Sunday, 1 November 2015

ایران مخالف تنظیم 'مجاہدین خلق' کے کیمپ پر حملہ، 23 ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد سے کچھ فاصلے پر واقع ایران مخالف تنظیم مجاھدین خلق کے مرکز پر گذشتہ جمعرات کے روز "کیٹوشیا" راکٹ حملوں کے نتیجے میں تنظیم کے ایم عہدیداروں سمیت 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ مجاھدین خلق نے اس حملے کی منصوبہ بندی کا الزام ایران پرعاید کرتے ہوئے بغداد حکومت کو بھی قصور وار قرار دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مجاھدین خلق کے ترجمان مہدی ابریشمجی نے بغداد میں ایک نیوز کانفرنس کےدوران بتایا کہ بغداد کے نواح میں "لیبرٹی" کیمپ میں جمعرات کو راکٹ حملوں میں کم سے کم 23 افراد مارے گئے ہیں۔ 
ان میں مہدی ابریشمجی کے بھائی اور تنظیم کی سینٹرل کمیٹی کے رکن حسین ابریشمجی بھی شامل ہیں۔
ابریشمجی نے بتایا کہ لیبرٹی کیمپ میں مجاھدین خلق کے کارکنوں اور حامیوں کو 122ملی میٹر دھانے والے کاتیوشا راکٹوں اور روسی ساختہ "بی 24" سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
 بی 24 نامی راکٹ ایران کے پاس بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جنہیں مقامی طور پر "فلق" کا کا نام دیا جاتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مجموعی طور پر 80 راکٹ داغے گئے جس کےنتیجے میں لیبرٹی کیمپ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ 
بغداد کے قریب واقع مجاھدین خلق کے مرکزپر یہ اب تک کا سب سے بڑاخونی حملہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مہدی ابریشمجی کاکہنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے ایرانی حکومت کا ہاتھ ہے جو اپوزیشن کو کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ لیبرٹی کیمپ میں موجود مجاھدین خلق کے تمام ارکان غیر مسلح ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں انتقامی کارروائیوں کا مسلسل نشا بنایا جا رہا ہے۔

No comments:

Post a Comment