Wednesday, 31 October 2018

الجزائر:کتاب میلے میں ایرانی سیکشن بند کر دیا گیا صحابہ کرام کی گستاخی پر مبنی کتب رکھنے کا الزام

افریقی ملک الجزائر میں منعقدہ عالمی کتاب میلےمیں ایرانی سیکشن بند کردیا گیا ہے۔ کتاب میلے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایرانی سیکشن بند کرنے کی وجہ متنازع کتابوں اور لٹریچر کی موجودگی ہے۔
 ایرانی سیکشن میں ایسی کتابیں رکھی گئی تھیں جن میں صحابہ کرام کی شام میں گستاخی کی گئی ہے
العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق بین الاقوامی نوعیت کے اس کتاب میلے میں ایرانی سیکشن جسے "عالمی فورم برائے آل بیت" کا نام دیا گیا تھا کتاب میلے کے قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی اور متنازع کتابیں فروخت کرنے پر بند کیا گیا ہے۔
الجزائرکی وزارت ثقافت کے ایک عہدیدار جمال فوگالی نے کہا کہ کتاب میلے میں ایرانی سیکشن اس لیے بند کیا گیا کیوں اس میں کسٹمز حکام کی طرف سے ممنوعہ عنوانات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میلے میں مختص ایرانی شاخ میں شیعہ نظریات کے فروغ کے حوالے سے ایسی کتابیں شامل کی گئی تھیں جو دوسرے مکاتب فکرکے لیے قابل قبول نہیں۔
 ایران نے کتاب میلے سے فائدہ اٹھا کر الجزائر کے عوام میں نفرت کا زہرپھیلانے کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا۔
الجزائر میں عالمی کتاب میلے میں ایرانی سیکشن کی بندش کی ایک فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے جس میں حکام کو ایرانی ناشرین کو وہاں سے باہر نکالتے اور کتابوں کے اسٹال بند کراتے دکھایا گیا ہے۔
الجزائر میں عالمی کتاب میلے کا انعقاد رواں ہفتے کیاگیا ہے۔
 یہ اپنی نوعیت کا 23 واں عالمی کتاب میلہ ہے۔3 نومبر تک جاری رہنے والے اس میلے میں 47ممالک حصہ لے رہے ہیں۔

Monday, 29 October 2018

ایرانی سرحدی محافظین کی رہائی کیلئے جیش العدل کی شرائط


ایران کے سرحدی محافظین کو اغوا کر نے والی جیش العدل  نے مغوی  اہلکاروں کی رہائی کے لئے اپنے مطالبات پیش کر دئیے ہیں ۔
 جیش العدل کے لیٹر پیڈ پر جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ جیش العدل ہر ایک کو آگاہ کرنا چاہتی ہے کہ 16 اکتوبر کو اغوا کئے گئے ایران کے مشترکہ انقلابی سیکورٹی گارڈز کے بارہ اہلکار ہمارے قبضے میں سلامت اور صحت مند ہیں، اور اُن کے ساتھ حضرت محمد کے اسوہ حسنہ اور قیدیوں کے بارے میں بین الااقوامی کنونشن کے اصولوں کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے ۔
 بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس عمل کے حوالے سے جیش العدل انصاف پر مبنی اپنے چند مطالبات پیش کرتی ہے۔
 ایران کی حکومت جونہی ان مطالبات کو قبول کرے گی، جیش العدل تمام مغویوں کی رہائی کو جلد سے جلد یقینی بنائے گی۔ جیش العدل کی طرف سے انسانی حقوق کی حمایت کر نے والے اداروں باالخصوص ریڈ کر یسنٹ اور ریڈ کراس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے  میں مداخلت کریں اور یہ مسئلہ حل کرنے میں ہماری مدد کر یں ۔
 بیان میں جیش العدل کے مطالبات پیش کر تے ہوئے کہا گیا  ہے کہ ایران کی حکومت اپنی جیلوں میں بڑی تعداد میں بند کئے گئے بیگناہ بلوچ نوجوانوں کو رہا کر دے جن کو ایران کی فورسز نے سرحدی علاقوں میں اپنے خاندان کےلئے دو وقت کی روٹی پیدا کرنے کےلئے محنت مزدوری کے دوران گرفتار کیا ہے جن کے ناموں کا اعلان جیش العدل علحیدہ کر یگی۔
 دوسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ حکومت ، ایران کے شہریوں بالخصوص چھوٹے لسانی گروہوں و اقلیتوں کے ساتھ مبینہ وحشیانہ سلوک بند کر ے ۔
 تیسر ے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ حکومت شیعہ و سنی، فارسی اور دوسرے لسانی گروہوں میں تفریق کر نا ختم کرے   اور پورے ملک میں انصاف کا نظام نا فذ کر دے۔ 
ان محافظین کو سولہ اکتوبر کو پاکستان ایران سرحد ی علاقے لولکدان سے جیش العدل نے اغوا کیا تھا۔  ان میں پاسدارنِ انقلاب کے حساس شعبے کے 2 افسران بھی شامل ہیں ۔
 چند روز قبل ایران کی حکومت کے خلاف بر سر پیکار جیش العدل  نے ایران کے مغوی بارہ سرحدی محافظین کی  تصاویر اور اسلحہ میڈیا  پر جاری کرکے ان کو اغواءکر نے کی ذمہ داری  قبول کر لی تھی ۔

