Sunday, 16 August 2015

ملت مظلوم اہل سنت عوام کو اطلاع دیجاتی ہیکہ مختلف ناموں سے فیس بوک آئ ڈیز اور مختلف پیج جیش العدل کے نام پر چل رہے ہیں۔


ہم واضح کرنا چاہتے ہیں ان آئ ڈیز سے جیش العدل کا کوئ تعلق نہیں۔

جیش العدل ایرانی  بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں کو اپنا مسکن بنائے ظالم وڈکٹیٹر مذہبی ایرانی حکومت کے خلاف نبرد آزما ہے۔
 جیش العدل کا واحد اساسی ہدف ظالم'مذہبی شدت پسند  نظام حکومت کا خاتمہ ہے۔ اسکے علاوہ جیش العدل کا کوئ ہدف نہیں۔
ان شاء اللہ جیش العدل ایرانی  بلوچستان کے پہاڑوں کو اپنا مورچہ برقرار رکھتے ہوئے اس ہدف کے حصول کے لئے ہرممکن جدوجہد بروئے کار لائے گی۔
اہل سنت عوام مختلف آئ ڈیز کے پروپیگنڈے سے ہرگز متاثر نہ ہوں۔
 یہ آئ ڈیز دشمن کی بنائ ہوئ ہیں۔جو بظاہر اپنا بن کر عوام کے ذہنوں کو خراب کرتے ہیں۔
 یاسر ریگی ایرانی انٹلیجنس کا بندہ ہے ۔
 نیز واضح رہیکہ یاسر ریگی نامی آئ ڈی کا بھی تنظیم کے کسی فرد سے تعلق نہیں ہے

Saturday, 15 August 2015

ایرانی سیکورٹی فورس مرصاد کے ہاتھوں دو اہل سنت جوانوں کی شہادت۔



ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر نیکشہر میں ایرانی سیکورٹی فورسز کی 
بلا اشتعال مقامی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں دو اہل سنت نوجوان شہید ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق نیک شہر کے علاقے شگیم میں گزشتہ روز مرصاد کی وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے دو بلوچ نوجوان بنام الیاس اسماعیل زہی اور داؤد شہ بخش شہید ہوگئے۔

Saturday, 8 August 2015

ایران کے وہ مضبوط باڈر جو کہ پرندہ بھی پار نہیں ھو سکتا



ایران کے سپاہ قدس میں شامل ھونے والے غیرملکی لوگوں کو کس طرح آزادی سے ایران میں لے جاتے ہیں ۔ 
یہ وہی لوگ ہیں جو ایران میں جانے ہیں اور سپاہ قدس میں شامل ھوکر ٹریننگ کر کے پھر ان کو دوسرے ملکوں میں انتشار پہلانے کے لیے بھیجتے ہیں ۔
 اس ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے ایرانی گاڑیاں قطار میں کھڑے ہیں اور روڑ پر سرعام آواز لگا رہے ہیں ۔  
















Tuesday, 4 August 2015

ایران کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان پر گولا باری



ایران کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کے شہر پنجگور کے علاقے کوھک اور آسکان کے گاوں پر 2015 ۔ 08 ۔ 03 کو گولا باری کی جس سے گاوں کے لوگوں میں خوف پہل گہی ہے ۔
  ان گولا باری سے کسی طرح کی جانی و مالی نقصان نہیں ھوی ہے ۔ 2 ھفتے میں یہ دوسرا باری ہے  کہ ایرانی سپاہ پاسداران کی جانب سے پاکستانی آبادیوں پر گولے برسا رہیں ہیں ۔
یاد رہے کہ جیش العدل کے مجاھدین نے انہی 2 ھفتوں میں ایران کے کہی رافضی فوجیوں کو ہلاک و زخمی کیے ہیں  






Sunday, 2 August 2015

جیش العدل کے مجاھدین نے کل رات ایران میں ایک اور کامیاب کاروای کی


جیش العدل کے مجاھدین نے کل رات  2015 ۔ 08 ۔ 01 کو ایران کے شہر سراوان کے علاقے آسکان کے ایک فوجی کیمپ کے 2 رافضی فوجی گارڈ کو سنیپر سے نشانا بنایا .
 جس سے ایران کے ایک فوجی گارڈ ہلاک  اور ایک زخمی ھوے ۔
 الحمدللہ جیش العدل کے مجاھدین بحفاظت اپنے کیمپ میں پہنچ گہے  

