Friday, 31 August 2018

جیش العدل کے مجاھدین نے سراوان کے علاقے میں دو ایرانی فوجیوں کو ھلاک اور ایک ڈرون کیمرہ کو مار گرایا



جیش العدل کے مجاھدین تمام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ھے کہ جیش العدل کےمجاھدین نے کل رات  2018 / 08 / 30 کو ایرانی کےشہرسراوان کے  علاقے کوھک کے ایک ایرانی فوجی کیمپ پرحملہ کرکے دو فوجی افسروں کو جیش العدل کے نشانہ بازوں نے سنیپر سے نشانہ کرکے ھلاک کردیا .
بعد از این کاروائی ایرانی نے اپنے ڈرون کیمرے کو اڑایا تاکہ مجاھدین کے ٹھکانوں کا جاسوسی کرے .
لیکن جیش العدل کے مجاھد نشانہ بازوں نے ڈرون کیمرہ کو بھی مار گرایا .
عینی شاھدین کے مطابق ایرانی فوجی کیمپ میں دو ایمبولینس ٱ پہنچے اور وھاں سے لاشوں کو فوری سراوان شہر کے ھسپتال میں منتقل کردیا .
ایرانی سپاہء پاسداران نے اپنے ناکامی کی وجہ سے عام گولاباری شروع کردی . 
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو سپاہء پاسداران کے قبرستان بنادیںگے ۔ ان شاء اللہ

Tuesday, 28 August 2018

ایران پر سخت ترین پابندیاں عاید کرنے کے پابند ہیں: امریکا

ایران کے امور پر نظر رکھنے کے لیے امریکا کی طرف سے متعین کردہ خصوصی مندوب برائن ہک نے کہا ہے کہ ایران لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو سالانہ 70 کروڑ ڈالرکی رقم فراہم کررہا ہے۔
 ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن حزب اللہ اور ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے خلاف سخت ترین پابندیاں عاید کرنے کی پالیسی پرعمل درآمد کا پابند ہے۔
واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب میں اُنہوں نے کہا کہ واشنگٹن دوسرے اتحادی ممالک کو بھی ایران اور حزب اللہ کے خلاف جاری مہم میں شامل ہونے پر قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
برائن ہک کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے منفی طرزعمل کو بے نقاب کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔
 ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے قبل تہران کو ہماری شرائط ماننا ہوں گی۔ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارتی گذرگاہ کے طورپر کام کرتی رہے گی۔
امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران پر سخت ترین پابندیاں عاید کرنے کے اعلان پر سختی سے عمل درآمد کرے گا۔
 ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے معاہدے نےتہران کو بے پناہ فواید پہنچائے۔
 ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاہدے سے اس لیے باہر نکلا تاکہ ایران کی خطرناک سرگرمیوں کے خلاف سفارتی جنگ شروع کی جاسکے۔ ہم ایران کا رویہ بدلنا چاہتے ہیں ایرانی نظام سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔
برائن ہک کا کہنا تھا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں انتشار پھیلانے کے لیے اربوں ڈالر کی رقم خرچ کررہا ہے۔
 ایران کی 80 فی صد معیشت پر سپاہ پاسداران انقلاب کا قبضہ ہے اور پاسداران انقلاب اپنے عزائم اور مذموم مقاصد کے لیے ملکی وسائل کو بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔

Thursday, 16 August 2018

ایران کے خلاف عالمی ایکشن گروپ کے قیام کا امریکی اعلان

امریکی حکومت نے ایران پر دباؤ بڑھانے اور تہران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والے ممالک پر روک لگانے کے لیے دیگر اتحادیوں اشتراک سے نیا ایکشن گروپ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے ایک نئی اور اعلیٰ سطح کی ٹیم کا اعلان کیا ہے جس کا نام ’ایران ایکشن گروپ‘ رکھا گیا ہے۔
ایران ایکشن گروپ تہران کے رویے کو تبدیل کرنے اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے دیگر ممالک پر پابندیاں لگانے کے لیے واشنگٹن کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی حکمت عملی پر کام کرے گا۔
اس گروپ کی قیادت برائن ہُک ایران کے لیے محکمہ خارجہ کے خصوصی نمائندہ کے حیثیت سے کریں گے۔
مائیک پومپیو کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’تقریباً 40 سال سے تہران کی حکومت امریکہ، ہمارے اتحادیوں، ہمارے شراکت داروں اور ایرانی عوام کے خلاف تشدد کو ہوا دینے اور غیرمستحکم کرنے والے رویے کی ذمہ دار ہے۔‘
مائیک پومپیو نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ بہت جلد ایک دن ہم ایران کے ساتھ نیا معاہدے کریں گے، لیکن ہم ایرانی حکومت کے رویے میں اندرونی اور بیرونی طور پر بڑی تبدیلیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
امریکا جو تبدیلیاں ایران میں دیکھنا چاہتا ہے اس کی ایک طویل فہرست ہے جن میں شامی حکومت اور حزب اللہ کی حمایت بند کرنا، جوہری پروگرام کی بندش، قید امریکیوں کی رہائی شامل، دہشت گردی کی معاونت روکنا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور مداخلت بند کرنا ہے۔
برائن ہک کا کہنا ہے کہ ’یہ ٹیم ایرانی رویے کو تبدیل کرنے کے لیے مضبوط عالمی کوشش پر کاربند ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہم دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی مطابقت چاہتے ہیں۔‘
برائن ہک نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر ممالک کو ساتھ ملانے کے لیے کوشش بڑھا رہا ہے۔
 اس اقتصادی دباؤ میں ایران کی تیل کی تجارت کا کریک ڈاؤن، فنانشل سیکٹر اور شپنگ کی صنعت شامل ہے۔
’ہمارا مقصد ہر ملک میں ایرانی تیل کی درآمد کو کم کر کے چار نومبر تک صفر پر لانا ہے۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو خبردار کیا تھا۔

