Tuesday, 22 March 2016

شام میں جنگ بندی کے ایام میں متعدد ایرانی فوجی افسر ہلاک

ایران کے خبر رساں اداروں کی فراہم کردہ اطلاعات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شام میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری جنگ بندی کے دوران مختلف علاقوں میں متعدد ایرانی فوجی افسر ہلاک ہوئے ہیں۔
 میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے ایام میں بھی ایرانی فوجی افسروں کی شام میں ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران جنگ کو دانستہ طور پر طول دینا اور جنگ بندی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ جنگ بندی کے ایام میں ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب کے افسران میں کرنل محسن ماندنی شامل ہیں۔ 
کرنل ماندنی کا تعلق وسطی ایران کے ضلع فارس کے سبندان شہر سے ہے۔ انہیں شام پہنچے 35 دن ہوئےتھے اور وہ 3 روز پیشتر لڑائی کے دوران ہلاک ہوگئے۔
پاسداران_انقلاب کے دو دیگر فوجی افسر جن کا تعلق فوج کی ’’انصار مہدی‘‘ یونٹ سے تھا بھی شام میں جنگ بندی کےایام میں ہلاک ہوئے۔
 ان کی شناخت کرنل داؤد مراد خانی اور رحمانی بہرامی کے ناموں سے کی گئی ہے۔ وہ شام میں جنگ بندی کے کچھ وقت بعد شمالی حلب میں لڑائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔
گذشتہ ہفتے شام میں مارے جانے والے ایک فوجی افسر کی شناخت مجید نام آور کے نام سے بھی کی گئی ہے۔ مجید آور پہلے بھی شام میں لڑائی میں شریک رہے ہیں مگر زخمی ہونے کے بعد انہیں واپس تہران لے جایا گیا تھا۔ علاج کے بعد وہ دوبارہ شام آگئے تھے۔
ایران کی ایک نیوز ویب سائیٹ ’’گلستان 24‘‘ کے مطابق نان آور نامی فوجی عہدیدار پاسداران انقلاب میں کئی اہم عہدوں پرکام کرچکاہے۔ اس نے سنہ 2009ء میں اصلاح پسندوں کی سبز انقلاب تحریک کچلنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا تھا۔

صدام حسین کا تختہ الٹنے میں بھی ایران نے امریکا کی بھرپور مدد کی‘

عراق میں امریکا کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر جارج_بش کے دور میں ایران اور امریکا کی حکومت کے درمیان عراق کے معاملے پر باہمی تعاون قائم رہا ہے۔
 ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2006ء میں امریکی حکومت اور ایرانی پاسداران_انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم ’’فیلق القدس‘‘ کے سربراہ جنرل قاسم_سلیمانی کے درمیان رابطے قائم تھے اور وہ عراق کی سیاسی صورت حال کے بارے میں باہم صلاح مشورہ بھی کرتے رہے ہیں۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی اور امریکا کے درمیان رابطے نہ صرف ما بعد صدام قائم رہے بلکہ صدام حسین کا تختہ الٹنے میں بھی ایران نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ سنہ 2003ء میں عراق پر امریکی یلغار سے قبل اور اس کے بعد واشنگٹن اور تہران حکام کے درمیان خفیہ ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔
سابق امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ امریکا اور جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان بالواسطہ تعاون سنہ 2006ء میں اس وقت بھی ہوا جب امریکا نے وزیراعظم ابراہیم الجعفری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔
 اس سے قبل سنہ 2003ء کے اوائل میں بھی امریکا اور ایرانی حکام کے درمیان کئی خفیہ ملاقاتیں ہوئیں جن میں صدر صدام_حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے باہم صلاح مشورہ کیا گیا۔
امریکی اخبار لکھتا ہے کہ زلمے خلیل زاد کا بیان امریکی صدر جارج بش کے ایران بارے خیالات سے متصادم دکھائی دیتا ہے کیونکہ ایران جارج بش کو ’شر‘ کا محور قرار دیتا رہا ہے۔
 زلمے خلیل زاد نے کہا کہ سنہ 2006ء میں اس وقت کے وزیراعظم ابراہیم الجعفری ملک میں فرقہ واریت کی روک تھام میں ناکام رہے تھے امریکیوں کو بھی اس بات پر تشویش ہوئی تھی۔
 یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جعفری کو ہٹانے کے لیے ایران سے صلاح مشورہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراق کے سیاسی رہ نماؤں نے ابراہیم الجعفری کو امریکا اور ایران کےدرمیان خفیہ روابط کے بارے میں آگاہ کیا اور ساتھ ہی بتایا کہ جلد ہی جنرل قاسم سلیمانی بغداد پہنچ رہے ہیں تاکہ انہیں اقتدار سے علاحدہ ہونے پرقائل کرسکیں۔
انہوں نے بتایا اپریل سنہ 2006ء میں بغداد کے انتہائی حساس علاقے گرین زون میں جنرل قاسم سلیمانی کو پہنچنے کی اجازت دی گئی۔ 
گرین زون کی سیکیورٹی کی ذمہ داری امریکی اسپیشل فورس اور عراقی ایلیٹ فورس کے پاس تھی۔ 
جنرل قاسم سلیمانی نے امریکا کے کہنے پر ابراہیم الجعفر کو عہدہ چھوڑنے نوری المالکی کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ وسونپے جانے پر قائل کرلیا تھا۔
زلمےخلیل زاد کے مطابق اگرچہ جنرل سلیمانی کی عراق آمد امریکا کے صلاح مشورے سے ہوئی تھی مگر وہ یہی سمجھتے رہے کہ امریکا کو ان کی بغداد آمد کا کوئی علم نہیں ہے۔
سابق امریکی سفیر کا مزید کہنا تھاکہ سنہ 2003ء کے اوائل میں جب امریکیوں نے عراق پر فوج کشی کا پروگرام ترتیب دینا شروع کیا تو اس وقت بھی بش انتظامیہ کے ایرانی حکام کے ساتھ صلاح مشورے ہوئے۔ 
خفیہ طور پر ہونے والی ان ملاقاتوں میں صدام حسین کا تختہ الٹںے اور اس کے بعد عراق کےسیاسی نقشہ راہ پر بات چیت کی گئی تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق زلمے خلیل زاد جلد ہی اپنی ایک کتاب بھی شائع کرنےوالے ہیں جس میں وہ عراق اور افغانستان میں امریکا کے سفیر کے طورپر دی گئی خدمات اور اس عرصے میں پیش آنے والے اہم واقعات کی تفصیلات بیان کریں گے۔
 اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق کے معاملے پر جارج بش اور ایران کے درمیان تعاون کی خبریں نہایت اہمیت کی حامل ہیں اور ان سے ایران اور امریکا کے درمیان خفیہ گٹھ جوڑ کا بھی پتا چلتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی امریکی سفیر نے عراق جنگ کے حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کی نشاندہی کی ہے۔ 
اس سے قبل ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا نے افغانستان اور عراق پرحملوں سے قبل ایران سے رابطہ کیا تھا۔

