ایران کے رافضی حکام نے تہران کے علاقہ پونک میں واقع اہل سنت کے مرکزی
نمازخانے کو آج (انتیس جولائی دوہزار پندرہ) مسمار کردیاہے۔
آج (بدھ) علی الصباح متعدد سکیورٹی حکام نے ’نبی رحمت نمازخانہ‘ کو گھیرے
میں لے کر اسے مکمل طورپر مسمار کردیا۔
مقامی ذرائع کا کہناہے نمازخانے کے مسمار سے پہلے بعض حکام نے نمازخانہ کے امام مولوی عبیداللہ موسی زادہ، فاضل دارالعلوم زاہدان و سابق استاد جامعہ ہذا،
اور بعض دیگر لوگوں کے موبائل فونز اپنے قبضے میں لیا۔
یاد رہے مذکورہ نمازخانہ کو اس سے قبل سترہ جنوری دوہزار پندرہ کو مقفل کردیا گیا تھا۔
بعد میں اسے کھول دیا گیا تا ہم جمعہ و عیدین کی نمازوں پر پابندی لگادی گئی۔
تہران میں اہل سنت کو مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے اور ایرانی
دارالحکومت میں اہل سنت کی کوئی مسجد نہیں ہے۔
سنی شہریوں کو بعض کرایے کے مکانات میں پہلے نماز قائم کرنے کی اجازت دی جاتی تھی ۔


No comments:
Post a Comment