ایران کے تخریبی کردار کا پوری قوت سے جواب دیں گے: امریکا

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیزر نوورٹ کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک ایران کے تخریبی کردار کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہو گا۔
 ترجمان کا یہ موقف ایرانی رہبرِ اعلی کے اُس اعلان کے جواب میں آیا ہے جس میں علی خامنہ ای نے امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔
واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوورٹ کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح طور سے اعلان کر چکی ہے اور اُس پر سختی سے کاربند ہے۔
نوورٹ کے مطابق امریکا دنیا بھر میں ایران کے بُرے برتاؤ کے جاری رہنے کے حوالے سے تشویش رکھتا ہے اور دیگر ممالک بھی ایران کے حوالے سے اسی موقف کے حامل ہیں۔
ترجمان نے باور کرایا کہ امریکا ایران کی پالیسیوں اور شرپسند سرگرمیوں کے خلاف پورے عزم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہو گا۔
اس سے قبل ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے پیر کے روز اپنے خطاب میں مذاکرات کے حوالے سے ایک بار پھر امریکی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔
 خامنہ ای نے جوہری سمجھوتے کے لیے کیے جانے والے سابقہ مذاکرات پر بھی اپنی ندامت کا اظہار کیا۔
 ساتھ ہی ایرانی رہبر اعلی نے امریکا سے کسی بھی مقابلے کو خارج از امکان قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ ایران نے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ترقی دے کر اور مشرق وسطی میں اپنی تخریبی پالیسی جاری رکھ کر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
 اسی بنیاد پر رواں برس مئی میں امریکا نے اس معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی اُن تمام پابندیوں کو دوبارہ لاگو کرنے کا بھی اعلان کیا جو اوباما انتظامیہ نے تہران پر سے اٹھا لی تھیں۔

Wednesday, 15 August 2018

جیش العدل کے مجاھدین نے ایران کے ایک فوجی گاڑی کو بم دھماکے سے تباہ کردیا

جیش العدل کے مجاھدین تمام اہلسنت کو اطلاع دی جاتی ھے کہ جیش العدل کےمجاھدین نے  14/8/2018 کو ایران کےشہرسراوان کے علاقے دزک فوجی کیمپ کے قریب ایک ایرانی فوجی گاڑی کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا جس کی زد میں ٱ کر ایرانی فوجی گاڑی تباہ ھوا جس میں سوار فوجی افسر سمیت کئی فوجی زخمی ھوئے 
.تا حال ھلاک ھونے والوں کی اطلاعات نہیں ھے
اس واقع کے بعد تباہ شدہ گاڑی کے ملبے کو ایرانی فورسز نے جلدی اٹھا کر اپنے قریبی کیمپ میں لے گئےاور زخمیوں کو سراوان شہر کے ھسپتال میں منتقل کردیا 
کچھ امنییتی کاموں کی وجہ سے خبریں لیٹ موصول ھوئے
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو سپاہ پاسداران کے قبرستان بنادیںگے ۔ ان شاء اللہ

Friday, 10 August 2018

جیش العدل کے مجاھدین نے سراوان شہر کے مرکزی پولیس تھانے پر بم دھماکہ کیا






جیش العدل کے مجاھدین تمام اہلسنت کو اطلاع دی جاتی ھے کہ جیش العدل کےمجاھدین نے کل جمعہ کے دن  10/8/2018 کو ایرانی کےشہرسراوان  کے مرکزی پولیس تھانے کے گیٹ کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا جس کی زد میں ٱ کرتھانے کے باہر کھڑی کئی گاڑیاں تباہ اور پولیس کی عمارت کے تمام شیشے  اور نزدیک کے کئی مکانوں کے شیشے ٹھوٹ گئے .
تا حال زخمی اور ھلاک ھونے والوں کی اطلاعات نہیں ھے
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو سپاہ ء پاسداران کے قبرستان بنادیںگے ۔ ان شاء اللہ

Tuesday, 7 August 2018

ایران سے کاروبار کرنے والے امریکا کے ساتھ تجارت نہیں کرسکیں گے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پابندیوں کے نفاذ کے بعد تہران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے ممالک کے لیے سخت تنبیہ جاری کی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر اپنے پیغام میں انھوں نے ایسے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں تو امریکا کے ساتھ تجارت نہیں کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر کے حکم نامے پر دستخط کے بعد ایران پر منگل کی صبح سے پہلے مرحلے کی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
ان پابندیوں میں ایران کے مختلف شعبوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایران کے تیل کی درآمد پر پابندیاں نومبر سے لاگو ہوں گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ 'اس سے قبل اتنی سخت پابندیاں کبھی نہیں لگائی گئی تھیں اور نومبر میں یہ اور سخت کر دی جائیں گی۔ میں صرف عالمی امن کا مطالبہ کر رہا ہوں۔'
بظاہر صدر ٹرمپ کی ٹویٹ یورپی یونین کے ممالک کی جانب اشارہ ہے جن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ امریکی اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں اور انھوں نے اور اپنی کمپنیوں کی جائز تجارت کو تحفظ فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ نیا ایٹمی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں ایرانی حکومت کی تمام منفی سرگرمیوں کا مکمل احاطہ کیا گیا ہو، جس میں اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور دہشت گردی کی پشت پناہی شامل ہیں۔‘