Friday, 31 July 2015

ایران میں کوئی سُنی گورنر یا وزیر کیوں نہیں؟


ایران کے صدر حسن روحانی کو حال ہی میں کُرد سنی اکثریتی صوبہ کردستان کے دورے کے دوران ایک غیر متوقع سوال کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے بلکہ الٹا سوال کرنے والے کو ڈانٹ پلادی۔
 ایک مقامی صحافی نے ان سے پوچھا کہ "آخر کیا وجہ ہے کہ ایران میں یہودی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں مگر کوئی سنی مسلمان وزیر یا کسی صوبے کا گورنر کیوں نہیں بن سکتا؟"
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر حسن روحانی صحافی کے اس غیر متوقع سوال پر کچھ پریشان ہوئے لیکن انہوں نے فورا صحافی کو یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ "میری حکومت شیعہ سنی میں کوئی فرق نہیں کرتی"۔
خیا ل رہے کہ ایران میں اہل سُنت والجماعت مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی تعداد 20 سے 25 فی صد کے درمیان ہے۔
 سنی آبادی کی اکثریت کردستان، پاکستان سے متصل صوبہ سیستان بلوچستان اور ساحلی چولستان میں آباد ہے جب کہ اقلیت کی شکل میں مغربی صوبہ آھواز اور خراسان میں بھی موجود ہے۔
ایرانی صدر نے کُرد صحافی کے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا کہ "ایران میں کوئی سنی وزیر یا گورنر کیوں نہیں بن سکتا؟۔
 تاہم انہوں نے سوال کرنے والے کو ڈانٹ ضرور پلائی اور کہا کہ ان کی حکومت میں شیعہ مسلمانوں کو سنی مسلمانوں پر کسی قسم کی ترجیح حاصل نہیں ہے۔
 انہوں نے کہا کہ "آپ کی بات حیران کن اور باعث تعجب ہے۔ 
آپ کا سوال ایسا کہ اس کا کوئی جواب نہیں کیونکہ ہم یہاں تفرقہ بازی پر بحث کے لیے نہیں آئے ہیں۔ 
عموماً حسن روحانی کو ایران کے اعتدال پسند، کم گو اور غیر جذباتی صدور میں 
شمار کیا جاتا ہے مگر وہ کرد صحافی کے سوال پر سخت جذباتی دکھائی دیے۔ 
 تاہم ایک ایرانی تجزیہ نگار جلال جلالی زادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ 
میں ایک سنی بھی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں اور نہ ہی کوئی سنی سفیر موجود ہے۔  پچھلے چھتیس سال میں ایران میں کسی سنی مسلمان کو وزارت کا قلم دان نہیں سونپا گیا۔

تہران میں مسجد کی مسماری غیر اسلامی طرز عمل ہے: مریم رجوی


ایران میں حال ہی میں دارالحکومت تہران کی بلدیہ میں واقع اہل سُنت کی اکلوتی مسجد کو شہید کیے جانے کے واقعے کے بعد اندرون اور بیرون ملک سے اس پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔
 ایران میں ولایت فقیہ پر مشتمل سیاسی ومذہبی نظام حکومت کی سخت مخالف تنظیم "مجاھدین خلق" کی خاتون سربراہ مریم رجوی نے مسجد کی مسماری کی شدید 
مذمت کرتے ہوئے اسے 'غیر اسلامی' طرز عمل قرار دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں مریم رجوی کا کہنا تھا کہ "تہران میں بونک کے مقام پر اہل سنت مسلک کی مسجد کو مسمار کرنا ایرانی حکومت کی مجرمانہ پالیسی، فرقہ واریت اور اہل سنت کے ساتھ نفرت کا واضح ثبوت ہے۔ 
یہ کیسے مذہبی ہیں جو اپنے مزاروں کو بھی کعبے کا درجہ دیتے ہیں اور مخالف مسلک کی ایک مسجد بھی انہیں برداشت نہیں ہے۔"
 ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکومت تمام مذاہب اور مسالک کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی فراہم کرنے کی دعوے دار ہے تو اسے اہل سنت سے نفرت کیوں ہے اور مساجد کو کیوں کر مسمار کیا جا رہا ہے؟
مریم رجوی نے عالمی برادری، یورپی یونین، امریکا اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ آزادی اظہار رائے کی خاطر ایران میں مساجد کی شہادت کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایرانی حکومت کو اہل سنت مسلک کو دیوار 
سے لگانے کی پالیسیاں بند کرائیں۔
خیال رہے کہ ایران کی بلدیہ کے زیر اہتمام 29 جولائی کو علی الصباح ایک کارروائی میں ایرانی پولیس اور بلدیہ اہلکاروں نے بونک کے مقام پر واقع جامع مسجد شہید کردی تھی۔ 
یہ مسجد ماضی میں بھی ایرانی حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرتی رہی ہے اور متعدد بار اس میں سنی مسلمانوں کے نماز ادا کرنے پر پابندی عاید کی جاتی رہی ہے۔
اس کارروائی کے رد عمل میں مریم رجوی کا کہنا تھا "ایران میں شیعہ ملائوں کی حکومت اہل سنت مسلک کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کررہی ہے۔
 یہ ایک جابرانہ اور ظالمانہ پالیسی ہے جس کےتحت ملک سے اہل سنت کا نام ونشان مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔"
واضح رہے کہ مجاھدین خلق ایران کی اندرون اور بیرون ملک ایک بڑی جماعت سمجھی جاتی ہے جو ایران میں ولایت فقیہ کی سخت ناقد ہے۔ 
ایران میں اس تنظیم پر سنہ 1985ء کے بعد سے پابندی عاید ہے اور اس سے وابستہ بیشتر افراد کو قتل یا گرفتار کیا جا چکا ہے۔
 مریم رجوی خود فرانس میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہی ہیں۔