Wednesday, 14 March 2018

ایران کی مجلس شوریٰ کے ایک رکن نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی غیر دانش مندانہ اقتصادی پالیسیوں کے باعث 80 فی صد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق منگل کے روز ایرانی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے دوران ایرانی وزیر برائے لیبر، ٹرانسپورٹ وشاہرات علی ربیعی سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے کیا کررہےہیں۔
 اس موقع پر کئی ارکان پارلیمان نے حکومت پر کمپنیوں کے مالکان کی مدد کرنے اور مزدوروں کونظرانداز کرنے کا الزام عاید کیا۔
 اپوزیشن کے ایک سرکردہ رکن پارلیمان نے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح میں 30 فی صد اضافہ ہوچکا ہے جب کہ ایک دوسرے رکن نے بلند آواز میں کہا کہ حکومتی عدم توجہی کے نتیجے میں اس وقت 80 فی صد شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہےہیں۔
اس موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی حسب معمول موجود نہیں تھے۔
ایرانی رکن پارلیمان محمد قسیم عثمانی نے وزیر لیبر پرالزام عاید کیا کہ وہ سوشل سیکیورٹی فنڈز کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ آپ لیبر کے وزیر نہیں بلکہ کمپنیوں کے مالکان کے وزیر بن چکے ہیں۔
عثمانی نے مزید کہا کہ ملک میں گریجویٹ اور ایم اے پاس نوجوان انتہائی معمولی اجرت پر کام کرنےپر مجبور ہیں۔ 
انہیں معقول روزگارمیسر نہیں۔
 اگر کوئی اپنی اس حالت پر احتجاج کرتا ہے تو اسے نوکری ہی سے نکال دیا جاتا ہے۔
’اورامانات‘ شہر سے رکن پارلیمنٹ شھاب نادری نے کہا کہ حکومت غربت کے سونامی کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
 حکومتی وزراء صرف اپنے معاشی حالت کی بہتری کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہیں عوام کے معاشی مسائل اور مشکلات کا کوئی اندازہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 80 فی صد شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنےپر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں شہری بے روزگار ہیں اور کروڑوں کی ماہانہ آمدن 155 ڈالر سے زیادہ نہیں۔
رکن پارلیمان ابو الفضل حسن بیجی نے کہا کہ وزارت لیبر کے پاس ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر کا بجٹ موجود ہے مگر حکومت ریٹائرڈ ملازمین کو ان کی اجرت دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔

Tuesday, 13 March 2018

جیش العدل کے مجاھدین نےایران کے ایک بڑےسپاہ پاسداران کے فوجی کیمپ پرفداي حملے کيے

اتوار 11 مارچ, 2018
کہ جیش العدل کے مجاھدین تمام اہلسنت کو اطلاع دی جاتی ہیں  
ایران کے شہرسراوان کے علاقے بمپشت دراب و کوہ سرخ کے نزدیک ایرانی فوج سپاہ فورس کے کیمپ پر اتوار۔11 ۔03 ۔ 2018  مغرب کے وقت جیش العدل کے مجاھدین نے راکٹوں وخودکار ہتھیاروں سے فدای حملے کردیے ۔
 اور یہ کارواي صبح کی نمازتک جاری رہی۔ 
 عینی شاہدیں کے مطابق جیش العدل کے مجاھدین نے کیمپ پر قبصہ کرنے کیلیے بارود سے بھری گاڑی کیمپ سے ٹکرادیا جو زور دار دھماکے سے کیمپ تباہ ہو گیا۔
اور جو مسولین کہ کیمپ کے اندر کی کاروای پہ حفاظتی باڈوں کےاندر پہنچ گيے تھے کہ لڑای شدید تھا جس سے فداییان جیش العدل شھید ہوے۔
اور اس کیمپ کی مدد کے لیے دوسرے کیمپوں سے سینکڑوں ایرانی فوجی نکل پڑے کہ راستے میں جیش العدل کے مجاھدین نے ان پر تابڑتوڑحملے کیے اس حملے میں ایرانی فوجیوں کو جانی ومالی نقصان ہوے ۔جھڑپ کیمپ کے آس پاس قریب تھا لیکن ڈرپوک ایرانی فوجی مارٹر گولے دور دور فایر کرتے۔
 اس جھڑپ میں جیش العدل کے چار مجاھدین شھید ہوۓ اور چار زخمی ہوۓ ۔ الحمدللہ مجاھدین نے اپنے شھید اور زخمیوں کو اٹھا کر لے آۓ۔ اس جھڑپ میں ایران کے 13 فوجی ہلاک اور کہی زخمی بھی ہوے     
 شکر الحمد للہ جیش العدل کے مجاھدین بحفاظت اپنے کیمپ میں پہنچ گئے ۔
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی روافض افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو رافضیوں کے قبرستان بنادیںگے ۔   انشاء اللہ

