Sunday, 24 June 2018

امریکی ڈالر ایرانی کرنسی کے مقابلے میں 40 سال کی بلند ترین سطح پر

امریکا کی جانب سے ایران پر عاید کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی کرنسی تیزی کے ساتھ روبہ زوال ہے۔
 ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سےکرنسی کی قدر بچانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ایرانی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 40 سال کی نچلی ترین سطح پرآگئی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز ایرانی منڈی میں ایک امریکی ڈالر 87 ہزار ایرانی ریال میں فروخت ہوتا رہا۔
ایران کی قومی سلامتی کے قریب سمجھی جانے والی’تسنیم‘ نیوز ایجنسی نے اتوارکے روز اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر حسن روحانی کی قیادت میں قائم حکومت نے ایرانی ریال کی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں قیمت کے بارے میں معلومات مخفی رکھنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔
 حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی کرنسی کی مسلسل گرتی قیمت کی خبریں منظر عام پرآنے سے کرنسی کی قیمت میں مزید کمی آئے گی۔
غیرملکی کرنسیوں کے حوالے سےمعلومات شائع کرنے والی ویب سائیٹ Bonbast. Com کے مطابق گذشتہ روز ایک ڈالر کے مقابلے میں 87 ہزار ایرانی ریال وصول کیے جاتے رہے جب کہ گذشتہ جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت 75 ہزار 500 تھی۔
 گذشتہ روز یہ قیمت 87 ہزار ریال تک کا پہنچی جو 40 سال کی نچلی ترین سطح ہے۔

Saturday, 23 June 2018

مہنگائی‘ کے خلاف آواز اٹھانے والے ایرانی طلباء کو کڑی سزائیں

ایران میں مہنگائی اور معاشی استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے والے طلباء کو نام نہاد انقلاب عدالتوں کی جانب سے کڑی سزائیں دی جا رہی ہیں اور انہیں قید وبند میں ڈال کرحکومتی ناکامیوں پرعوام کا منہ بند کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایران کی ایک عدالت نے مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانے والے جامعات اور اسکولوں کے طلباء کی بڑی تعداد کو جیلوں میں ڈالنے کا حکم دیا۔
 ان میں سے بعض کو آٹھ سے دس سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ سزا پانے والوں میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔
ایرانی صدر کی خاتون مشیرہ برائے شہری حقوق شھیندخت مولا وری نے شکایت کی ہے کہ حکومت کو علم ہے کہ عدالت نے جامعات کے طلباء کو مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرنے پر کڑی سزائیں دینا شروع کی ہیں۔
ایک بیان میں شھیندخت مولا وری نے کہا کہ حکومت طلباء کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔
 ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو طلباء کو دی جانے والی سزاؤں کا علم ہے اور اب ہم ان کے کیسز کی پیروی کررہےہیں تاکہ سزاؤں پر نظر ثانی کرائی جاسکے۔
خیال رہے کہ ایران میں دسمبر 2017ء کو ملک گیر احتجاج کی ایک لہر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ’مہنگائی نا منظور‘ کے نعرے کے ساتھ اٹھنے والی اس تحریک نے 100 شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
 ایرانی رجیم نے عوامی احتجاج کچلنے کے لیے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا اور بڑی تعداد میں شہریوں جن میں طلباء بھی شامل تھے کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان کے خلاف عدالتوں میں ریاست کے خلاف کام کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے گئے۔

