ایران کے شمال مشرقی صوبہ خراسان کے دارالحکومت مشہد میں گذشتہ دو برسوں سے بچوں کے کھیل کود کے لیے میلا سجایا جاتا ہے۔
امسال بھی یہ میلا مشہد ہی میں منعقد ہوا ہے جس میں کم سن ایرانی بچوں کو جنگ وجدل اور تشدد پر اکسانے کی تعلیم دی جاتی اور انہیں جنگی ہتھیاروں سے مانوس کرنے کےلیے کھلونا ہتھیاروں سے بہلایا جاتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشہد میں منعقدہ بچوں کے کھیل میلے باقی دنیا کے برعکس کم سن ذہنوں کو جنگ کی طرف مائل کیا جاتا ہے اور ان کے دلوں میں جنگی ہتھیاروں سے محبت پیدا کی جاتی ہے۔
یوں مشہد میں منعقدہ کھیل میلہ کم بلکہ لڑائی کا میدان زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
میلے میں شرکت کرنے والے بچوں کو فوجی وردیاں پہنائی جاتی ہیں۔
ان کے کھیلوں کے مشاغل میں لڑائی اور پرتشدد حربے استعمال کرنا شامل ہے۔ حتیٰ کہ بچوں کے کھیل میلے میں توپیں اور ٹینکوں کے نمونے رکھے جاتے ہیں تاکہ بچے ان بھاری ہتھیاروں میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں اور آئندہ چل کر ایران کی نئی نسل بھی شدت پسندی اور جنگ کی روایتی پالیسی پر گامزن رہے۔
رواں سال ایرانی حکومت نے مشہد میں منعقدہ میلے کے لیے ’انقلابی بچوں کا اسپورٹس سٹی‘ کا عنوان منتخب کیا ہے۔
بچوں کی کھیلوں کے لیے مشہد میں ’’کوہ سنجی‘‘ کا مقام مختص کیا گیا جہاں بچوں کو متحرک اور ساکن اہداف کو نشانہ بنانے، امریکا اور اسرائیل کے فرضی پرچموں پر فائرنگ کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم تربیت کے لیے سرگرم "کارگاہ آموزشی شہر وندیار" ویب سائیٹ نے بچوں کو کھیل کود کے بجائے جنگی جنون کی تربیت فراہم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ویب سائیٹ نے استفسار کیا ہے کہ اگر آپ آٹھ سال کی عمر کے بچے میں ہتھیار پکڑاتے ہیں اور اسے ہتھیار چلانا سکھا رہے ہیں تو آپ ان بچوں کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟ مشہد کھیل میلہ کم بلکہ بچوں کے لیے جنگی مشق زیادہ لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی مشقوں کے مقاصد کیا ہیں؟













No comments:
Post a Comment