Saturday, 5 September 2015
Sunday, 30 August 2015
حوثیوں سے جنگ کا مقصد خطے میں ایرانی نفوذ روکنا ہے"
یمن کے جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی کا مقصد خطے میں ایران کی توسیع کو روکنا ہے۔
اپنے دورہ سوڈان کے موقع پر منصور ھادی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا ایران کے 'ناکام تجربہ' کو یمن منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
یمنی صدر ہفتے کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر سوڈان کے دارلحکومت خرطوم پہنچے۔ سوڈانی صدر عمر البشیر اور ان کی کابینہ کے متعدد وزراء ان کے استقبال کے لئے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔
سوڈانی وزیر خارجہ ابراھیم غندوز نے صدر ھادی کی آمد کے بعد ایک بیان میں کہا کہ حالیہ دورہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے ہاں اہم سمجھے جانے والے امور پر تبادلہ خیال کے فریم ورک میں ہو رہا ہے۔
اس فریم ورک کی روشنی میں یمن کا استحکام اور وہاں آئینی حکومت کا بحال ہونا حالیہ مرحلے کی اہم ضرورت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے سوڈان، سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی فوج کو مکمل حمایت فراہم کر رہا ہے تاکہ یمن کی آئینی حکومت بحال ہو سکے۔
گذشتہ جمعہ کے روز سوڈان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ یمنی صدر کا دورہ سوڈان دراصل خرطوم کی جانب سے یمن کی آئینی حکومت کے احترام کا عملی مظہر ہے۔
اس کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان کوارڈی نیشن، تعلقات کی حمایت اور ان امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے جن کا اس وقت یمن کو سابقہ ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سوڈان کے دورے میں یمن کے لئے انسانی امداد کے مواقع اور سوڈانی ہستپالوں میں یمنی زخمیوں کے علاج جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایرانی رافضی حکومت جیش العدل کے بہانے سنیوں سے کھلم کھلا دشمنی کر رہے ہیں
ایران کے مجوسی حکومت کو ختم کرنا ہمارے جہاد کا مقصد ہے۔
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی رافضی حکومت کے جھوٹ کو واضح کر نا چاہتے ہیں اور یہ جو اسلام کو ڈھال بنا رہے ہیں ان کی حقیقت کو لوگوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں،
کیونکہ ان کے دروازے ہمیشہ سے لادینیت شرک اورکفار کے لئے کھلے ہیں۔ یہ تو بہت پہلے سے مسلمانوں پر ظلم کرتے آ رہے ہیں ۔
اب صرف یہ ہوا ہے کہ جو کام یہ پہلے چھپ کر ،کرتے تھے، اب کھلم کھلا کر رہے ہیں۔
ایران کے رافضی حکومت اب جیش العدل کے بہانے سنیوں سے کھلم کھلی دشمنی کر رہے ہیں۔
ایرانی روافض کو شکست دینے کے لئے رافضیوں پر پہلا وار ان کو شرمندہ کرنا ہے۔ اگر یہ کہے کہ جیش العدل نے دشمنی کی آگ بھڑکائی ہے ، اور یہ کہے کہ جیش العدل نے جنگ شروع کی ہے۔
اس سے مسلمانوں پر یہ بات واضح ہو جائی گی، کہ ایران کے رافضیوں کے دل میں اسلامی روایات کے لئے صرف نفرت ہے۔
اس کے علاوہ مسلمان اپنے مسجدیں بنایں گے، اور اپنے مسجدوں میں نماز پڑھیں گے۔ مسجد و نماز کے خلاف جنگ اسلام کے خلاف جنگ ہے۔
یہ جنگ تو جس دن سے شرک و کفر اور حق وجود میں آیا تھا، جاری ہے۔
ایران کےرافضی حکومت جو خون ریزی کر رہے ہیں، وہ تو سب کے سامنے ہیں۔
اور ایران سے کہو کہ ، کہ تمہاری بات جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے، اور تمہارے آقا خامنہ ای ملعون بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
جس کے مطابق، جیش العدل لوگوں میں اور مقبول ہو گیا ہے، اور ایران میں جیش العدل کے حملوں کے بعد لوگ بڑی تعداد سے جیش العدل میں شامل ہو رہے ہیں۔
Saturday, 29 August 2015
شام میں ایرانی رافضی افسرسمیت 17 افغان جنگجو ہلاک
شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں برسر پیکار ایرانی رافضی عسکری تنظیم "فاطمیون" ملیشیا کے تحت لڑتے ہوئے پاسداران رافضی انقلاب کا ایک سینیر عہدیدار اور سترہ افغان جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی "دفاع پریس" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کیپٹن احمد حیاری گذشتہ سوموار کو اللاذقیہ کے پہاڑی علاقوں اپوزیشن کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔
اسی لڑائی میں ایرانی رافضی ٹی وی کے نامہ نگار "محمد حسن حسنی" جو کیپٹن حیاری کے ہمراہ تھا بھی زخمی ہوا ہے۔
ایران میں سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ [اگست] کے دوران شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی حمایت میں لڑتے ہوئے 17 افغان جنگجو بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
ہلاک ہونے والے افغان جنگجو بھی "فاطمیون" ملیشیا میں شامل تھے۔