ٹو میزائل کی تربیت دینے کا ماہر ایرانی جنرل شام میں ہلاک

ایران کے سرکاری میڈیا نے شام کے شمال مغربی صوبے حلب میں تعینات ایک ایرانی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل شاہ رُخ دائی پور کی عراق کی سرحد کے نزدیک جنوب مشرقی علاقے میں ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نے ہفتے کی روز اطلاع دی ہے کہ جنرل شاہ رُخ جمعہ کو شام کے جنوب مشرقی قصبے البو کمال میں مارے گئے ہیں لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔
مقتول جنرل نے 1980ء کے عشرے میں ایران اور عراق کے درمیان لڑی گئی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔
فارس کے مطابق جنرل شاہ رُخ ٹو میزائلوں اور ٹینک شکن میزائلوں کے استعمال اور تربیت دینے کے ماہر تھے۔
 وہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو بھی گذشتہ برسوں کے دوران میں تربیت دیتے رہے تھے۔انھیں ایران کے صوبے کرمان شاہ سے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑائی میں حصہ لینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
البوکمال کے محاذ پر لڑائی میں ان کے علاوہ پندرہ اور ایرانی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں زیادہ تر کا تعلق پاسداران انقلاب اور بسیج ملیشیا سے ہے ۔
فارس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنرل شاہ رُخ  جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں ہلاکت ہوئی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر ایرانی کارکنان نے کہا ہے کہ جنرل دائی پور عراق اور شام کے درمیان واقع سرحد ی علاقے پر اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔
اسرائیلی طیارے نے پاسداران انقلاب ، افغان اور ایرانی ملیشیا کے ٹھکانوں کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔
ایرانی فورسز سنہ 2015ء سے ایرانی، عراقی اور عراقی ،شامی سرحد پر تعینات ہیں تاکہ تہران اور بغداد کے درمیان زمینی گذرگاہ کو محفوظ بنایا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر کارکنان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دورا ن میں پاسدارانِ انقلاب ایران کے بیسیوں فوجی اسرائیل کے فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں جبکہ ایرانی رجیم نے ان ہلاکتوں کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔
 بین الاقوامی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے بھی شام میں پاسداران انقلاب اور اس کی حامی ملیشیاؤ ں پر فضائی حملے کیے ہیں ۔
امریکا کی قیادت میں اس اتحاد نے روس کے شام سے تمام غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے مطالبے کے بعد سے حملے تیز کررکھے ہیں ۔
 رو س کے اب ایران سے شام میں غیرملکی فوجیوں اور ملیشیاؤں کی موجودگی کے مسئلے پر گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

Friday, 22 June 2018

اپنی قوم پر مظالم اور دہشت گردی کی معاون ایرانی رجیم ’مُجرم‘ ہے: پومپیو

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایرانی رجیم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’مجرم‘ قرار دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ متعدد ٹویٹس میں امریکی وزیرخارجہ نے لکھا ہے کہ ایرانی رجیم اپنی قوم پرمظالم ڈھار رہی ہے۔ 
عوام پر غربت اور پسماندگی مسلط کی گئی جبکہ قومی وسائل کو دہشت گردی کی معاونت پر صرف کیا جا رہا ہے۔
ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ رواں سال جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی رجیم نے 5000 شہریوں کو پابند سلاسل کیا۔ 30 خواتین کو حجاب کی مخالفت پر گرفتار کیا گیا جب کہ سیکڑوں صوفی درویشوں کوگرفتار کرکے پابند سلاسل کیا گیا۔
 صوبہ اھواز کے 400 باشندوں کو گرفتار اور اصفہان شہر کے 30کسانوں کو اپنے حقوق مانگنے کی پاداش میں جیلوں میں ڈالا گیا۔
ایک دوسری ٹویٹ میں امریکی وزیر خارجہ نے پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم’فیلق القدس‘ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر پوسٹ کی اور ساتھ ہی لکھا کہ ایرانی رجیم کرپٹ ہے جو قوم کے وسائل کو حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی معاونت پر صرف کرتی ہے۔
 ایرانی عوام بھوک سے مررہے ہیں جب کہ ان کے وسائل کو بیرون ملک جنگوں پر صرف کیا جاتا ہے۔
مائیک پومپیو نے ایک دوسری ٹویٹ میں ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی ایک تصویر پوسٹ کی اور ساتھ ہی لکھا کہ ایران میں 30 فی صد نوجوان بے رزگار ہیں۔

