Monday, 1 June 2015

ایران کی جانب سے سیستان میں جیش العدل سے مقابلہ کے لئے تیار کردہ"بسیج فورس"کی حالت زار۔



ایران حکومت کی جانب سے سیستان میں جیش العدل سے مقابلہ کے لئے تشکیل دی گئ "بسیج فورس"کی ناگفتہ بہ حالت اس تصویر میں نمایاں ہے۔ 
ایران نے ہمیشہ غیر ریاستی عناصر کو اپنے بھیانک وسفاکانہ مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔
 پرکشش تنخواہوں کا لالچ دے کر معاشرے کے دھتکارے'جرائم پیشہ'غریب وپسماندہ نوجوانوں کو مسلح کرکے اپنی ہی قوم کے خلاف استعمال کرنا اور مظالم کی کھلی چھوٹ دینا ہمیشہ سے ایرانی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔
اس فورس کی پیشہ وارانہ صلاحیت اس تصویر سے خوب عیاں ہیں۔ مگر اب ایرانی اہل سنت عوام دشمن کے ان مذموم ہتھکنڈوں کو خوب سمجھ چکی ہے۔
 اور اہل سنت عوام نہ صرف ایسی کسی بھی فورس کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس فورس کا حصہ بننے والے افراد کا بھی ایرانی اہل سنت معاشرہ'سوشل بائیکاٹ کر چکا ہے۔
یہی وجہ ہیکہ اس فورس کا حصہ بننے والے افراد اب تیزی سے مستعفی ہورہے ہیں۔
اور ایرانی حکومت باوجود پرکشش آفرز کے'اس فورس کو باقی رکھنے اور مطلوبہ اہداف کے حصول میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہے۔
 تہران کے لئے یہ صورتحال کافی تشویش کا باعث بتائ جاتی ہے۔

Wednesday, 27 May 2015

ایران میں مظلوم اہل سنت عوام پر ریاستی مظالم کی ایک جھلک۔



دو مسلم خواتین کو گرفتار کرکے لے جایا جارہا ہے۔
ایسے مناظر 'ایران میں آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 
ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق ایرانی عقوبت خانوں میں ہزاروں کی تعداد میں اہل سنت خواتین جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ 
بے لگام ایرانی فورسز چادر وچار دیواری کا تقدس پامال کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے۔
محض شک کی بناء پر آئے روز گھروں میں گھس جانا اور خواتین وبچوں کو ہراساں کرنا ایک معمول بن چکاہے۔
خفیہ عقوبت خانوں میں غیر انسانی تشدد کے ساتھ ساتھ اہل سنت خواتین کو مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
 حضرت ابن مبارک رحمہ اللہ کا وہ قول آج نوجوانان اہل سنت کی غیرت کو للکاررہا ہیکہ ایک مسلمان کیسے اطمینان اور چین کی زندگی بسر کرسکتا ہے جبکہ مسلم خواتین' بدطینت دشمنوں کے نرغے میں ہوں؟؟۔
اٹھیں اور اپنی مسلمان بہنوں کی عزت وناموس کے محافظ بنیں تاکہ کل بروز حشر رب کے سامنے رسوائ سے بچ سکیں۔

Tuesday, 26 May 2015

خطے میں ایرانی اسٹرٹیجک پالیسی تیزی سے ناکامی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ الشرق الاوسط


مشہور عرب جریدے الشرق الاوسط نے شام اور خطے میں ایرانی پالیسی کو ناکامی سے دوچار قرار دیا ہے۔
تہران نے ایک ہفتہ کی قلیل مدت میں اپنے تین اعلی فوجی جرنیلوں کو دمشق روانہ کیا ہے۔
تاکہ بشار الاسد کے مضبوط کنٹرول کا تاثر دیا جاسکے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز الشرق الاوسط میں طارق الحمید نامی کالم نگار کا ایک آرٹیکل "ایک ہفتہ میں تین ایرانی جرنیلوں کی دمشق آمد"کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔۔
 رپورٹ میں کالم نگار نے لکھا کہ جنرل علی اکبر ولایتی سمیت تین اعلی فوجی جرنیلوں کی دمشق آمد اور بشار سے ملاقات درحقیقت مسلسل ناکامیوں سے دوچار بشار حکومت کو تسلی دینے کے مترادف ہے۔ 
جہاں بشار کی فوج پے درپے شکستوں کا سامنا کررہی ہے۔
الشرق الاوسط نے عراق اور یمن میں بھی ایرانی شکستوں کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اور بطور خاص اس امر کو مکرر ذکر کیا کہ سعودی واتحادی افواج خطے میں ایرانی افواج کے توسیع پسندانہ عزائم کو مسلسل ناکام بنا رہی ہیں۔
اور اسکے مقابلے میں ایرانی افواج محض زبانی جمع خرچ اور خطے کے ممالک کو دھمکانے تک محدود ہوکر رہ گئ ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں عوام' حکومتی پالیسیوں کے خلاف پھٹ پڑے۔ شدید جلاؤ گھیراؤ کی اطلاعات





