Sunday, 4 October 2015

سعودی مبلغین کی شامی جنگ میں شرکت کی اپیل


شام میں صدر بشارالاسد اور روسی فوج کے خلاف لڑائی پر اکسانے والے 52 سخت گیر سعودی مبلغین اور علماء نے شام میں جنگ کے لیے "نفیر"عام کا اعلان کرتے ہوئے مسلمان شہریوں سے روسی افواج کے خلاف 'جہاد' میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں روسی فوج اور شامی صدر بشارالاسد کے خلاف لڑائی پر اکسانے والے 52 علماء اور مبلغین نے انٹرنیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا ہے کہ "شام کا میدان جنگ سعودی شہریوں کو جہاد کے لیے پکار رہا ہے۔ تمام مسلمانوں بالخصوص سعودی شہریوں کا فرض ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلیں اور شام میں داخل ہونے والی روسی افواج کے خلاف اورعسکری تنظیموں کے شانہ بہ شانہ 'جہاد' میں حصہ لینے کے لیے سر زمین شام میں پہنچیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام شہری جو شام میں پہنچ کر 'جہاد' میں حصہ لینے کی طاقت رکھتے ہیں آج ہی سےشام کے لیے رخت سفر باندھیں۔
 جو قوم جہاد کا راستہ ترک کر دیتی ہے اللہ اس پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دیتا ہے۔ اس لیے آگے بڑھو، اپنے اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرو۔
 اللہ تمہاری، تمام مسلمانوں اور تمہاری پشتیبانی کرنے والوں کو فتح و کامرانی عطا کرے گا۔ بلا شبہ فتح عنقریب ملنے والی ہے۔

بھگدڑ کا واقعہ ایران کی منظم سازش ہے: منحرف سابق ایرانی سفارت کار


ایران کے ایک منحرف سابق سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ حج کے دوران منٰی کے مقام پر حجاج کرام میں بھگدڑ کا حادثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے چھ اہم افسروں کی کارستانی ہے۔
 سابق ایرانی سفارت کار نے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب منیٰ حادثے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سخت تنائو پایا جا رہا ہے۔
 ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھگدڑ حادثے میں سعودی عرب کی حکومت کو براہ راست قصوروار قرار دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے منحرف سفارت کار "فرزاد فرہنکیان" نے عربی بلاگ میں کہا ہے کہ "میں نے حج کے مناسک شروع ہونے سے قبل خبردار کیا تھا کہ خامنہ ای رجیم حج کے موقع پر دہشت گردی کی سازش کر سکتی ہے۔ میں نے جس دہشت گردی اور ان کے اسباب کی نشاندہی کی تھی۔
 وہ ایسے ہی وقوع پذیر ہوئی۔
خیال رہے کہ سابق سفارت کار فرہنکیان ایرانی وزارت خارجہ میں ایڈوائزر کے عہدے سے ترقی پاتے ہوئے دبئی، بغداد، مراکش اور یمن میں ایران کے نمائندہ سفارت خانوں میں بطور سفارت کا خدمات انجام دے چکا ہے۔
 وہ بیلجیئم میں ایرانی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔
فرہنکیان کا کہنا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ کا واقعہ ایک منظم اور طے شدہ دہشت گردی کا نتیجہ ہے اور اس سازش میں ایرانی حکومت براہ راست ملوث ہے کیونکہ یرانی حجاج کرام میں پاسداران انقلاب کے پانچ ہزار اہلکار شریک تھے۔ 
ان کا منصوبہ حج کے موقع پر بڑے پیمانے پر نظمی پھیلانا حجاج کا غیر معمولی جانی نقصان کرنا تھا تاہم سعودی عرب کی بر وقت اور تیز ترین خدمات نے سازش ناکام بنا دی۔
حادثے میں ملوث ایرانی افسران
ایران کے منحرف سفارت کار نے اپنے بلاگ میں نہ صرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ منیٰ کا حادثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کی سازش ہے بلکہ ان چھ اہم فوجی افسروں کے نام اور تفصیلات بھی جاری کی ہیں جو مبینہ طور پر اس سازش کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کے نام درج ذیل ہیں۔
1۔ عادل السید جواد موسیٰ [باسیج ملیشیا کے عاشوراء بریگیڈ کے سربراہ]
2۔ عبدالباری مصطفیٰ بختی ۔ شمالی تہران میں قصر سعد آباد کی جامعہ الامام میں قائم ٹریننگ سینٹر کے سربراہ۔
3۔ مصطفیٰ نعیم عبدالباری رضوی
4۔ محمد سید عبداللہ محمد باقر
5۔ سالم صباح عاشور
6 کاظم عبدالزاھراء خرد مندان
فرہنکیان کا کہنا ہے کہ متذکرہ تمام افسران پاسداران انقلاب کی یونٹ 400 کے سینئر افسر ہیں۔ یہ ایک اسپیشل یونٹ ہے جو مرشد اعلیٰ کے دفتر کی براہ راست نگرانی اور بیرون ملک سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کرتی ہے۔
مبصرین کے خیال میں منیٰ میں حادثے کے مقام پر ایرانی فوجیوں ، سیاسی اور عسکری قائدین کی موجودگی نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
 خاص طور پر حجاج کی صفوں میں شامل ہونے والے سابق سفارت کار غضنفر رکن آبادی جو اپنے اصلی نام کے بجائے فرضی نام سے حجاج میں شامل ہوئے تھے۔

