کے مطابق شام میں ایران کی طرف سے بھیجے گئے 3500 افغان شہری بھی جنگ میں شامل ہیں۔ انہیں اجرتی قاتلوں کے طورپر بھرتی کیا گیا ہے، جنہیں طعام وقیام کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 700 ڈالر ماہانہ تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔
رپورٹ کےمطابق ایران کی جانب سے شام بھیجے گئے بیشتر افغان جنگجوئوں کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے اور وہ شام میں فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں۔ ان کی تعداد 2000 سے لے کر 3500 تک ہے۔

No comments:

Post a Comment