ایران کے دارالحکومت تہران میں آج صبح سے مختلف مقامات پر پرتشدد مظاہروں کی اطلاعات۔ 
تفصیلات کے مطابق ایران میں بڑھتی بے روزگاری' اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور ملکی وسائل کے بیرون ممالک جنگوں میں اخراجات کے خلاف عوام کی جانب سے حکومتی پالیسیز کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیاہے۔ 
موصولہ اطلاعات کے مطابق مظاہروں کی وجہ سے دارالحکومت میں ٹریفک اور کاروبار زندگی یکسر معطل ہوکر رہ گیا ہے۔
اور کئ پٹرول پمپس اور سرکاری عمارات کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔ 
معلوم رہے کہ یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب ملکی وانٹرنیشنل میڈیا میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے ناقابل یقین حد تک مالی اثاثوں کی بازگشت جاری ہے۔

سیستان میں ایرانشہر کے مضافاتی علاقے کریم آباد میں دو سنی نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں شہادت کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی کی اطلاعات۔



گزشتہ شب ایک بار پھر سیستان کے شہر ایرانشہر میں پولیس کی جانب سے ایک گاڑی میں سوار دو سنی نوجوانوں پر شدید فائرنگ کی گئ۔
جسکے نتیجے میں دونوں جوان شہید ہوگئے۔واقعہ کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئ۔
اور عوام کی جانب سے آئے روز پولیس گردی کے خلاف مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ شروع ہوگیا۔
علاقے سے آمدہ اطلاعات کے مطابق جلاؤ گھیراؤ کے نتیجے میں سٹی ناظم کے موٹرکیڈ میں شامل تین گاڑیوں اور پولیس گاڑیوں کو خاکستر کردیا گیا اور سرکاری عمارات میں توڑ پھوڑ شروع کردی گئ ہے۔
اطلاعات کے مطابق احتجاج کا دائرہ دیگر شہروں تک وسیع ہوگیا ہے۔اور کئ شہروں میں عوام اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور اسکے نتیجے میں کئ اہلکاروں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب مقامی حکام کی جانب سے حسب عادت یہ مضحکہ خیز دعوی کیا گیا ہے کہ دونوں نوجوان تیز رفتاری کے باعث حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی میڈیا میں کشیدگی کی خبروں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔جوکہ میڈیا سنسرشپ پالیسی کا حصہ ہے۔

Sunday, 24 May 2015

عراق وشام اور یمن میں اہل سنت عوام کے قتل عام میں مصروف ایرانی تنخواہ دار مسلح جتھوں کی نشاندہی پر مبنی چارٹ۔

عراق وشام اور یمن میں کارگزار یہ وہ تنظیمیں اور مسلح گروہ ہیں جو اہل سنت عوام کے بہیمانہ قتل عام میں براہ راست ملوث ہیں۔
 یہ تمام گروہ ایرانی سپاہ قدس کے تشکیل کردہ ہیں۔اور سپاہ قدس اور پاسداران انقلاب کی ماتحتی میں مظلوم اہل سنت عوام پر بدترین مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ اس چارٹ میں صرف ان گروپس کی نشاندہی کی گئ ہے جنہیں ایران' اعلانیہ سپورٹ اور فوجی' عسکری واقتصادی معاونت فراہم کررہا ہے۔

