کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں حکام نے دو ایرانی سفارت کاروں اور ان کے کینیائی ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔
تینوں افراد کو جس وقت پکڑا گیا تو وہ ایرانی سفارت خانے کی گاڑی میں سوار نیروبی میں اسرائیلی سفارت خانے کی تصاویر بنا رہے تھے۔
مذکورہ افراد پر دہشت گرد کارروائی کے لیے معلومات جمع کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالت میں پیش کی جانے والی چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ " سید نصر ابراہیمی اور عبدالحسین جولا صفاف اپنے ڈرائیور موسی کیاہ ممبوجا کے ہمراہ اسرائیلی سفارت خانے کی وڈیو بنا رہے تھے تاکہ اسے دہشت گرد کارروائی کے ارتکاب میں استعمال کیا جا سکے"۔
ایجنسی نے وکیل دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تینوں افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا تو انہوں ے خود پر لگائے جانے والے الزامات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
تینوں افراد مزید پوچھ گچھ کے لیے کینیا کی انسداد دہشت گردی پولیس کے یونٹ کی حراست میں ہیں۔
دوسری جانب ایک اور غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے عدالت میں اٹارنی جنرل کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں سفارت کاروں نے دو قیدیوں سے ملاقات کی تھی جو کینیا کے حکام کے پاس دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت زیر حراست ہیں۔
جون 2012 میں کینیا کے حکام نے ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرونی ونگ قدس فورس سے تعلق رکھنے والے دو ارکان احمد ابوالفتوحی اور منصور موسوی کو کینیا میں مغربی مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد انہیں عدالت نے عمر قید کی سزا دے دی۔
تین برس قبل بھی نیروبی میں حکام نے دو دیگر ایرانیوں کو گرفتار کیا تھا جو اسرائیل کے جعلی پاسپورٹ پر کینیا میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے۔
کینیا نے نومبر 2015 میں اعلان کیا تھا کہ ایک "ایرانی جاسوس نیٹ ورک" کو تحلیل کر دیا گیا ہے جو ملک میں دہشت گرد حملوں کی تیاری کر رہا تھا۔

No comments:
Post a Comment