Thursday, 24 November 2016

ٹرمپ انتظامیہ کے ذمے داران اور ایرانی کرنسی میں غیر مسبوق گراوٹ

جمعرات کے روز ایرانی ریال کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور ڈالر، تہران اور چھ بڑے ممالک کے درمیان نیوکلیئر معاہدے کے بعد ایرانی بینکوں میں ریکارڈ سطح پر آ گیا۔
کرنسی ماہرین کے نزدیک امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ چند روز کے دوران جن ذمے داران کو اپنی آئندہ حکومت میں شریک کرنے کے واسطے چنا ہے ، نیوکلیئر معاہدے اور تہران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ان ذمے داروں کے بیانات ایرانی ریال کے مقابل امریکی ڈالر کی بلندی کا بنیادی سبب ہے۔
تہران میں جمعرات کے روز بلیک مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت 37470 ایرانی ریال تک پہنچ گئی۔ ایرانی چیمبر آف کامرس کے چیئرمین محسن جلالپور نے توقع ظاہر کی ہے کہ " ملک میں قیمتوں کا ، نیوکلیئر سرگرمیوں کے سبب بین عالمی طاقتوں کی جانب سے تہران پر عائد حصار سے پہلے کی سطح پر آنا ایک فرضی احتمال ہی رہے گا"۔
اگرچہ اقتصادی کارکنان یہ توقع کر رہے تھے کہ تہران اور چھ بڑے ممالک کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے کے ایرانی منڈی پر مثبت اثرات پڑیں گے تاہم ایسا نہیں ہوا۔ بالخصوص ایرانی معیشت بنیادی طور پر بدعنوانی اور بد انتظامی کا شکار ہے۔
ٹرمپ حکومت کے آئندہ اہم مہروں کی جانب سے تشویش ناک بیانات کے سبب ایرانی معیشت بالخصوص ملک میں کرنسی کی صورت حال مزید ابتر ہوئی ہے۔

No comments:

Post a Comment