Wednesday, 29 July 2015

تہران: اہل سنت کے مرکزی نمازخانہ مسمار کردیاگیا



ایران کے رافضی حکام نے تہران کے علاقہ پونک میں واقع اہل سنت کے مرکزی 

نمازخانے کو آج (انتیس جولائی دوہزار پندرہ) مسمار کردیاہے۔
 آج (بدھ) علی الصباح متعدد سکیورٹی حکام نے ’نبی رحمت نمازخانہ‘ کو گھیرے 

میں لے کر اسے مکمل طورپر مسمار کردیا۔
مقامی ذرائع کا کہناہے نمازخانے کے مسمار سے پہلے بعض حکام نے نمازخانہ کے امام مولوی عبیداللہ موسی زادہ، فاضل دارالعلوم زاہدان و سابق استاد جامعہ ہذا، 

اور بعض دیگر لوگوں کے موبائل فونز اپنے قبضے میں لیا۔
یاد رہے مذکورہ نمازخانہ کو اس سے قبل سترہ جنوری دوہزار پندرہ کو مقفل کردیا گیا تھا۔ 
بعد میں اسے کھول دیا گیا تا ہم جمعہ و عیدین کی نمازوں پر پابندی لگادی گئی۔
تہران میں اہل سنت کو مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے اور ایرانی 
دارالحکومت میں اہل سنت کی کوئی مسجد نہیں ہے۔ 
سنی شہریوں کو بعض کرایے کے مکانات میں پہلے نماز قائم کرنے کی اجازت دی جاتی تھی ۔

Saturday, 25 July 2015

جیش العدل کے مجاھدین نے ایرانی فوجی کیمپ پر بی ایم اور گولے برساے


جیش العدل کے جان فدا مجاھدین نے2015 ۔ 07 ۔ 24 کو ایران کے شہر سراوان کے علاقے گومیچکان کے مقام پر ایک رافضی فوجی کیمپ پر گولے برساے ۔ 
جس سے کہی ایرانی فوجی ہلاک و زخمی ھوے ۔
 یہ حملہ اس وجہ سے کیا کہ ایرانی فورسز نے اپنے کہی فوجی گومیچکان کے 
علاقے میں مارے جانے کے بعد ایران کے فورسز نے کہی گاوں پر گولے برساے ۔ تو جیش العدل کے مجاھدین نے اسکے بدلے میں ایک ایرانی فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا


Wednesday, 22 July 2015

جیش العدل کے مجاھدین نے ایران کے شہر سراوان کے علاقے میں ایک خطرناک حملے کہے


جیش العدل کے مجاھدین نے 21 ۔ 07 ۔2015 کو ایران کے شہر سراوان کے 
علاقے متراسنگ کے مقام پر رات 07:15 کے ٹیم میں ایک خطرناک حملے کیے ۔ اس حملے میں ایک رافضی فوجی چوکی تباہ اور ایک مورچہ سمیت ایک فوجی گاڑی تباہ اور کہی رافضی فوجی ہلاک و زخمی ھوے ۔
 اس جھڑپ کو کل ساڑھے 3 گھنٹے لگے ۔ 
اس حملے میں ایران کے رافضی افواج کو بہت بڑے جانی و مالی نقصان ھوے ۔ جیش العدل کے جان فدا مجاھدین میں سے 2 مجاھد  معمولی زخمی اور ایک مجاھد بنام صدیق شھادت پا گہے 

Sunday, 12 July 2015

بلوچستان کے علاقے میرجاوہ میں مجاہدین جیش العدل کا ایرانی فوج پر کا میاب حملہ دس فوجی ہلاک' درجنوں زخمی.


بلوچستان کے علاقے میرجاوہ میں گزشتہ روز مجاہدین جیش العدل اور ایرانی فورسز کے درمیان شدید جھڑپ ہوئ۔جس کے نتیجے میں دس ایرانی فوجی 
جہنم واصل جبکہ درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہلکے وبھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ دو گھنٹے تک جاری رہا۔ 
ہلاک شدگان میں ایک اعلی افسر بھی کام آیا۔
تاہم ابھی تک اسکا رینک واضح نہ ہوسکا ہے۔ دوسری طرف مجاہدین جیش العدل کامیاب کاروائ کے بعد' بغیر کسی نقصان کے' بحفاظت اپنے مقام تک پہنچ گئے۔

Tuesday, 7 July 2015

ایران کے روافض افواج کے ہاتھوں 4 اہلسنت بے گناہ جوانوں کو شہید کیا گیا




 ایران کے رافضی حکومت ہر روز کہی بے گناہ اہلسنت کو شہید کیا جاتا ہے ۔ایران کے رافضی فورسز کی جانب سے شہید کیے گئے اہلسنت کے  فرزندوں کی لاشیں جنہیں ایرانی  فورسز نے مغربی بلوچستان کے علاقے ایران شہر میں شہید کردیا گیا ہے، جن کی شناخت نظر زرد کوهی بلوچ، محسن بلوچ اور خالد سیاهانی بلوچ کے نام سے ں

Saturday, 4 July 2015

جیش العدل کے مجاھدین نے ایران کے 16 سپاہ قدس کے فوجی ہلاک اور کہی زخمی کر دیا

جیش العدل کے مجاھدین نے 2015-06-26 کو ایران کے شہر سراوان کے علاقے کوھک آسکان کے مقام پر ایک
 بڑے کاروای کے دوران ایک فوجی گاڑی اور دو فوجی چوکی پر حملے کہے ۔
جس سے 16 فوجی ہلاک اور کہی فوجی زخمی ھوے۔ الحمدللہ جیش العدل کے مجاھدین بحفاظت اپنے کیمپ میں پہنچ گہے ۔ 

Monday, 1 June 2015

ایران کی جانب سے سیستان میں جیش العدل سے مقابلہ کے لئے تیار کردہ"بسیج فورس"کی حالت زار۔



ایران حکومت کی جانب سے سیستان میں جیش العدل سے مقابلہ کے لئے تشکیل دی گئ "بسیج فورس"کی ناگفتہ بہ حالت اس تصویر میں نمایاں ہے۔ 
ایران نے ہمیشہ غیر ریاستی عناصر کو اپنے بھیانک وسفاکانہ مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔
 پرکشش تنخواہوں کا لالچ دے کر معاشرے کے دھتکارے'جرائم پیشہ'غریب وپسماندہ نوجوانوں کو مسلح کرکے اپنی ہی قوم کے خلاف استعمال کرنا اور مظالم کی کھلی چھوٹ دینا ہمیشہ سے ایرانی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔
اس فورس کی پیشہ وارانہ صلاحیت اس تصویر سے خوب عیاں ہیں۔ مگر اب ایرانی اہل سنت عوام دشمن کے ان مذموم ہتھکنڈوں کو خوب سمجھ چکی ہے۔
 اور اہل سنت عوام نہ صرف ایسی کسی بھی فورس کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس فورس کا حصہ بننے والے افراد کا بھی ایرانی اہل سنت معاشرہ'سوشل بائیکاٹ کر چکا ہے۔
یہی وجہ ہیکہ اس فورس کا حصہ بننے والے افراد اب تیزی سے مستعفی ہورہے ہیں۔
اور ایرانی حکومت باوجود پرکشش آفرز کے'اس فورس کو باقی رکھنے اور مطلوبہ اہداف کے حصول میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہے۔
 تہران کے لئے یہ صورتحال کافی تشویش کا باعث بتائ جاتی ہے۔