Monday, 14 March 2016

پوتین کا شام سے روسی فورسز کے انخلاء کا حکم

روسی صدر ولادی میر پوتین نے وزارت دفاع کو شام سے منگل سے روسی افواج کے انخلاء کا حکم دیا ہے۔
ولادی میر پوتین نے ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان میں وزیر دفاع سرگئی شوئیگو سے کہا ہے کہ ''ہماری وزارت دفاع اور مسلح افواج کو جو کام سونپا گیا تھا،وہ مجموعی طور پر مکمل کر لیا گیا ہے۔
اس لیے میں وزارت دفاع کو حکم دیتا ہوں کہ وہ عرب جمہوریہ شام سے کل (منگل) سے ہماری مسلح افواج کے مرکزی حصے کو واپس بلالیں''۔
کریملن نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ صدر پوتین اور شامی صدر بشارالاسد نے سوموار کے روز ٹیلی فون پر گفتگو میں شام سے روسی فورسز کے انخلاء سے اتفاق کیا ہے۔
بیان کے مطابق :''روسی صدر نے کہا کہ شام میں روس کی مسلح افواج کا کام مکمل ہوگیا ہے۔
اس لیے روسی فضائیہ کے دستے کے مرکزی حصے کو واپس بلانے سے اتفاق کیا گیا ہے''۔
دونوں لیڈروں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ روس شام میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ایک فوجی اڈا اپنے پاس برقرار رکھے گا۔
صدر پوتین نے اپنی وزارت خارجہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ شام امن معاہدے کی ثالثی کے لیے روس کا کردار وضع کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کے جنگ زدہ ملک میں کردار سے امن عمل کے لیے ضروری حالات پیدا ہوئے ہیں۔

ایرانی فوج کے برگیڈیئر جنرل حسن علی شمس آبادی کی حلب شام سے جہنم روانگی


Thursday, 3 March 2016

شام میں 6 پاکستانی روافض اور 4 لبنانی روافض دہشت گرد ہلاک ھو گئے


کویت: حزب اللہ کے معاونین کے خلاف کریک ڈاؤن

کویتی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ سیکورٹی کے خصوصی اداروں نے ملک میں لبنانی تنظیم حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے غیر فعال گروپوں کے خلاف مہم شروع کردی ہے..
 ان گروپوں کے ارکان میں ملکی اور غیرملکی دونوں شامل ہیں۔
کویتی روزنامے القبس نے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کویتی حکام اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعاون میں مصروف ہیں تاکہ حزب اللہ کی مالی سپورٹ میں ملوث افراد اور تنظیم کی قیادت کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جاسکے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ملوث افراد کو آئندہ چند روز میں طلب کرکے انہیں حزب اللہ کے ساتھ نظریاتی یا سیاسی یا مالی معاملہ بندی پر پابندی سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مصدقہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ کی صفوں میں شامل ہوکر لڑنے والوں میں کویتی شہری نہیں ہیں تاہم ایسے شہری موجود ہیں جو سماجی اور سیاسی ہمدردی کے لحاظ سے اسی فکر کے حامل ہیں۔

Wednesday, 2 March 2016

خلیج تعاون کونسل نے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا

چھے عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے دیا ہے۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ کونسل نے یہ فیصلہ حزب اللہ کی معاندانہ سرگرمیوں اور خلیج میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے بعد کیا ہے۔
سعودی عرب نے گذشتہ ماہ لبنان کے لیے تین ارب ڈالرز مالیت کی فوجی امداد معطل کردی تھی۔اس نے یہ فیصلہ بیروت حکومت کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین کے حملے کی مذمت نہ کرنے پر کیا تھا۔سعودی عرب کا کہنا تھا کہ لبنان نے کسی بھی فورم پر ایرانی کارروائیوں کی مذمت نہیں کی تھی۔
سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو لبنان جانے پر انتباہ بھی جاری کیا تھا۔اس فیصلے کے بعد خلیجی عرب ریاستوں کویت ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے حزب اللہ کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں اور اپنے شہریوں پر لبنان جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔یمن میں حزب اللہ کے جنگجو حوثی باغیوں کی عسکری معاونت کررہے ہیں اورانھیں یمنی فوج سے لڑنے کے لیے اسلحہ اور جنگجو مہیا کررہے ہیں۔
جی سی سی میں بحرین ،کویت ،اومان ،قطر ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔سعودی عرب نے اگلے روز حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں چارکمپنیوں اور تین لبنانیوں پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔سعودی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''سعودی مملکت تمام دستیاب وسائل اور ذرائع کے ساتھ نام نہاد حزب اللہ کی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی''۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے پہلے بھی حزب اللہ کے متعدد سینیر عہدے داروں پر مشرق وسطیٰ بھر میں طوائف الملوکی اورعدم استحکام پھیلانے سے متعلق سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزامات میں پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

آپریشن نہ کیا جاتا تو یمن ایران کا حصہ ہوتا: یمنی صدر

یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ 85٪ یمن کو حوثی باغیوں اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں سے آزاد کرالیا گیا ہے۔
سعودی روزنامنے "عكاظ" کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے باور کرایا کہ اگر سعودی عرب کے زیرقیادت عرب اتحاد کا فوجی آپریشن "عزم کی آندھی" نہ شروع ہوتا تو یمن ایران کا حصہ بن چکا ہوتا ... اور یہ سب یمنی معیشت کے لیے ایرانی امداد کے مقابل عمل میں آتا۔
یمنی صدر نے حوثیوں کے لیے ایرانی اسلحہ لے کر جانے والے سمندری جہازوں کے پکڑے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران پورے جزیرہ عرب کو نگلنے کی کوششیں کرہا ہے۔
انہوں نے اس موبائل فون کے قصے کا بھی ذکر کیا جو ان کا حوثی مشیر اپنے دفتر میں بھول گیا تھا اور اس کے ذریعے حکومت کو انقلاب کے منصوبے کی تفصیلات کا علم ہوا۔
اس دوران منصور ہادی نے یقین سے کہا کہ معزول صدر علی عبداللہ صالح کا سعودی عرب سے تعلقات درحقیقت سیاسی بلیک میلنگ کا تعلق تھا۔ انہوں نے اربوں ڈالروں کی منی لانڈرنگ میں صدر صالح کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا... اور انہیں حوثیوں اور ان کے حلیفوں کے ساتھ مل کر صنعاء کے سقوط کا بنیادی سبب قرار دیا۔
یمنی صدر نے خود کو ہلاک کیے جانے کے حوالے سے بے خوفی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں خلیجی ممالک کے تمہیدی منصوبے کو غائب کرانے کے لیے پانچ مرتبہ قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

Tuesday, 1 March 2016

نائیجیری صدر کا افریقا میں ایرانی سرگرمیوں پر انتباہ

نائیجیریا کے صدر محمد بخاری نے افریقا میں ایران کی مشنری سرگرمیوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی معلومات پھیلائی جارہی ہیں.
 جن کا مقصد تقسیم ،فرقہ واریت اور بد امنی کے بیج بونا ہے اور اس سے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔
نائیجیری صدر نے ایران کی سرگرمیوں کے خلاف یہ نیا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افریقا میں اپنے انقلابی نظریے کو فروغ دینے کی کوشش کررہا ہے۔