امریکی فوج نے عالمی بحری ٹریفک کے تحفظ اور ایران نواز یمنی حوثی باغیوں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے اپنا ایک بحری بیڑا یمن کی باب المندب بندرگاہ کی طرف روانہ کردیا ہے۔
خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی نیوی کے ایک بحری بیڑے کو یمن کی باب المندب گذرگاہ کی طرف روانہ کیا گیا ہے۔
بحری بیڑے کی یمنی بندرگاہ کی طرف روانگی کا مقصد گذرگاہ کے قریب سے گذرنے والے بین الاقوامی مال بردار بحری جہازوں کو ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملوں سے تحفظ دلانا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی حکومت کی طرف سے یمن کی بندرگاہ کی طرف بحری بیڑے کی روانگی کا اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ایرانی باشندوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی ہے جس کے رد عمل میں ایران کی طرف سے امریکی مفادات کو نشانہ بنائے جانے کاخدشہ ہے۔
امریکی نیوی کے دو اہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی بحری بیڑا ’یو ایس ایس کول‘ یمن کی جنوب مغربی باب المندب بندرگاہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحری بیڑے کے باب المندب بھجوانے کا مقصد بحری ٹریفک کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی بحری بیڑے کی باب المندب میں منتقلی امریکی جنگی بحری جہاز پرحال ہی میں یمنی باغیوں کے حملے کے تناظر میں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے یمنی باغیوں نے یمن کی سمندری حدود میں موجود ایک سعودی بحری جہاز پر خودکش حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دو سعودی سپاہی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
امریکی بحری بیڑا’یو ایس ایس کول‘ بحری جنگی ہتھیاروں میں سے ایک ہے اور اسے ماضی میں بھی متعدد سمندری مہمات کے لیے بھیجا جاتا رہا ہے۔
اکتوبر 2000ء میں عدن بندرگاہ پر متعین کیے گئے اس بیڑے پر حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
No comments:
Post a Comment