Monday, 29 February 2016

ایران میں بحرینی سیاحوں کی بس نذرآتش

خلیجی ریاست بحرین کے وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران میں شرپسندوں نے بحرین کے سیاحوں کو لے جانے والی ایک بس پر حملہ کر کے اسے نذرآتش کر دیا ہے۔
العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق منامہ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ تہران میں سیاحوں کی بس کو نذرآتش کیے جانے کے بارے میں مزید تفصیلات جمع کر رہےہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس کارروائی میں سیاح محفوظ رہے ہیں یا نہیں۔
سوشل میڈٰیا پر سامنے آنے والی ایک فوٹیج میں ایک بس کو نذرآتش کرتے دکھایا گیا ہے،جس کے بعد بحرین نے اس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ 
تاہم ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
خیال رہے کہ بحرین نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے طورپر 4 جنوری کو ایران سے اپنے سفارتی تعلقات منطقع کرتے ہوئے ایرانی سفارتی عملے کو منامہ سے نکال دیا تھا۔

Sunday, 28 February 2016

مقتل وهلاك اثنين من القوات المسلحة الايرانية التابعة للحرس الثوري.

أعلنت حركة. ...مسؤوليتها عن هلاك اثنين من قوات الحرس الثوري الإيراني في منطقة. ..التابعة لمدينة. ...السنية جنوب شرق البلد 
وجاء في البيان الصادر عن المنابع الخبرية التابعة للحركة بأن أبطال من قناصي الحركة بفضل من الله و توفيقه تمكنوا في البارحة الموافق ل26من فبراير/تشرين الثاني 2016 بقنص اثنين من المحتلين الموجودين في قاعدة عسكرية تابعة للحرس الثوري الإيراني ما أدى إلى مقتل وهلاك اثنين من الحراس على القاعدة 
وجاء أيضا في البيان الذي تبنته الحركة بأن اﻷبطال رجعوا سالمين الى معسكرهم

Saturday, 27 February 2016

جیش العدل کے مجاھدین نے کل رات 2016 ۔ 02 ۔ 26 کو ایرانی کے دو(2) فوجیوں کو جہنم وصل کیا

جیش العدل کے مجاھدین نے کل رات کو ایران کے شہر سراوان کے علاقے انجیریان کےمقام پر ایک فوجی کیمپ پر ایرانی فوجی محافظوں کو سنیپر سے نشانہ بنایا ۔
 وھاں گارڈ پر مامور (2) فوجیوں کو جہنم وصل کیا ۔ الحمدللہ جیش العدل کے نشانہ باز مجاھدین نے ایران کی سپاہ پاسداران کے (2)فوجیوں کو سنیپر گن سے نشانہ بنا کر فتل کیا ۔
 مجاھدین جیش العدل الحمدللہ بحفاظت اپنے کمپ میں پہنچ گئے    

Friday, 26 February 2016

ایک اور ایرانی جنرل .. جنرل حمزہ کاظمی حلب شام میں جہنم واصل


سعودیہ کی کامیاب سفارت کاری، ایران افریقا سےبے دخل!

