Thursday, 2 February 2017

ایرانی حکومت نوجوان کی پھانسی روک دے: اقوام متحدہ ماہرین

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ایک کم عمر لڑکے کو پھانسی پر لٹکانے کا عمل روک دے۔
اس لڑکے کو ہفتے کے روز تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔
اس نوجوان حامد احمدی کی اس وقت عمر پچیس سال ہے۔اس کو 2009ء میں جب سزائے موت سنائی گئی تھی تو اس وقت اس کی عمر سترہ سال تھی۔اس نے 2008ء میں پانچ لڑکوں کے درمیان لڑائی کے دوران ایک نوجوان کو چاقو گھونپ دیا تھا۔
اس کے بعد سے تین مرتبہ احمدی کی پھانسی موخر کی جاچکی ہے۔
 عدالت نے اس کے ایک پولیس تھانے میں دیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر اس کو سزائے موت سنائی تھی۔
اس نے مبینہ طور پر پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ بیان دیا تھا اور اس کے وکیل اور خاندان کو بھی اس تک رسائی کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق حامد احمدی کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور اس کے انسانی حقوق کا بھی بالکل خیال نہیں رکھا گیا تھا۔
عدالت نے فیصلہ سناتے وقت تشدد سے لیے گئے اعترافی بیان اور دیگر الزامات کو ملحوظ نہیں رکھا تھا۔
انھوں نے کہا ہے کہ '' ایسی کوئی بھی سزائے موت جو حکومت کی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کیے بغیر سنائی گئی ہے اور فرد جرم ڈرا دھمکا کر لیے گئے اعترافی بیان پر مبنی ہے یا اعترافی بیان تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے تو اس کی بنا پر پھانسی کی سزا غیر قانونی اور انتقامی ہوگی''۔

Monday, 30 January 2017

ایران میں چار افراد کو مجمع عام میں پھانسی

ایرانی رجیم نے سزائے موت کے سزا یافتہ چار افراد کو مشہد اور بندرعباس شہروں میں بھرے مجمع میں پھانسی کے گھاٹ اتاردیا۔ 
سزائیں پانے والوں کی عمریں 22 سے 26 سال کے درمیان تھیں اور ان پر ایران میں ملاؤں کی حکومت کی مخالفت کرنے کے الزامات عاید کیے تھے۔
قبل ازیں ہفتےکے روز شمالی ایران میں قائم ’راکان‘ جیل میں 26 اور 39 سال کے دو قیدیوں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ رواں سال جنوری کے اوائل سے اب تک 87 افراد کو ایران میں پھانسی دی گئی ہے۔ گذشتہ برس اس عرصے میں ایران میں ہونے والی پھانسی کی سزاؤں میں رواں سال 2.5 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی اپوزیشن کی جانب سےجاری کردہ ایک بیان میں قیدیوں کوپھانسی کی سزاؤں کی شدید مذمت کی ہے۔
 بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو خوف زدہ کرنے اور ریاستی رعب ودب دبہ بٹھانے کے لیے قیدیوں کو بھرے مجمع میں نہایت سفاکی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

Saturday, 28 January 2017

اتحادی فوج نے المخا میں ایرانی فوجی ڈرون تباہ کر دیا

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے سرگرم عرب اتحادی فوج نے کل ہفتے کے روز یمن کے المخا شہر میں ایک بغیر پائلٹ کےایرانی فوجی طیارے کو تباہ کردیا۔
العربیہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اتحادی فوج کے جنگی طیاروں نے یمن کے ساحلی شہر المخا میں ایک اڈے پر اڑان بھرنے کے لیے تیار ڈرون پر بمباری کی جس کے نتیجے میں وہ تباہ ہوگیا۔
 اطلاعات کے مطابق تباہ ہونے والا ڈرون طیارہ یمنی فوج اور مزاحمتی فورسز کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
یمن کے ڈپٹی آرمی چیف بریگیڈیئر جنرل احمد سیف الیافعی بے بتایا کہ فوج نے شمالی المخا میں فضائی مانیٹرنگ کے دوران ایک مشتبہ ایرانی ڈرون کی موجودگی کا پتا چلایا۔
 اس کے ساتھ ہی یمن میں سرگرم متحدہ عرب امارات کی فضائیہ سے رابطہ کیا گیا۔ اماراتی فضائیہ نے ایک میزائل حملہ کرکے ایرانی ڈرون کو اڑان بھرنے سے قبل ہی تباہ کردیا۔
یمنی فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یمن میں باغیوں سنگین مشکلات سے دوچار ہو چکے ہیں اور وہ اب ایران سے ڈرون طیاروں کے خفیہ طریقے سے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ 
المخا میں تباہ کیا گیا ڈرون بھی ایران سے اسملگ کیا گیا تھا۔
ہفتے کے روز یمنی فوج نے ساحلی شہر المخا اور الحدیدہ کے درمیان رابطہ سڑک کو فوجی علاقہ قرار دے کر شہریوں کو اس شاہراہ سے دور رہنے کی تاکید کی تھی۔

Sunday, 18 December 2016

جیش العدل کے مجاھدین نے ایک بم دھماکے میں ایران کے پانچ فوجیوں کو ہلاک کردیا

جیش العدل کے مجاھدین نے سراوان کے علاقے میں ،، 18 ،، 12 ،، 2016 کو پانچ ایرانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ۔
اتوار کے صبح جیش العدل کے مجاھدین نے اپنے ایک گاڑی میں بم فٹینگ کر کے روڑ پر چھوڑ کر ایک قریبی ایرانی فوجی چوکی پر بڑے اور چھوٹے ھتیاروں سے حملے کردیا ۔ پھر جوابی کاروای میں ایرانی فوجیوں نے پرزور حملے کیے ۔ اور مجاھدین جیش العدل نے اس سے فاھدہ اٹھا کر کچھ دیر تک خاموشی اختیار کردیے ۔ جب ایرانی فوجیوں نے گاڑی کو گہرلیا تو اسی وقت ایک ایرانی فوجی افسرآ پہنچھے جب گاڑی کے قریب ایرانی افسر پہنچتھے ہی مجاھدین جیش العدل نے گاڑی کو ریموٹ سے دھماکہ کر دیا جس سے پانچ ایرانی فوجی ہلاک و کیی زخمی ھوے ۔ جیش العدل کے مجاھدین ایرانی روافض افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو رافضیوں کے قبرستان بنادیںگے ۔   ان شاء اللہ

جیش العدل کے مجاھدین نے ایران کے ایک فوجی گاڑی کو بم سے تباہ کردیا

جیش العدل کے مجاھدین نے ایران کے ایک فوجی گاڑی کو بم سے تباہ کردیا 
ایران کے شہرسراوان کے علاقے 12 ،،12 ،، 2016 ، میں جیش العدل کے مجاھدین نے ایران کے ایک فوجی گاڑی کو بم دھماکے سے تباہ کردیا  

Saturday, 3 December 2016

ایرانی فوج نے پاکستان کے اندر باڈری علاقوں میں بھی بم گزاری کی ہے

کل 03 ۔۔ 12 ۔۔ 2016 ۔۔ کو ایران اور پاکستان کے باڈری علاقے کوھک کے مقام گیشک میں ایک مسافر گاڑی ایرانی فوجیوں کی بچھاے ہوے بم کی زد میں آکر گاڑی مکمل تباہ اور اس میں سوار ایک صابر نامی شخص شدید زخمی ہوا ۔ 

امیرجیش العدل صلاح الدین فاروقی