Thursday, 29 September 2016

دو ہفتوں کے دوران ایران میں 56 افراد کو پھانسی

ایران میں انسانی حقوق کارکنوں کی مقرب خبر رساں ایجنسی ’’ھرانا‘‘ کے مطابق بیشتر قیدیوں کو بھرےمجمع میں پھانسی دی گئی۔
 ایک قیدی ک کو فارس گورنری کے نیریز شہر کے فٹبال گراؤنڈ میں عوام کے جمع غفیر کی موجودگی میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کےدوران پھانسی پانے والوں ایران کے عرب اکثریتی صوبہ اھواز کے دو سماجی کارکن بھی شامل ہیں۔
 ان کی شناخت عدنان مزبان العموری اور علی شریف العموری بتائے جاتے ہیں۔ دونوں ایران کی "ایفین" جیل میں قید تھے۔ 
دریں اثناء اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے 33 ویں سالانہ اجلاس میں بھی ایران میں اندھا دھند پھانسیوں کا معاملہ اٹھایا گیا۔
 اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن نے ایران میں بے گناہ افراد کو پھانسی دیے جانے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ ایران میں قیدیوں کو پھانسی دینے کا غیرمعمولی رحجان باعث تشویش ہے۔
 پوری دنیا ایران میں قیدیوں کو دی جانے والی پھانسیوں پر تشویش کا اظہار کررہی ہے۔ کیونکہ بیشتر قیدیوں کو سیاسی بنیادوں پر موت کےگھاٹ اتارا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں 5000 قیدی پھانسی کی سزا کے منتظر ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں ایران نے درجنوں شہریوں کو سزائے موت دی ہے۔
 ایرانی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں میں 300 سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔
ایرانی جوڈیشل حکام نے سنہ 2016ء کے پہلے سات ماہ میں 700 افراد کو پھانسی دی ہے جب کہ سنہ 2015ء میں 926 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ 
ایک سال میں پھانسی پانے والوں کی یہ شرح 25 برسوں میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔

No comments:

Post a Comment