Friday, 29 June 2018

عالمی طیارہ ساز کمپنی نے ایران کو ہوائی جہازوں کی فروخت روک دی

’اے ٹی آر‘ کا امریکی غیض وغضب سے بچنے کے لیے اقدام
فرانس اور اٹلی کی ہوائی جہاز تیار کرنے والی عالمی شہریت یافتہ کمپنی’اے ٹی آر‘ نے ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے ایران کو ہوائی جہازوں کی فروخت پر پابندی عاید کر دی ہے۔
فرانسیسی اخبار ’لی فیگارو‘ نے ’اے آر ٹی‘ کے چیف ایگزیکٹو کریسٹین شیرر کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی فرم نے ایران کو ہوائی جہاز فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا مگر امریکی پابندیوں کے ایران پر دوبارہ نفاذ کے بعد وہ تہران کو مزید جہازوں کی فراہمی سے قاصر ہیں۔
مقامی جریدے’لاٹریبیون‘ کو دیے گئے ایک انٹریو میں مسٹر شیرر نے کہا کہ ’اے آر ٹی‘ کی جانب سے ایران کو 2018ء کے اوائل میں 20 سول ہوائی جہاز فراہم کرنے کا امکان تھا۔
 تاہم کمپنی نے کم اور درمیانی مسافت کے 12 خصوصی طیارے ایران کو فراہم کرنے کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے باعث تہران کے ساتھ مزید معاملات چلانے یا لین دین کرنے سے معذرت کرتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مسٹر شیرر کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایران کے ساتھ ڈیلنگ کرنے والی کمپنیوں کو تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے مگر ہم امریکی انتظامیہ کے انتقام کا شکار نہیں ہوسکتے۔
 ایران کے ساتھ لین دین جاری رکھنے سے ہم امریکیوں کی ایران کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔

یمنی عوام کو مصیبت میں ڈالنے پر خامنہ ای کا محاسبہ ہونا چاہیے: پومپیو

’ایران کی وجہ سے یمنی عوام کی مشکلات طول پکڑ گئیں‘
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے یمن میں حوثی ملیشیا کی مدد نے صرف پڑوسی ملکوں پر حملوں ہی کا موقع فراہم نہیں کیا بلکہ اس کے نتیجے میں یمن میں انسانی بحران مزید گھمبیر ہوا ہے۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کی گئی ٹویٹس میں امریکی وزیرخارجہ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے محاسبے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خامنہ خلیج میں عدم استحکام اور یمنی عوام کی مصائب وآلام کی طوالت کے ذمہ دار ہیں۔
 ان کا کہنا تھا کہ یمنی عوام کو مصیبت میں ڈالنے میں معاونت کرنے والے ایرانی رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کا کڑا محاسبہ ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ بُدھ کے روز امریکا نے سلامتی کونسل کے 14 دیگر رکن ممالک پر ایران کے مشرق وسطیٰ میں ’گھٹیا کردار‘ پر تہران پر پابندیاں عاید کرنے پر زور دیا تھا۔
اقوام متحدہ میں امریکا کے نائب سفیر جوناتھن کوھین نے کہا کہ تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والے ملک کا بھرپور مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ 
ہمیں ایرانی پالیسی کے نتائج کے پیش نظر مربوط حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سلامتی کونسل کے دیگر چودہ رکن ممالک پر پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے ہمارا ساتھ دیں۔

Wednesday, 27 June 2018

تہران کے بازارِ سلطانی میں تیسر ے روز بھی حکومت کے خلاف مظاہرے

ایران کے دارالحکومت تہران کے بازارِ سلطانی میں مسلسل تیسرے روز احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ہزاروں مظاہرین اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور ملکی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
تہران میں احتجاج کرنے والے ان مظاہرین نے اپنے نعروں کا رُخ ایرانی قیادت کی طرف بھی موڑ دیا ہے اور وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں نظام کے خلاف بھی نعرے بازی کرنے لگے ہیں ۔
بدھ کی صبح آن لائن ویڈیوز میں ایرانی مظاہرین کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’ خوف زدہ نہ ہوں ، ہم سب متحد ہیں‘‘۔
دارالحکومت اس بڑے بازار میں تاجروں نے گذشتہ تین روز سے دکانیں بند کررکھی ہیں اور ان کی بند دکانوں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مظاہرین صدر حسن روحانی کے خلاف ’’ مرگ بر روحانی‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ہمیں ’’ غزہ نہیں اور لبنان نہیں چاہیے‘‘۔
 ان کا اشارہ ایران کی خطے میں اپنے حامی گروپوں کی حمایت کی جانب تھا
ایرانی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز بازار صرافہ کے نزدیک مظاہرین پر حملہ کیا تھا اور انھیں منتشر کرنے کے لیے ان پر ربر کی گولیاں چلائی تھیں۔
ایک فوٹیج میں سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک سکیورٹی اہلکار کو مظاہرے میں شریک ایک شخص پر وحشیانہ انداز میں تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ دوسرے مظاہرین سخت نعرے بازی کررہے ہیں۔