Monday, 21 March 2016

سیکیورٹی سے متعلق الزامات، سعودی عرب میں 13 ایرانی گرفتار

سعودی_عرب کے سیکیورٹی حکام نے حالیہ ایام میں نو ایرانی شہریوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر ملک میں سیکیورٹی سے متعلق مسائل میں تفتیش کی جا رہی ہے۔
العربیہ ٹی وی کے مطابق ریاض وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی سے متعلق مسائل میں دو ہفتوں کےدوران 9 ایرانیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سات ایرانی باشندوں کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا جب دو افراد کی گرفتاری پچھلے منگل کو عمل میں لائی گئی تھی۔ 
گرفتار کیے گئے ایرانیوں کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں

Thursday, 17 March 2016

مجاھدین جیش العدل



تہران نے ’وفادار‘ حوثیوں سےعلاج کی مد میں 14 ملین ڈالرمانگ لیے

ایران ایک جانب یمن میں شیعہ مسلک کے حوثیوں کو حکومت کےخلاف استعمال کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے اور دوسری طرف یمن میں لڑائی کے دوران زخمی ہونے والے انہی ایرانی ’وفاداروں‘ سے ان کے علاج کی بھاری فیسیں بھی وصول کی جا رہی ہیں۔
عرب ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے زخمی ہونے کے بعد تہران لائے گئے حوثی باغیوں سے کہا ہے کہ وہ علاج کی مد میں 14 ملین ڈالر کی رقم ادا کریں۔ 
ایران کی جانب سے حوثی باغیوں سے علاج کے اخراجات وصول کرنا حیران کن ہے، کیونکہ یمن میں حکومت کے خلاف بغاوت پراٹھانے اوران کی مالی اور معنوی مدد کرنے میں ایران پیش پیش رہا ہے۔ 
مگر یہاں ایران کا دوغلا پن ثابت ہورہا ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب یمنی عوام کی مفت میں ہرممکن مدد کی کوشش کررہا ہے۔
جنگ میں زخمی ہونے والے افراد کا بلا تفریق سعودی عرب کے اسپتالوں میں علاج کیا گیا۔ گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے حوثیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے صعدہ گورنری میں سعودی عرب نے 220 ٹن غذائی اور طبی سامان ارسال کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ سعودی عرب ایران کی طرح طوطا چشم نہیں ہے۔ 
ایران نے اپنے لیے پراکسی وار لڑنے میں زخمی حوثیوں سے بھی ان کے علاج کے پیسے مانگ کر اپنی بدنیتی ظاہر کر دی ہے۔

Wednesday, 16 March 2016

تہران کے بازار میں زور دار دھماکا، 39 افراد زخمی

ایران کے دارالحکومت تہران کا ایک مصروف بازار بدھ کی شب زور دار دھماکے سے لرز اٹھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں 39 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
دارالحکومت کے محکمہ شہری دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکا گیس کے ایک سلنڈر پھٹنے سے ہوا۔
میڈیکل ذرائع نے بتایا کہ جائے حادثہ کی جانب 21 ایمولینس گاڑیاں روانہ کر دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ 20 مارچ کو شروع ہونے والے نئے فارسی سال کی مناسبت سے ان دنوں بازاروں میں شدید رش ہوتا ہے اور دھماکے کی جگہ موجود بازار بھی ایسی ہی کیفیت میں تھا۔