شیعہ ملیشیا مرضی سے تیل نکال کر ایران کو فراہم کرنے میں سرگرم
عراق میں حکومت کی ناک تلے ایران نواز شیعہ عسکری گروپ الحشد الشعبی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایران کو یومیہ 40 ہزار بیرل تیل فراہم کررہی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی حکومت کے ایک ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شمالی عراق میں کئی گیس فیلڈ حشد الشعبی شیعہ ملیشیا کے زیرکنٹرول ہیں جہاں سے یومیہ ہزاروں بیرل تیل نکالا جاتا ہے۔
تیل کی وافر مقدار ایران کو اسمگل کی جا رہی ہے۔ عراقی حکومت کو اس کا علم ہےمگر وہ شیعہ ملیشیا کے سامنے بے بس ہے۔
حکومتی ذریعے نے BasNews ویب پورٹل کو بتایا کہ شمالی عراق کےشہر تکریت اور تکریت طوز خورماتو کے درمیان تیل کے21 کنوئیں حشد الشعبی کے کنٹرول میں ہیں جہاں سے نکالا جانے والا تیل شیعہ ملیشیا ہی کی مرضی سے فروخت کیا جاتا ہے۔
اس میں سے چالیس ہزار بیرل تیل یومیہ ایران کو اسمگل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الحشد الشعبی کے جنگجو تیل کے کنوؤں سے نکالا جانے والا تیل آئل ٹینکروں پر لاد کر صوبہ دیالی اور صلاح الدین سے بندرگاہوں تک پہنچاتے ہیں۔
یہ ٹینکر عراقی فوج اور پولیس کی قائم کردہ چیک پوسٹوں سے گذرکرجاتا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسے بغیر کسی قیمت کے مفت میں ایران کو فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایران کے صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران حکومت یومیہ چالیس لاکھ بیرل تیل برآمد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ تیل کی بین الاقوامی تنظیم میں یہ اس کی برآمد کا قانونی حصہ ہے مگر ایرانی ماہرین کچھ اور کہانی بیان کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی اپنی تیل کی پیداوار تین ملین اور 8 سو بیرل سے زیادہ نہیں ہے۔ ایران کے پاس اضافی تیل کہاں سے آتا ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔
حال ہی میں عراق کے صوبہ صلاح الدین کے گورنر احمد عبداللہ الجبوری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران شمالی عراق کے شہر تکریت میں تیل کے بڑے کنوؤں بالخصوص علاس اور عجیل کے تیل کی حفاظت پر زور دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے سوا کسی بھی تنظیم کو تیل کے کنوؤں کو تصرف میں لانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

No comments:
Post a Comment