خیال رہے کہ ایران کی سرکاری رافضی خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے پچھلے جون کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سنہ 2011ء کے بعد سے شام میں "فاطمیون" بریگیڈ میں شامل افغانی اور پاکستانی جنگجوئوں سمیت 400 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں تاہم آزاد ذرائع شام میں مرنے والے افغان جنگجوئوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بیان کرتےہیں۔
افغانی خبر رساں ایجنسی "کاما" کے مطابق اس وقت ایک اندازے کے مطابق شام میں ایران کی طرف سے بھیجے گئے 3500 افغان شہری بھی جنگ میں شامل ہیں۔ انہیں اجرتی قاتلوں کے طورپر بھرتی کیا گیا ہے، جنہیں طعام وقیام کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 700 ڈالر ماہانہ تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔
رپورٹ کےمطابق ایران کی جانب سے شام بھیجے گئے بیشتر افغان جنگجوئوں کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے اور وہ شام میں فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں۔ ان کی تعداد 2000 سے لے کر 3500 تک ہے۔
Friday, 28 August 2015
پیغمبر اسلام کے بارے میں ایرانی فلم پر تنقید
ایرانی فلم ’محمد‘ نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
اس فلم میں پیغمبر اسلام کے بچپن کی زندگی کو تاریخی حوالوں کے تناظر میں فلم بند کیا گیا ہے۔
تاہم کچھ عرب سنی مذہبی رہنماؤں نے اس فلم پر پابندی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔
جمعرات ستائیس اگست کو ایرانی سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ۔ ماجد ماجدی کی ہدایتکاری میں بنائی گئی اس 171منٹ دورانیے کی فلم پر چالیس ملین ڈالر (چھتیس ملین یورو) کے برابر لاگت آئی ہے۔
بصری حوالوں سے چونکا دینے والی اس فلم کی تیاری کے لیے ایرانی حکومت نے بھی سرمایہ فراہم کیا۔
ایران میں آج تک بنائی جانے والی اس سب سے زیادہ لاگت والی تاریخی فلم کو سات برس کے عرصے میں مکمل کیا گیا۔
ماجد ماجدی کی ہدایتکاری میں بنائی گئی اس 171منٹ دورانیے کی فلم پر چالیس ملین ڈالر کے برابر لاگت آئی ہے۔
رافضی ایجنڈے کا فروغ‘
دوسری طرف کینیڈا کے شہر مونٹریال میں واقع امپیریل سینما، جہاں اس فلم کی نمائش کی جا رہی ہے، کے باہر پچاس مظاہرین نے اس فلم کے خلاف احتجاج بھی کیا۔
تاہم چند تنقیدی حلقوں نے فلم ’محمد‘ پر کچھ اعتراضات بھی کیے ہیں۔
پروگرام کے مطابق تین حصوں پر مشتمل ’محمد‘ نامی اس فلم سیریز کے باقی دو حصے کب فلمائے جائیں گے اور کب وہ سینما گھروں میں نماش کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ مغربی ممالک میں شائع کیے گئے پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں پر ایران کی رافضی حکومت نے بھی سخت احتجاج کیا تھا ۔
لیکن اس فلم کے لیے ایرانی رافضی حکومت نے خود رقم دیے۔
Thursday, 27 August 2015
جیش العدل کے مجاہدین وہ شاہیں ہیں جو پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کرتے ہیں
ہمیں فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اہلسنت جیش العدل میں شامل ہو رہے ہیں
اور سب بہادر ہیں ۔
ان کی رگوں میں اسلام کے خون دوڑتا ہے۔ وہ اپنے مذہب اسلام کے بھی اتنے ہی شیدائی ہیں۔
اپنی روایات اور اصولوں کے بھی پاسدار ہیں۔ نسل در نسل صدی در صدی وہ ایسے نغمے بھی الاپتے آتے ہیں،
جس سے دل گرم رہتے ہیں، حوصلے جوان۔ لہو رگوں میں ہی نہیں دوڑتا پھرتا آنکھوں سے ٹپکتا ہے۔
یہ وہی جواں ہیں، شباب جن کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری۔ یہ وہ شاہیں ہیں جو چٹانوں میں بسیرا کرتے ہیں ۔
بنجر پہاڑوں، سنگلاخ راستوں، کچے مکانوں میں زندگی کی سختیاں جھیلتے کیا سوچ رہے ہیں۔ ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہے۔
جو صدمے وہ جھیل رہے ہیں، ان کے ذہنوں اور ہونٹوں پر جو چنگاریاں سلگ رہی ہیں، ہم ان کی تپش محسوس کر رہے ہیں ۔
وہ جو یہاں آتے ہی نہیں، انہیں کچھ جلنے کی بو کیسے آئے گی۔ یہ دھواں جو دلوں سے اٹھ رہا ہے، انہیں کیسے نظر آئے گا۔
ادبی محفلوں میں، سماجی تقریبوں میں ایک نظم کی سطریں بڑی عقیدت سے سنی جاتی ہیں ۔
”یہ خط ہوا کے دوش پر بھیج رہا ہوں۔ ان بہادروں کے نام جو پہاڑوں پر موجود ہیں۔
ان یتیموں کے نام جن کے باپ شہید کر دیئے گئے۔ دیکھو میری ماں شہیدوں کی خوشبوؤں کے ساتھ بیٹھی ہے۔
بہن شعلوں میں گھری ہوئی ہے۔
کون ہے جو میرے اندر کے دکھ کو محسوس کرے۔ کون ہے جو مجھے نئے اور خوبصورت کپڑے پہنائے۔
کون ہے جو مجھے سینے سے لگائے۔ ایک رات میری ماں نالہ و فریاد کرے گی۔ وقت سدا ایک سا نہیں رہتا۔ شہیدوں کا خون آپ کو آواز دے رہا ہے۔
رگوں میں غیرت ہے تو خوبصورت بیویوں اور نرم بستروں کو چھوڑ دو۔
گندم کی روٹی ترک کر دو، پہاڑوں پر جاؤ، بجری پہ سو جاؤ، پتھروں کو تکیہ بناؤ، بھوکے پیٹ کے ساتھ پہاڑوں پر دن رات گزارو،
شہیدوں کے خون سے اگی جڑی بوٹیوں کو ڈھونڈو،
Subscribe to:
Posts (Atom)