Saturday, 3 October 2015

مجاھدین جیش العدل کے تصویریں



























ایرانی سفارت کار حجاج کی صفوں میں کیا کررہے تھے

سعودی_عرب میں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر بھگدڑ کے نتیجے میں سیکڑوں حجاج کرام کی شہادت کے واقعے کے بعد یہ انکشاف ہواہے کہ حادثے میں کئی ایرانی سفارت کار بھی مارے گئے ہیں اور بعض تا حال لاپتا ہے۔
 یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران کے سابق سفارت کار واقعی حج کی غرض سے حجاز مقدس پہنچے تھے یا ان کی آمد کے کوئی دیگر خفیہ مقاصد تھے؟
 تاہم ایران نے تسلیم کیا ہے کہ منیٰ حادثے میں اس کے چار سفارت کار جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان میں لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضفر رکن آبادی، وزارت خارجہ کے نمائندہ گیسٹ ہائوس و پروٹوکول شعبے کے معاون احمد فھیما، جمہوریہ ترکمانستان میں ایران کے سابق قونصل جنرل حسن حسینی اور سلوینیا میں سابق ایرانی سفیر محمد رحیم آئی شامل ہیں۔
منیٰ حادثے میں بیجنگ میں ایران کے ساتھ سفیر مہدی صفری زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حج کے لیے گئے  پاسداران_انقلاب کے کئی افسر تاحال لاپتا ہیں۔
 پاسداران انقلاب کے لاپتا افسران میں علی فولادگر، حسن دانش، فواد مشغلی، عمار میر انصاری اور حسن حسینی شامل ہیں۔ یہ تمام عہدیدار ایرانی حج کمیشن سے وابستہ تھے۔
حجاج کرام میں ان ایرانی عہدیداروں کی موجودگی نے کئی شبہات اور سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ مبصرین یہ سوال اٹھانے پرمجبورہیں کہ آیا ایران کی جانب سے ایسے سینیر افسروں کی موجودگی کے بارے میں سعودی حکومت کو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔
 کیا ایران نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ حج کے دوران پیش آنے والے کسی بھی سانحے کو سیاسی رنگ دیا جاسکے۔
ایرانی حکام کے متضاد دعوے
منیٰ میں بھگدڑ حادثے کے دوران جاں بحق اور لاپتا ہونے والے ایرانی شہریوں کے حوالے سے تہران حکومت کی طرف سے متضاد قسم کے دعوے سامنے آرہے ہیں۔
 بعض ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا ایرانی سفارت کاروں کو اغواء کیا گیا۔
 کچھ کا دعویٰ ہے کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے جب ایک گروپ کا یہ کہنا ہے کہ حج پرآئے سفارت کاروں کو سعودی پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے۔
 یہ تمام دعوے اپنی اپنی جگہ موجود ہیں مگر کوئی ایرانی عہدیدار اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے دلیل دینے سے قاصر ہے۔

Wednesday, 30 September 2015

ایران کی کشتی کے ذریعے اسلحہ اسمگل کرنے کی سازش ناکام




عرب فورسز نے اومان کی حدود میں اسلحے سے لدی کشتی پکڑلی ،15 سیلرز گرفتار
عرب اتحاد کی مسلح افواج نے بدھ کے روز بحیرہ عرب میں سلطنت آف اومان کی بندرگاہ صلالہ کے نزدیک اسلحے سے بھری ایک کشتی پکڑنے کی اطلاع دی ہے۔
العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق عرب اتحاد کی فورسز نے گذشتہ ہفتے کوعید الاضحیٰ کے تیسرے روز اومان کی ساحلی حدود میں ایران کی اسلحہ اسمگل کرنے کی یہ سازش ناکام بنائی ہے۔
اس کشتی کو بحیرہ عرب میں روک کر چیک کیا گیا تو اس پر راکٹ اور میزائل لدے ہوئے تھے۔کشتی پر لدے ہوئے اسلحہ میں 18 کونکورس شیل ،54 ٹینک شکن میزائل ،15 بیٹری کٹس ،ہتھیاروں کا گائیڈنس نظام اور دوسرا گولہ بارود شامل تھا۔عرب اتحادی فورسز نے کشتی پر سوار چودہ سیلروں کو بھی گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کشتی سے برآمد کی گئی دستاویزات کے مطابق اس کو ایک ایرانی شہری کے نام پر رجسٹر کیا گیا تھا۔ان سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ یہ کشتی ماہی گیری کے مقاصد کے لیے تیار کی گئی تھی۔
فوری طور پر اس کی منزل مقصود کے بارے میں پتا نہیں چل سکا ہے۔

Sunday, 27 September 2015

ایران تھران میں کرین گرنے کا حادثہ






ایران تھران میں کرین گرنے کا حادثہ
27-09-2015
اللہ اکبر
اللہ سبحان وتعالی بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
کچھ روز پہلے مکۃ مکرمۃ میں کریں گرنے کا واقعہ ہوا جس سے دشمن اسلام نے خوشی کا اظھار کیا خاص طور پر  روافض نے  سعودیہ عرب کے خلاف زبان دراز کرنے لگ گئے تھے
اور آج سبحان اللہ کیا ہوا؟
ایران کے شہر تھران میں کرین گرنے کا حادثہ پیش آیا جس سے کافی لوگ زخمی ہوئے اور بعض لوگ مر بھی گئے۔ لیکن ایرانی میڈیا اس پر خاموش ہے۔