Monday, 12 March 2018

ایرانی کیمپ پر حملہ

اتوار 11 مارچ, 2018
  بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے زامران سرکی زا سے ملحقہ مغربی بلوچستان کی جانب قابض ایرانی زیر قبضہ دراب و کوہ سر کے نزدیک قابض ایرانی گجر باڈر فورس کے کیمپ پر آج مغرب کے وقت مسلح افراد نے راکٹوں وخودکار ہتھیاروں سے حملہ کردیا عینی شاہدیں کے مطابق حملہ آوروں نے کیمپ پر قبصہ کرنے کیلے بارود سے بھری گاڑی کیمپ سے ٹکرادیا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اطلات کے مطابق قابض ایرانی باڈر فورس سپاہ کے 4 اہلکاروں کی ہلاکت و متعدد کی زخمی ہونے کی بھی اطلاع موصول ہورہی ہیں آخری اطلاع آنے تک کیمپ ہر قبضہ کرنے کیلئے جنگ کے جاری رہنے کی اطلاعات ہے۔

Saturday, 3 February 2018

جیش العدل کے مجاھدین نے ایران کے ایک بڑی گاڑی کو بم دھماکے سے اڑایا


جیش العدل کے مجاھدین تمام اہلسنت کو اطلاع دی جاتی ہیں کہ جمعہ کے صبح 7بجے کے وقت  / 2018  ۔02  ۔2  کو جیش العدل کے مجاھدین نے ایران کے شہر زاہدان کے علاقے میرجاوا تالاب  کے مقام پرایک ایرانی فوجی بلڈوزر گاڑی کو بم دھماکے سے تباہ کردیا.
 یہ بلڈوزرایرانی فوجی تحمیراتی کاموں میں مصروف تھا۔ اوراس دھماکے کی زد میں آکردو فوجی  افسروں سمیت کہی ایرانی فوجی بھی زخمی ھوے۔ 
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی روافض افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو رافضیوں کے قبرستان بنادیںگے ۔ ان شاء اللہ

Thursday, 1 February 2018

خامنہ ای ’شاہ ایران‘ کے عبرتناک انجام کو سامنے رکھیں: حسن روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی نے ایرانی رجیم کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے عوام کے دیرینہ مطالبات پر کان نہ دھرے توان کا انجام سابق بادشاہ [رضا شاہ پہلوی] کی طرح خوفناک ہوسکتا ہے۔
انقلاب ایران کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کے دورہ [1979ء تا1989ء] کو بہترین عرصہ قرار دیا۔
انہوں نے اشارتا کہا کہ ایرانی بادشاہ نے عوام کی آواز پر لبیک کہنے کے بجائے اپنی آمرانہ پالیسی جاری رکھی جس کے نتیجے میں ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔
 انہوں نے کہا کہ عوام کو اظہار رائے کی آزادی سے کسی صورت میں نہیں روکا جا سکتا۔ عوام کو تنقید اور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔
صدر روحانی نے کہاکہ ایران میں شاہی نظام کے خاتمے کا اصل محرک عوام کی آواز پر عدم توجہی تھی۔
ایرانی صدر نے یہ باتیں سپریم لیڈر کے ایران میں حالیہ عرصے میں ہونے والے احتجاج پر ان کے موقف کے جواب میں کہیں۔
 سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو ’دشمن کی سازش‘ اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دے چکے ہیں۔
خامنہ ای بھی صدر حسن روحانی کے موقف پر تنقید کرچکے ہیں۔
 حسن روحانی بار بار اپنے گھر کی فکر کرنے اور عوام کے مطالبات حل کرنے پر زور دینے کے موقف کی حمایت کرتے رہے ہیں جب کہ شدت پسند مذہبی ٹولہ عوامی احتجاجی تحریک کو غیرملکی سازش قرار دیتا رہا ہے۔
خامنہ ای نے موجودہ صدر حسن روحانی اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کے بیانات کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
حسن روحانی ملک کے بنیاد پرست حلقوں پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور ملک میں جاری احتجاجی تحریک کا ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں۔ 
ان کا کہنا تھا کہ عوامی احتجاج پر سخت موقف اپنانے والے سپریم لیڈر کے ہاں اپنی قدر ومنزلت بڑھانے اور اپنے انتخاب کے وعدوں پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران میں حالیہ ہفتوں کےدوران معاشی استحصال کے خلاف ملک گیر پرتشدد مظاہرے ہوچکے ہیں۔
 ایرانی پولیس، پاسداران انقلاب اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مل کرعوامی احتجاجی کی تحریک کچلنے کے لیے وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