Sunday, 21 October 2018

جیش العدل کے مجاھدین نے زاھدان کے علاقے میرجاوا و لولکدان میں ایک ایرانی فوجی کیمپ کے اسلحے اور فوجیوں کی تصویریں شایع کی .


جیش العدل کے مجاھدین نے زاھدان کے علاقے میرجاوا و لولکدان  میں ایک ایرانی فوجی کیمپ کے اسلحے اور فوجیوں کی تصویریں شایع کی .
جیش العدل کے مجاھدین تمام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ھے کہ جیش العدل کےمجاھدین نے 16/10/2018کو ایرانی کےشہر زاھدان کے علاقےمیرجاوا و لولکدان میں ایک کیمپ پر جدید طریقہ کار سے چھاپہ مارا تھا ان فوجیوں اور سلحوں کے تصویریں ریلیز کئے ہیں .
ان میں ایرانی کمانڈوز فوجیوں کے نام
عباس عابدی
محمد معتمدی سدا
پدارام موسوی
کیانوش بابائی فریدنی حیدری
مھرداد ابان
اور بقایا ان میں چند سپاہء پاسداران کے فوجیوں کے نام
مجیدناروئی 
محمود ھرمزی
رسول ء گمشادزئی 
سعید ریکی
زبیر ریکی 
بھروز ریکی 
عبدالکریم ریکی

Tuesday, 16 October 2018

جیش العدل کے مجاھدین نے زاھدان کے علاقے میرجاوا و تالاب لولک دان میں ایک ایرانی فوجی کیمپ پر چھاپہ مار کر 12 ایرانی فوجیوں کو اسلحہ سمیت اٹھا کر لے گئے.

جیش العدل کے مجاھدین تمام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ھے کہ جیش العدل کےمجاھدین نے کل رات 16/10/2018کو ایران کےشہر زاھدان کے علاقےمیرجاوا تالاب و لولک دان میں ایک کیمپ پر جدید طریقہ کار سے چھاپہ مار کر 12 ایرانی فوجیوں کو اسلحے سمیت صفایا کرکے اپنے ساتھ لے گئے  .
اس کیمپ میں باڈری علاقے کی وجہ سے اس میں سپاہء کے کمانڈو بھی موجود تھے.
ان فوجیوں میں پانچ باسیج فورس اور سات سپاء پاسداران کے افسرز اور کمانڈوز ہیں.
جیش العدل کے مجاھدین نے پہلے ان کے پہرےداروں کو پکڑ کر بغیر کسی گولی چلائے سب کو زندہ پکڑکر لے گئے.
اس کیمپ سے برامد شدہ جدید ترین رات والے دوربینیں اور درجنوں کلاشنیں بمائے میگزینوں کے اور کئی چھوٹے بڑے مشین گنیں اور بہت سے اسلحے جدید جدید اپنے قبضے میں لیے ہیں
الحمدللہ اس کاروائی کے ویڈیو بھی لی گئی ھے . ان شاءاللہ جلد ازجلد شایع کیا جائے گا .
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو سپاہء پاسداران کے قبرستان بنادیںگے ۔ ان شاء اللہ

