Thursday, 7 April 2016

صدام کے نائب کی وڈیو.. ایران کے خلاف صف آرا ہونے کی اپیل

عراق کے سابق صدر صدام حسین کے معروف زمانہ نائب عزت الدوری نے باور کرایا ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ عراق اور اس کے عوام کو ایرانی تسلط سے بچانے اور خون ریزی روکنے کے لیے حرکت میں نہ آئی تو عراق میں ایران اور اس کی ملیشیاؤں کی جانب سے جو کچھ کیا جارہا ہے اس کا ذمہ دار امریکا ہی ہوگا۔
العربیہ نیوز چینل کو حاصل ہونے والی خصوصی وڈیو ٹیپ میں الدوری نے عرب ممالک کو پیغام دیا کہ وہ سعودی عرب کے زیرقیادت اتحاد کے پرچم تلے ایران کے سامنے صف آرا ہوجائیں۔
الدوری کے نزدیک یمن کے بحران سے نمٹنے کے واسطے مطلوبہ اقدامات کیے جائیں۔ ان میں ایران اور اس کے ایجنٹوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ماننے پر مجبور کرنا، آئینی حکومت کے سائے میں خلیج تعاون کونسل کے ممالک کی نگرانی کے ذریعے قومی مکالمے کی کانفرنس سے حاصل نتائج پر عمل درامد کرنا، ایران کے ایجنٹوں کے تعاقب کو بڑھا کر ان کی تمام تر صلاحیتوں کو ختم کرنا شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال 17 اپریل کو عراق کے شہر تکریت کے نزدیک جھڑپ میں عزت الدوری کے ہلاک ہونے سے متعلق افواہیں گردش میں آچکی ہیں۔
اس وقت موقع پر بھورے بالوں اور داڑھی والے ایک شخص کی لاش کی تصاویر بھی پھیل گئی تھیں۔ یہ تصاویر صدام حسین کی حکومت کے اہم ترین اہل کار عزت الدوری سے شباہت رکھتی تھیں۔ عزت الدوری 2003 میں صدام حکومت کے سقوط کے بعد سے روپوش ہوگئے تھے۔
تاہم مذکورہ لاش کو حاصل کرنے والے عراقی حکام نے اس کی شناخت کی تصدیق نہیں کی تھی۔ بالخصوص اس اعلان کے بعد کہ اس کے پاس ڈی این اے کا نمونہ نہیں ہے جس کا الدوری کی مبینہ لاش کے ساتھ موازنہ کیا جائے۔

شام میں ہلاک پاکستانیوں اور افغانیوں کی ایران میں تدفین

ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ قم اور اصفہان کے شہروں میں 8 پاکستانی اور افغانیوں کی لاشوں کو دفنا دیا گیا ہے۔ 
ان افراد کو ایرانی پاسداران انقلاب نے تہران کے حلیف بشار الاسد کے دفاع کے لیے شام میں لڑنے کے واسطے بھرتی کیا تھا۔ 
ایرانی میڈیا نے پانچ سال سے جاری جنگ کی بھٹی میں افغان بچوں کو بھی دھکیلے جانے کا انکشاف کیا ہے۔
فارسی زبان کی ایک ویب سائٹ "عراق اور شام میں جنگ کی رپورٹس" نے فیس بک پر بتایا ہے کہ شام میں مارے جانے والے پاکستانیوں کا تعلق "زینبیون بریگیڈ" اور افغانیوں کا تعلق "فاطمیون بریگیڈ" سے ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرونی ونگ فیلق القدس نے جس کی قیادت جنرل قاسم سلیمانی کے ہاتھ میں ہے،
 ان دونوں بریگیڈز کو بنا کر اسلحے سے لیس کیا۔ یہ بریگیڈز پاکستان اور افغانستان کے علاوہ بالخصوص ایران میں مقیم ان ملکوں کے شیعہ باشندوں کو بطور معاون سپاہی بھرتی کرتے ہیں، وہ بھی ایسی جنگوں میں جن کا ان افراد کے ممالک کے مفاد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
ویب سائٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارے جانے والے افغانیوں کے نام محمد باقر مہردادی، روح الله حسینی، مہدی جعفری، بشير ناطقی ہیں جب کہ پاکستانیوں کے نام یہ ہیں گلفام حسین، امجد علی، سرتاج حسين اور مرتضى حسين حيدری۔ ان تمام افراد کا تعلق ایران میں مقیم غیرملکی برادریوں سے ہے۔
ایک دوسری خبر میں اسی ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران افغانی بچوں کو بھرتی کرکے شام میں جنگ کے لیے بھیج رہا ہے۔
 ویب سائٹ نے 17 برس کے دو لڑکوں محمد حسن اکبری اور احمد ترابی کی قبروں کی تصویر بھی جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ دونوں گزشتہ ماہ شام کے صوبے الدرعا کے علاقے بصری الحریر میں مارے گئے۔ 

Tuesday, 5 April 2016

حوثیوں کے لئے بھجوایا اسلحہ امریکی بحریہ نے ضبط کر لیا

امریکی فوج کے ایک بیان کے مطابق یمن کے باغیوں کے لئے ایران سے بھجوائی جانے والی اسلحہ اور گولا بارود کی بھاری کھیپ بحیرہ عرب میں موجود دو امریکی بحری جہازوں نے ضبط کر لی۔
امریکی بحریہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران سے یمن بھجوایا جانے والا اسلحہ لڑاکا بحری جہاز سیروکو اور گرافلی نے گزشتہ ہفتے ضبط کیا۔
 ضبط کئے جانے والے اسلحے میں 1500 کلاشنکوف، 200 راکٹس اور 50 ملی میٹر بیرل کی 21 خودکار بندوقیں شامل تھیں۔