جبکہ غیر اعلانیہ وخفیہ قاتل گروہوں کی تعداد مذکورہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ایران کی بھرپور اعلانیہ وخفیہ معاونت سے چلنے والے یہ تمام گروپس' اہل سنت مظلوم عوام کا برسوں سےقتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جسکے نتیجے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق لگ بھگ  پانچ لاکھ سے زائد افراد شہید اور تیس لاکھ افراد مختلف ممالک میں پناہ گزینی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
واضح رہے کہ یہ اعداد وشمار اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کئے گئے ہیں۔جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ایران نے اپنے مذموم توسیع پسندانہ عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اسلامی ممالک کے امن وامان کو تاراج کرنے کے لئے دنیا بھر میں ایسے کئ دہشت گروہ تشکیل دے رکھے ہیں۔ 
واضح رہے کہ تمام مسلح افراد کی تربیت اور بھرتی ایران میں ہوتی ہے اور پھر ان افراد کو مختلف ممالک میں دہشت گردی پھیلانے کی خاطر بھیج دیا جاتا ہے۔

Friday, 22 May 2015

جیش العدل کے سینئر مرکزی ترجمان جناب عرفان شہنوازی کا سعودی اخبار "السبق"کو دیئے گئے انٹرویو کا اردو ترجمہ۔


سوال1
آج کل سننے میں آرہا ہے کہ یمن میں جاری"عاصفہ الحزم" کے شروع ہوتے ہی احواز، بلوچستان اور مشرقی کردستان میں حالات نے شدت اختیار کی ہے. 
ایک ہی وقت میں یہ جنگ اور حالات کی اس شدت بارے آپکی کیا رائے ہے؟؟
ان حالات کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ منحوس ولایت فقیہ نے اپنی 30-35 سالہ حکومت میں هراس فرد پر جو اس کے عقیدے اور مذهب کا نہ ہو، ظلم ڈهایا ہے چاهے وہ شخص ایرانی ہو یا غیر ایرانی، اسی منحوس فاشسٹ حکومت ہی کی وجہ سے ایران کی قومی و مذهبی اقلیتوں، اسی طرح غیر ایرانیوں میں یہ بیداری لہر شروع ہوئی ہے.. حقوق کی طالب ان تمام تحریکوں کا دشمن ایک ہی ہے،
 اور ان سب کا مقصد چاهے ایرانی ہوں یا غیر ایرانی، اپنے مذهب اور قوم کا دفاع کرنا ہے، ایران کے انہی مظالم کے نتیجے میں  یمن کے ستم رسیدہ مظلوم عوام کے دفاع کی خاطر"عاصفہ الحزم" کا آغاز ہوا ہے، اور ان عملیات نے ہر میدان کے اندر راہ آزادی کے مجاهدین میں ایک نئی روح پهونک دی ہے،
 همیں امید ہے کہ وہ تمام اقوام و مذاهب جو اس آخوندی حکومت کے زیر ستم ہیں چاهے ایرانی سرحدات کے اندر ہیں یا باهر، بہت جلد ہی اس فاشسٹ آخوندی حکومت کے خلاف فتح یاب ہونگے ان شاءاللہ

سوال2
 ایران سے آپ کے کیا مطالبات ہیں؟ اور ایران کے مستقبل بارے آپ کیا کہتے ہیں؟
ہمارا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ایران قومی اور مذهبی اقلیتوں پر ظلم و ستم سے باز آئے اور اپنی بے لگام فورسز کو ہماری سرزمین سے نکال دے اور ان اقلیتوں کے باگ ڈور ان کے اپنے ہاته میں دیدے. لیکن یہ حکومت جس کا هدف ہی ظلم و تشدد ہے اور یہ ظلم و تشدد ان کی پالیسی کا حصہ شمار کیا جاتا ہے، ان قومی اور مذهبی اقلیتوں کے مطالبات ماننے کو تیار ہی نہیں ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اس نظام نے اپنےخونی پنجے مزید پهیلا دئے ہیں اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو سرحدوں سے باهر تک وسعت دیدی ہے جیسا کہ ہم سب دیکه رہے ہیں، اگر ہم اور وہ سب مظلوم ستم دیدہ لوگ ایران کی ظالم حکومت کی زیادتیوں سے چهٹکارا چاهتے ہیں،تو ہمارے لئے اس حکومت کو مکمل نابود کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے. ہمیں اپنی تمام اقتصادی،سیاسی اور عسکری طاقت کو بروئے کار لا کر اس حکومت کو نابود کرنا ہوگا، اللہ تعالی سے امید کے ساته اس ولایت فقیہ کے ظالمانہ نظام کو ختم کرنے کے بعد ایران اور تمام عرب ممالک میں صلح وامن ثبات،محبت،دوستی اور اتفاق دیکهنے کو ملے گا.