ایرانی مداخلت پربات چیت کے لیے سعودی وزیرخارجہ کا دورہ افریقا
ایران میں چند ہفتے قبل سعودی عرب کے سفارت خانے اور قونصل خانے پربلوائیوں کے حملوں کے بعد افریقا کے ممالک نے تہران کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے۔
 یہ تبدیلی جہاں ایران کی بلا جواز مداخلت کا نتیجہ ہے وہیں اس میں سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری کا بھی کلیدی کردار ہے۔
 حال ہی میں سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے چار افریقی ملکوں کا دورہ کیا۔ 
اپنے اس دورے کے دوران انہوں ںے افریقی سیاسی قیادت سے عرب ممالک میں ایرانی مداخلت پر تفصیلی بات چیت کی۔
سعودی وزیرخارجہ نے افریقا کا دورہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب خطے میں ایران کے اثرو نفوذ میں غیرمعمولی کمی آئی ہے۔
گذشتہ ایک عشرے کے دوران ایران نے چالاکی کے ساتھ افریقی ممالک کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی تھی اور قرن افریقا کے 30 ملکوں میں اپنے سفارتی مشنوں کے اسٹیٹیس کو کئی درجے بڑھا دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی رجیم نے افریقا میں مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی آڑ 
میں بالواسطہ اور براہ راست اپنا اثرو رسوخ بڑھابے کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کا یمن اور شام کی جنگ کی طرف متوجہ ہونے سے تہران کو افریقی ملکوں میں اپنے پاؤں پھیلانے کا موقع ہاتھ آگیا مگر سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری نے ایران کو افریقی ملکوں سے چلتا کردیا گیا ہے۔
سعودی عرب کےفرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سنہ 1970ء کےعشرے کے دوران شاہ فہد بن عبدالعزیز کی پالیسی کو اپناتے ہوئے افریقی ممالک میں اپنا اثرو رسوخ اور تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔
 شاہ فیصل مرحوم نے افریقی ممالک سے اس نہج پر تعلقات استوار کیے کہ اس کے نتیجے میں اسلامی تعاون تنظیم کے قیام اور اسے مزید موثر بنانے کا موقع ملا۔
افریقا سے تعلقات کی بہتری کے لیے جاری مساعی کے تحت سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے سوڈان اور اس کے بعد زامبیا کا دورہ کیا۔ انہوں نے ادیس ابابا میں افریقی یونین کی سربراہ قیادت سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔
عادل الجبیر کا دورہ افریقا اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سعودی عرب کی قیادت میں تین درجن مسلمان ملکوں کے دہشت گردی کے خلاف ایک نئے اتحاد کی بنیاد رکھی ہے۔
 دہشت گردی کی بیخ کنی میں افریقی ممالک بھی کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
سعودی قیادت کے حالیہ افریقی دوروں سے قبل اور تہران میں سعودی سفارت خانے پرحملے کے بعد افریقی ملکوں میں ایران کے اثرو نفوذ میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا مگرافریقا کے بڑے عرب ملکوں سوڈان، جیبوتی، جزرالقمر اور کئی دوسرے ملکوں نے ریاض کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایران سےسفارتی تعلقات منطقع کرلیے تھے۔

Thursday, 25 February 2016

شہید ناصر شاہ بخش


شامی 'کافر' قوم ہے: ایرانی رہبر کی نئی درفطنی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے شامی قوم کو ’’کفار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'تہران ،شام میں کافروں سے نبرد آزما ہے اور ہمارے فوجی شام 
کی سرزمین پرکفار سے اسلام کی جنگ لڑنے کے لیے اجازت طلب کررہے ہیں۔'
خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ کے مطابق خامنہ ای کا یہ متنازع بیان دستوری کونسل کے سیکرٹری جنرل حمد جنتی نے نقل کیا ہے۔ 
ان کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر نے یہ الفاظ گذشتہ ہفتے تہران میں 46 ایرانیوں کے جنازے کے موقع کہے۔ احمد جنتی کا کہنا ہے کہ میں یہ تصور نہیں کرتا تھا کہ سپریم لیڈر اس نوعیت کا بیان علانیہ کسی محفل میں کریں گے۔
 تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے فوجی شام میں اپنے دفاع کی جنگ نہ لڑتے تو یہ جنگ ہمیں ایران کے کرمان شاہ اور دوسرے علاقوں میں لڑنا پڑتی۔
احمد جنتی کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر نے اپنے خطاب میں شام میں جاری لڑائی کو اسلام اور کفر کے درمیان جنگ قرار دیا۔ 
انہوں نے کہا کہ شہادت کا دروازہ عراق ۔ ایران جنگ کے خاتمے پربند ہوگیا تھا اور اسے شام کے محاذ پر دوبارہ کھولا گیا ہے۔
 اب نوجوان شام میں لڑائی کے لیے جانے پر ہم سے اجازت مانگنے پر اصرار کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم لیڈر کی جانب سے شامی قوم کو' کافر' قرار دینے کا بیان کوئی انوکھا نہیں۔
 اس سے قبل بھی وہ متعدد مواقع پر شام میں مرنے والے پاسداران انقلاب کو 'شہداء 'قرار دیتےرہے ہیں جو ان کے بہ قول تکفیریوں کے خلاف اور اہل بیت کے دفاع میں لڑتے ہوئے مارے گے۔
 ان کا کہنا ہے کہ' شام میں شہید ہونے والے فوجیوں کے لیے ہجرت اور جہاد کے دو اجر ہیں۔ '