خامنہ ای نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور اس کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں ایران اورہندوستان کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا خير مقدم کرتے ہوئے کہا : ایران اور ہندوستان کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے میں چابہار بندرگاہ بہت ہی اہم اور مفید ہے۔
یہ وہی شہر ہے کہ جس پر افغانستان ، ایران اور ہندوستان ایک بندرگاہ بنانے میں مصروف ہیں ۔
اور یہاں کے بلوچ اہلسنت کے یہ بدقسمتی دیکھ رہے ھو کہ ان کے کیا حال اور کیا زندگی ہے ۔ اگر یہ شہر روافض کے ہوتے تو تم لوگ بھی اسے تباہ یا پسماندہ نہیں دیکھتے کیونکہ ایرانی روافض حکومت اپنے روافض کے لیے جتنا ھوسکے اپنے سارے سرمایہ خرچ کرے گا ۔
لیکن بلوچ اہلسنت کو پس پشت چھوڑ دیا ہے ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی روافض حکومت اہلسنت سے خوش نہیں ۔
آئے روز کئی بے گناہ اہلسنت کو گولی مار کر شہید کیا جاتا ہے یا بے گناہ لوگوں کو پکڑ کر اپنے جیلوں میں ڈال دیتا ہے ۔





No comments:
Post a Comment