لبنان میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے حامی اپنے اثرو رسوخ کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری اداروں کو اپنے مذہبی اور مسلکی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے بازنہیں آ رہےہیں۔
حال ہی میں لبنان کی ایک بڑی یونیورٹی کے سائنس کالج کو حزب اللہ سے وابستہ طلباء نے امام بارگاہ میں تبدیل کرتے ہوئے وہاں پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حق میں نعرے بازی کی تھی۔
دو روز قبل لبنانی دارالحکومت بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کےاندر کی ایک فوٹیج بھی منظر عام پرآئی ہے جس میں حزب اللہ کے حامیوں کے ایک گروپ کو ایران کےحق میں نعرے لگاتے دکھایا گیا ہے۔
یوں ہوائی اڈے کا اندرونی منظر بھی ایک امام بارگاہ کا نقشہ پیش کررہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 2 نومبر 2016ء کو جامعہ لبنان کے سائنس کالج کی ویڈیو کے بعد تازہ ویڈیو میں بھی حزب اللہ کے حامیوں کو ایرانی سپریم لیڈر کی حمایت میں نعرہ زن دیکھا جاسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بیروت کے ہوائی اڈے کے’’ڈی پارچر ہال‘‘ میں یہ مذہبی تقریب ایک تنظیم کی جانب سے منعقد کی گئی تھی جو عراق میں اہل تشیع کے مذہبی مراکز بالخصوص کربلا اور نجف کی زیارت کی مہم چلانے میں سرگرم ہے۔
چودہ نومبر کو پیش آنے والے اس واقعے پر لبنان کے عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے حزب اللہ پر اہم نوعیت کے سرکاری مقامات پر متنازع تقریبات منعقد کرنے کی مذمت کی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے کے ایک ہال کو امام بارگاہ میں تبدیل کرکے سرکاری املاک کا ناجائز استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ہوائی اڈے کے ہال کو ایسی عبارتوں اور نعروں سے سجایا گیا ہے گویا نجف کو رفیق حریری ہوائی اڈے پر منتقل کردیا گیا ہو۔

No comments:
Post a Comment