حوثی باغیوں کے پاس ایرانی میزائلوں کی موجودگی کے ٹھوس ثبوت ہیں: برطانیہ

برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کے پاس ایرانی ساختہ میزائلوں کی موجودگی کے ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
’العربیہ‘ کے مطابق اقوام متحدہ میں برطانیہ کے نائب مندوب جوناتھن آلن نے ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا کہ اب اس میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ یمن کے حوثی باغی ایرانی ساختہ میزائل اور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے پاس موجود میزائلوں کے’کی بورڈ‘ فارسی میں، ان پر لکھا کارخانے کا نام ایرانی اور ماڈیولر ویلڈنگ میتھڈ بھی ایرانی ہے۔
جوناتھن آلن کا کہنا تھا جس طریقے سے میزایلوں کے ماڈیولر ویلڈنگ کا طریقہ کار وضع کیا گیااس سے واضح ہوتا ہے کہ میزائلوں کھول کر اسپئرپارٹس کی شکل میں یمن پہنچایا جاتا ہے۔ بعض میزائلوں پر 2015ء کی تاریخ درج ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یمنی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی پابندیاں عاید ہونے کے بعد بھی جاری ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں عرب اتحادی فوج نے یمن میں ایک کارروائی کے دوران الجوف گورنری کے یتمہ شہر سے ایرانی ساختہ ’زلزال‘ میزائل قبضے میں لیے تھے۔
العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق حوثیوں کے ٹھکانوں سے 13 زلزال ایرانی میزائل، بارودی سرنگیں اور دیگر اسلحہ اور گولہ بارود بھی ملا ہے۔

Tuesday, 30 January 2018

ایران کے مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف دوبارہ مظاہرے : فوٹیج

ایران کے مختلف شہروں میں چند روز کے وقفے کے بعد حکومت کے خلاف دوبارہ احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔
انٹرنیٹ کے ذریعے منظرعام پر آنے والی فوٹیج کے مطابق ایران کے جنوبی شہر بندر عباس ، وسطی صوبے اصفہان کے شہر نجف آباد ، جنوب مشرقی شہر کرمان اور صوبہ فارس کے وسطی شہر شیراز میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
بندر عباس میں احتجاجی مظاہرے کے دوران مظاہرین نے دوسرے شہریوں سے احتجاجی تحریک میں شامل ہونے پر زور دیا۔
شیراز میں مظاہرین نے ’’مرگ بر آمر ‘‘کے نعرے لگائے ۔واضح رہے کہ ایران کے شہروں میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں یہی نعرہ سب سے زیادہ بلند کیا جاتا رہا ہے اور آمر سے ان کی مراد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہیں۔
نجف آباد میں احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے رجیم کے خلاف نعرے بازی کی۔کرمان میں مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ تشدد کے ذریعے ان کی تحریک کو دبانے کی کوشش نہ کریں بلکہ وہ پُرامن مظاہروں کی حمایت کریں۔