Tuesday, 26 June 2018

تعدادی کشته در درگیری میان جیش العدل و سپاه پاسداران در میرجاوه

دبی-العربیه.نت فارسی
گزارش‌ها حکایت از وقوع درگیری میان نیروهای جیش العدل و سپاه پاسداران ایران در منطقه مرزی میرجاوه دارد که طی آن شماری کشته شدند.
جیش العدل در بیانیه‌ای که منتشر کرده می‌گوید در این درگیری که شامگاه دوشنبه 25 ژوئن روی داد، دستکم 11 تن از نیروهای سپاه پاسداران اییران کشته شدند، اما هیچ یک از نیروهای این گروه شبه‌نظامی آسیبی ندید.
اما سازمان جیش العدل در بیانیه خود نوشته است در عملیاتی که ساعت 10 شب دوشنبه انجام داد، نیروهای «گردان شهید مولوی نعمت الله توحیدی» موفق شدند خسارت‌های سنگینی به نیروهای نظامی ایرانی در منطقه «تلخ آپ» شهرستان میرجاوه وارد کنند.
بنا بر بیانیه جیش العدل، دو گروه از نیروهای سپاه پاسداران که یک گروه پیاده و یک گروه سوار خودروهای نظامی بودند، گرفتار کمین نیروهای جیش العدل می‌شوند که در درگیری‌های پیش آمده، دستکم 11 تن از نیروهای سپاه پاسداران کشته می‌شوند
.
جیش العدل در بیانیه خود تاکید می‌کند که به هیچ‌یک از نیروهایش در درگیری‌های پیش آمده، آسیبی نرسید.

جیش العدل کے مجاھدین نے ایرانی فوجی کیمپ پر حملے کیے

جیش العدل کے مجاھدین تمام اہلسنت کو اطلاع دی جاتی ھے کہ جیش العدل کےمجاھدین نے 25/6/2018 کو ایران کےشہر زاھدان ، میرجاواکے باڈری علاقے تالاب  میں ایک ایرانی فوجی کیمپ پر حملے کر کے 11 فوجیوں کو ہلاک کردیے ۔ اور ایرانی فوجیوں کے مدد کے لیے دوسرے ایرانی فوجیاں پیدل اور گاڑی میں آ پہنچے تو جیش العدل کے مجاھدین نے ان پر حملے کیے جس گاڑی میں سوار کئی ایرانی افسر سمیت کئی ایرانی فوجی ہلاک و زخمی ھوئے۔ اور پیدل فوجیوں میں بھی افسروں سمیت کیی ایرانی فوجی ہلاک ھوے ۔
 کاروائی میں جیش العدل کے مجاھدین نے ایرانی فوجی مورچوں پر حملے کر کے ایرانی روافض فوجیوں کو ھلاک اورکئی کو زخمی کردیا . 
ایرانی روافض حکومت نے ان میں سے چند فوجیوں  کی ھلاکت کی تصدیق کردی اور ان کے نام 
عابد گمشادزهی
محمد ایوب گمشادزهی فرزند احمد
رحمت الله نوتی زهی
اکبر نوتی زهی
پاسدارجواد ملا شاهی-محمود گمشادز
-اسماعیل گمشادزهی
-عابد ریگی
-شهباز نوتی زهی
الحمد للہ جیش العدل کے مجاھدین اس کاروائی کے بعد صحیح و سلامت اپنے کیمپ میں پہنچ گئے
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی روافض افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو رافضیوں کے قبرستان بنادیںگے ۔ ان شاء اللہ

