ان کا یہ بیان گزشتہ روز ایرانی سپریم لیڈر، آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے سعودی حکومت پر حج انتظامات کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
روسی اخبار، رشین ٹائمز کے مطابق، سعودی مفتیٔ اعظم، عبدالعزیز الشیخ کا سعودی روزنامے، ’’ مکہ ڈیلی‘‘ سے گفتگو کے دوران اسلام سے پہلے کے ایران کے عقاید اور سنیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’ ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ یہ مجوس کی اولاد ہیں اور مسلمانوں سے ان کی نفرت کافی پرانی ہے۔ بالخصوص سنیوں سے۔ ‘‘
روسی اخبار کے مطابق، سعودی مفتیٔ اعظم کا یہ تبصرہ ایران کے آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو سعودی حکومت کی جانب سے اسلام کے مقامات مقدسہ، مکہ اور مدینہ کے انتظامات سنبھالنے کو چیلنج کرنا چاہیے۔
رشین ٹائمز کا اپنی رپورٹ میں مزید کہنا ہے کہ حج سے پہلے شروع ہونے والی لفظی جنگ سعودی عرب اور ایران کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔
گزشتہ روز ایرانی سپریم لیڈر، خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کو سعودی عرب کی جانب سے مسلمانوں کے مقدس مقامات کا نظم و نسق سنبھالنے پر سوالات اٹھانے چاہئیں۔ چونکہ اللہ کے مہمانوں کے لیے سعودی حکمرانوں کا رویہ ظالمانہ ہے، لہٰذا، امت مسلمہ کو دو مقدس مقامات کا نظم و نسق سنبھالنے اور حج کے حوالے سے انتظامات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘‘
خیال رہے کہ گزشتہ برس کم و بیش 60 ہزار ایرانی باشندوں نے حج ادا کیا تھا، لیکن اس مرتبہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایرانی شہری حج ادا نہیں کر سکیں گے۔
سعودی عرب کے حکمرانوں پر الزامات عاید کرتے ہوئے خامنہ ای کا کہنا تھا کہ وہ مقدس مقامات کی زیارت کو سیاسی بنا رہے ہیں اور بڑے شیطان (امریکا) کے مفادات کی خاطر چھوٹے شیطان بن گئے ہیں۔

No comments:
Post a Comment