Wednesday, 20 June 2018

بلوچ عورتوں کی آبرو ریزی کے خلاف ایرانی خواتین کا شدید احتجاج

ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان میں باسیج ملیشیا سے وابستہ اہلکاروں کے ہاتھوں 41 بلوچ عورتوں کی مبینہ آبرو ریزی کے واقعے کے بعد 
ملک بھر بالخصوص صوبہ بلوچستان میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اکتالیس خواتین کی عصمت ریزی کے واقعے کے خلاف سیستان بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت ایرانشھر میں گورنر ہاؤس کے باہر سیکڑوں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرہ کرنے والی خواتین نے آبرو ریزی کے مجرم کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرنے اور اسے عبرت ناک سزا اور اس واقعے کی جامع اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئےکہا کہ اس میں ملوث دیگر عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ادھر ایرانشھر کے ایک مقامی امام مسجد اور سرکاری خطیب محمد طیب ملا زھی نے بتایا کہ مبینہ طور پر اکتالیس خواتین کی آبرو ریزی کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
 عید کے اجتماع سے خطاب میں ملازھی نے کہا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے درجنوں خواتین کی عصمت دری کے واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
 اطلاعات کے مطابق ایرانی صوبہ بلوچستان میں پیش آنے والے اس واقعے نے عوام وخواص کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
 باسیج فورس کے اہلکار پر الزام ہے کہ وہ سرکاری اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے خواتین کی یکے بعد دیگرے آبرو ریزی کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب ایرانی پراسیکیوٹر جنرل نے ملزم کی گرفتاری کی خبر مشتہر کرنے پر ایرانشھر کے امام مسجد کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ فی الحال تمام تفصیلات صیغہ راز میں ہیں اور تحقیقات جاری ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان میں اہل سنت مسلک کے مذہبی رہ نما الشیخ عبدالحمید اسماعیل زھی نے متاثرہ خواتین اور ان کے اہل خانہ سے کہا ہے کہ وہ عصمت ریزی کے مرتکب شخص کے خلاف عدالتوں میں شکایات درج کرائیں۔
خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے معاشی استحصال زدہ صوبے کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ عصمت ریزی کے واقعے کی بناء پر اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔
ایران کی ایک دوسری خبر رساں ایجنسی ’ایلنا‘ کے مطابق آبرو ریزی کے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
درایں اثناء ایرانی پارلیمنٹ میں خواتین سے متعلق کمیٹی کی چیئرپرسن طیبہ سیاوشی نے کہا ہے کہ ذرائع سے پتا چلا ہے کہ آبرو ریزی کا ملزم ایک با اثر شخص ہے اور اسے اعلیٰ حکام کی حمایت حاصل ہے۔
واقعے کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ملزم کے خلاف سخت غم وغصے اور سنگین جرم کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Tuesday, 19 June 2018

مہنگائی کے خلاف ایرانی عوام ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے

ایرانی فوج اورپولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کے باوجود ہزاروں افراد ایک بار پھر مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پرآگئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنا شروع کی ہیں۔
دارالحکومت تہران میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔ شاہراہ سپہ سالار میں نکالے جانے والے اس جلوس میں مظاہرین نے حکومت کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے کاروباری برادری پر بھی زور دیا کہ وہ احتجاج میں ان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں۔
ایک فوٹیج میں مظاہرین کو ایرانی رجیم کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ مظاہرین سخت مشتعل اور غصے میں ہیں اور وہ ’مہنگائی نہیں چاہیے۔ نا اہل حکومت گھر جائے اور ظلم کرنے والے حکومت عہدیداروں کو کٹہرے میں لایا جائے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
اس موقع پر مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ حکومت امریکا کی نہیں بلکہ ہم عوام کی دشمن ہے۔
 مظاہرین نے ملک میں جاری موجودہ مالی اور معاشی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کا ذمہ داری امریکا کے بجائے براہ راست ایرانی حکومت کو ٹھہرایا۔
مظاہرین سےخطاب کرئے مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع کرے۔
 ان کا کہنا تھا کہ حکومت امریکی پابندیوں کے پیچھے چھپ کر عوام کا استحصال جاری نہیں رکھ سکتی۔

Monday, 18 June 2018

جیش العدل نے یرغمال ایرانی فوجی اہلکار کی ویڈیو جاری کر دی

ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں سرگرم ’جیش العدل‘ نے یرغمال بنائے گئے ایک ایرانی فوجی کے ایک اہلکار کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں اسے بقید حیات اور صحت مند دکھایا گیا ہے۔
 جیش العدل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوجی سعید براتی کو 26 اپریل 2017ء کو میر جاوہ نامی علاقے سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد یرغمال بنایا گیا تھا۔
 یرغمال بنائے جانے کے وقت فوجی اہلکار زخمی تھا اور بعد ازاں اس کے دوران قیدمیں انتقال کر جانے کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔
تاہم ’جیش العدل‘ نے ویڈیو جاری کرکے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یرغمال ایرانی فوجی اہلکار بقید حیات ہے۔
جیش العدل کی طرف سے یرغمال ایرانی فوجی اہلکار کی ویڈیو جاری کی ہے تاہم اس کی رہائی کے بدلے میں اپنا کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا۔
خیال رہے کہ سعید براتی کوجیش العدل نے 26 اپریل 2017ء کو میر جاوہ کے مقام سے اغوا بنایا تھا۔ 
اس موقع پر جھڑپ میں ایران کی سرحدی فورس کے 11 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