Wednesday, 5 September 2018

جیش العدل کے مجاھدین نے سراوان کے علاقے کوھک میں ایک ایرانی فوجی افسروں کی خفیہ ٹیم پرحملہ کردیا

جیش العدل کے مجاھدین تمام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ھے کہ جیش العدل کےمجاھدین نے آج ظھر 2018/  09/ 05کو ایرانی کےشہرسراوان کے علاقےکوھک میں گھات لگائے تھے 
ان کو اطلاع ملی تھی کہ تہران سے افسروں کی ایک خفیہ ٹیم یہاں سے گزر رہی ھے . تو جیش العدل کے مجاھد نے ان کے راستے میں گھات لگائے تھے کہ وہ خفیہ ٹیم ٱ پہنچے تو مجاھدین نے ان پر شیدید فائیرنگ کردی ان میں پہلے دو ایرانی افسروں کی لنڈکروزر اور دو ائ لیوکس گاڑی جوکہ خفیہ ٹیم ان پر سوار تھے ناکارہ ھوے 
ان کے ساتھ امدادی تین اور ائی لوکس فوجی گاڑی ٱ پہنچے تو مجاھدین نے ان پر بھی حملے کئے اور ان گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچے. اور ان سوار کئی فوجی ھلاک و زخمی ھوئے.
الحمدللہ اس جھڑپ کے ویڈیو بھی لی گئی ھے . ان شاءاللہ جلد ازجلد شایع کیا جائے گا 
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو سپاہء پاسداران کے قبرستان بنادیںگے ۔ ان شاء اللہ

Tuesday, 4 September 2018

جیش العدل کے مجاھدین نے سرباز کے علاقے جیکیگور میں ایک ایرانی فوجی کیمپ پرحملہ کردیا

جیش العدل کے مجاھدین تمام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ھے کہ جیش العدل کےمجاھدین نے آج عصر 2018/  09/ 04 کو ایرانی کےشہرسرباز کے علاقےجیکیگور کے ایک ایرانی فوجی کیمپ پر حملے کرکے کئی فوجیوں کو ھلاک و زخمی کردیا 
اس جھڑپ میں کئی ایرانی فوجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہچے
ان شاءاللہ انقریب اس جھڑپ کی ویڈیو ریلیز ھوگا
 شکر الحمد للہ جیش العدل کے مجاھدین بحفاظت اپنے کیمپ میں پہنچ گئے ۔ 
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو سپاہء پاسداران کے قبرستان بنادیںگے ۔ ان شاء اللہ

Monday, 3 September 2018

تہران بلدیہ نے کوڑا جمع کرنے والے بچے کا کان کاٹ ڈالا

ایران کے ذرائع ابلاغ کے مطابق سوموار کے روز تہران بلدیہ کے اہلکاروں نے ایک بچے کا محض اس لیے کان کاٹ ڈالا کہ وہ اپنا پیٹ پالنے کے لیے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سےکارآمد چیزیں ڈھونڈھ کر انہیں فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’ارنا‘ کے مطابق تہران بلدیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بلدیہ کے اہلکاروں نے کوڑے کے ڈھیر پر کوڑا کرکٹ جمع کرنے والے بچے کا کان کاٹ دیا تھا۔ 
بیان میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ بچے کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کی جاسکیں۔
تہران بلدیہ کے سروسز کے معاون عدالت امیری زادہ نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بچے کے کان کاٹے جانے کی فوٹیج سامنے آئی ہے مگر اس حوالے سے کسی شہری نے تا حال کوئی شکایت درج نہیں کرائی۔
 ہم متاثرہ بچے کی تلاش میں ہیں تاکہ اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی تحقیقات کی جاسکیں۔
ادھر ایران میں سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں کان کٹے بچے کو دکھایا گیا ہے۔
 انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بچے کو تہران بلدیہ کے اہلکاروں نے کوڑا کرکٹ جمع کرنے سے روکنے کے لئے اس کا ایک کان کاٹ ڈالا۔
کوڑا کرکٹ جمع کرنے والے بچے کا کان کاٹے جانے کے خلاف عوامی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
 شہریوں نے واقعے کی فوری انکوائری اور اس میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