سوال3.
مولانا فتحی نقشبندی کی رہائ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟کیا یہ رہائ عوام کے پرزور مطالبہ کا نتیجہ ہے؟؟
مولانا نقشبندی کی رہائ کسی قسم کے عوامی مطالبہ کے نتیجے میں قطعا نہیں ہوئ۔
مولانا نقشبندی بغیر کسی جرم کے عرصہ تین برس پابند سلاسل رہے۔ اور وحشیانہ تشدد کا شکار رہے ہیں۔مولانا نقشبندی کے صاحبزادے اور انکے ساتھ گرفتار کئے گئے انکے درجن بھر ساتھی اب تک قید ہیں۔اور بعض ذرائع سے ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ مولانا نقشبندی رہائ کے بعد ایک بار پھر نامعلوم مقام پر منتقل کردئے گئے ہیں۔خود وزارت اطلاعات سے منسلکہ ذرائع اس بات کی تائید کررہے ہیں کہ انکی رہائ کسی قسم کے عوامی مطالبہ کی بناء پر نہیں بلکہ ولایت فقیہ کے کسی  نمائندے کے ذریعے عمل میں آئ ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا کی زندگی کے حوالے سے اب پہلے سے زیادہ خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔بہر حال یہ بات طے ہیکہ مولانا کی رہائ کسی قسم کے عوامی اصرار کا نتیجہ قطعا نہیں ہے۔

سوال4.
جیش العدل کا ہدف کیا ہے اور عالم اسلام کے لئے جیش العدل کا پیغام کیا ہے؟؟۔
جیش العدل کا ہدف یہ ہیکہ ایران اور خارج ایران تمام اہل سنت عوام امن وسکھ کا سانس لیں۔ اور تمام اقوام مکمل خود مختاری اور بھائ چارے کے ساتھ اپنے قومی حقوق سے کما حقہ مستفید ہوں۔اور اس ظالم فاشسٹ ولایت فقیہ کے منحوس نظام کا خاتمہ ہو۔
جیش العدل تمام عالم اسلام سے گذارش کرتی ہیکہ اپنے آپسی اختلافات کو بھلا کر اس ظالم نظام حکومت کے خلاف متحد ومتفق ہوجائیں۔اس ظالم ایرانی نظام کے خاتمے ہی سے پرامن عالم عرب تشکیل پاسکتا ہے۔لہذا ہم تمام جہان اسلام سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اس ناسور کے خاتمے کے لئے صرف کردیں۔تاکہ تمام اقوام اطمینان کی زندگی بسر کرسکیں۔

سوال5.
خلیجی ممالک میں شیعہ اقلیتوں کے دفاع کے نام پر ایرانی مداخلت کے بارے آپ کیا کہتے ہیں؟؟۔
اس سوال کے جواب سے پہلے ہمیں یہ بات خوب باور کرلینی چاہئے کہ ایرانی انقلاب اپنی ساخت اور اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے ایک توسیع پسندانہ انقلاب ہے۔
جسکی وضاحت خود خمینی کرچکا ہے۔خلیجی ممالک میں شیعہ اقلیتوں کے دفاع سمیت تمام دعوے محض ایک مکر وفریب اور ہتھکنڈہ ہے۔
اور اس قسم کے جواز گھڑ کر کسی بھی عرب ملک میں مداخلت کرنا اور وہاں کے امن وامان کو تہہ وبالا کرنا اس فاشسٹ آخوندی حکومت کا پرانا وطیرہ رہا ہے۔
لہذا شیعہ اقلیتوں کے دفاع کا مذموم پروپیگنڈہ محض ایک بہانہ ہے۔
درحقیقت ایران اپنے منحوس انقلاب کو عرب ممالک تک وسعت دینا چاہتا ہے۔اور عرب ممالک کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرکے اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے۔ شیعہ اقلیتوں کے دفاع کی بات محض مکر وفریب ہے۔