Monday, 25 June 2018

ایران : "بازارِ تہران" کی ہڑتال نے شاہ ایران کے سقوط کی یاد دلا دی

ایران میں امریکی ڈالر اور سونے کی قیمتیں ملکی تاریخ میں غیر مسبوق سطح تک بلند ہونے کے بعد دارالحکومت کے وسطی علاقے میں مشہور "بازارِ تہران" میں ہڑتال دیکھنے میں آئی۔
 گزشتہ 40 برسوں میں پہلی مرتبہ ایک ڈالر کی قیمت 90 ہزار ایرانی ریال تک پہنچ گئی۔
ایرانی "ریڈیو زمانہ" نے نے میڈیا ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بازار تہران میں پیر کی صبح شروع ہونے والی ہڑتال ڈالر کے مقابل ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ پر احتجاج کے طور پر کی جا رہی ہے۔
ادھر ایرانی صدر حسن روحانی کی ایک تصویر نے ایران میں سوشل میڈیا کے حلقوں کو چراغ پا کر دیا ہے۔
 تصویر میں روحانی اسپورٹس ٹریک سوٹ میں دکھائی دے رہے ہیں جس پر ایرانی حلقوں نے روحانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ملک میں غیر مسبوق نوعیت کے حالیہ اقتصادی بحران سے غفلت برت رہے ہیں۔
ڈالر کی قیمت 90 ہزار ریال تک پہنچنے اور روحانی کی مذکورہ تصویر کے پھیل جانے کے چند گھنٹوں بعد سیکڑوں دکان مالکان اور ایرانی شہری احتجاجی مظاہرے کے لیے سڑکوں پر نکل کھڑے ہوئے۔ 
مظاہرین نے اس موقع پر مختلف سیاسی اور معاشی نعرے بھی لگائے مثلا "شام سے نکلو اور ہمارے حال کی فکر کرو"۔
سوشل میڈیا پر جاری تصاویر اور وڈیو کلپوں میں حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر غصّے میں بپھرے ہوئے مجمعوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
سال 1979ء کی ہڑتال اور شاہ ایران کی حکومت کا سقوط
یاد رہے کہ بازارِ تہران کو ایرانی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔
 سال 1979ء میں اس بازار میں ہونے والی ہڑتال شاہ ایران کی حکومت کے سقوط کے مرکزی عوامل میں سے تھی۔
ادھر دارالحکومت تہران میں مَنی ایکسچینجز نے کرنسی کے شدید اتار چڑھاؤ کے اندیشے کے سبب نقد کرنسی بالخصوص امریکی ڈالر کی خرید و فروخت سے انکار کر دیا ہے۔
بعض ایرانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر بتایا ہے کہ قومی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ روز مرہ کی زندگی کو براہ راست متاثر کر رہی ہے اور غذائی اشیاء کی قیمتیں باقاعدگی کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔
 بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے لیے غذائی اشیاء کا ذخیرہ کر رہے ہیں کیوں کہ اس دوران قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

ایرانی اپوزیشن رہ نما کا نوجوانوں سے مظاہروں میں شامل ہونے کا مطالبہ

ایرانی اپوزیشن کی معروف رہ نما مریم رجوی نے ٹوئیٹر پر اپنے ایک پیغام میں تہران کے نوجوانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی دارالحکومت میں اُن مظاہرین کے ساتھ شامل ہو جائیں جو ایرانی کرنسی کے مقابل امریکی ڈالر کی قدر میں ہوش رُبا اضافے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
رجوی نے اپنی ٹوئیٹ باور کرایا کہ مہنگائی، ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور ایرانی عوام کی ابتر حالت یہ سب ایرانی نظام اور اس کے سرکردہ افراد کی پالیسی کا نتیجہ ہے جنہوں اربوں کی رقوم لوُٹ کر ان کو یا تو عوام کے خلاف کریک ڈاؤن میں اور یا پھر شام اور دیگر ممالک میں لڑائی میں ملوث ہونے کے واسطے لُٹا دیا۔
رجوی نے لکھا کہ "میں تہران میں تمام نوجوانوں اور بازار سے تعلق رکھنے والوں پر زور دیتی ہوں کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ شریک ہو جائیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارا دستور اور آئین آزادی، جمہوریت اور مساوات ہے۔ ہمارا آئین وہ نہیں جو مجلس خبرگان جرائم نے اپنا رکھا ہے"۔
سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنان نے ایران میں اقتصادی صورت حال بہتر بنانے کے مطالبے کے واسطے وسیع پیمانے پر ایک عوامی احتجاجی مہم شروع کی۔
ادھر پیر کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں کئی اہم مقامات اور سڑکیں احتجاج کرنے والے تاجروں اور کاروباری شخصیات سے بھر گئیں۔
 ڈالر کی قدر میں ہوش رُبا اضافے کے خلاف بہت سے مالکان نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔
ایران میں گزشتہ 40 برس کے دوران پہلی مرتبہ امریکی ڈالر کا نرخ تہران کی اوپن مارکیٹ میں غیر مسبوق سطح پر پہنچ گیا۔ اس موقع پر ایک ڈالر کی قیمت نے 87 ہزار ایرانی ریال کی سطح کو چُھو لیا۔