Tuesday, 9 February 2016

بشار الاسد کا ایرانی ملاؤں کی پگڑی میں کارٹون


ہیکروں نے شامی صدر کے چاہنے والوں کو آگ لگا دی
ہیکرز وہ عجیب وغریب کردار ہیں جنہوں نے عرصہ دراز سے دنیا بھر کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں بعض نامعلوم ہیکرز نے اقتدار پر زبردستی براجمان شامی صدر بشار الاسد کا ایک مضحکہ خیز کارٹون پوسٹ کیا ہے۔ شامی صدر کے چاہنے والوں کے ایک مشہور ویب پیج پر پوسٹ کیے جانے والے کارٹون میں بشار الاسد کو وہ پگڑی پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے جو ایران میں ملا حضرات پہنتے ہیں... اور ساتھ ہی یہ تحریر بھی لکھی گئی ہے "ایران کی حجت شیطان بشار الاسدی"۔
یاد رہے کہ بشار حکومت کے انتہائی ہمنوا شمار کیے جانے والے ویب پیج پر مذکورہ کارٹون پوسٹ کرنے والے ہیکروں نے شامی صدر کا ایک دوسرا کارٹون بھی نشر کیا ہے... جس میں انہیں اپنی فوجی وردی کے بغیر دکھایا گیا ہے اور وہ وردی کو پیٹھ دکھا کر بھاگ رہے ہیں ... اس کارٹون کو "پھوٹ" کا عنوان دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ ویب پیج شامی اپوزیشن کے عناصر کا نشانہ بنتا رہا ہے جو کئی مرتبہ اس کو ہیک کرنے اور اس پر مکمل قبضہ جمانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ ماہ اس ویب پیج کو ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں تین مرتبہ ہیک کیا گیا۔
کارٹون میں بشار الاسد کو ایرانی ملاؤں کی پگڑی میں دکھانے کا مقصد اس حقیقت کا اظہار ہے کہ شامی صدر مکمل طور پر ایران کے حکمرانوں کے آگے سر جھکا چکے ہیں۔ ساتھ ہی کارٹون میں تحریر تبصرے میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بشار الاسد اس درجے تک پہنچ گئے ہیں جہاں ان کو اسی طور "رتبہ" ملا ہے جس طرح انتہا پسند ریاست (ایران) میں بڑے ملاؤں اور مذہبی شخصیات کو ملتا ہے۔
ایران کی معروف یونی ورسٹی پروفیسر آذر نفیسی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "میں جن چیزوں کے بارے میں خاموش تھی" میں لفظ "ملا" کی مخصوص تعریف پیش کی ہے۔ وہ اپنی کتاب کے صفحہ 472 پر لکھتی ہیں : "ملا ایک اسلامی خطاب ہے جو ایران میں مقامی مسلم مذہبی شخصیات یا مساجد کے سربراہوں کے لیے بولا جاتا ہے ... اس کے علاوہ یہ اس مسلم مذہبی شخصیت کی کسر شان کے طور پر بولا جانا والا خطاب بھی ہوسکتا ہے جس نے مطلوبہ (دینی) تعلیم حاصل نہیں کی یا پھر مذہبی شخصیات کے ڈھانچے میں اس کا کوئی مناسب مقام نہ ہو"۔

والدہ کے جنازے پر حملہ، بشارالاسد محفوظ رہے

روس کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے صدر بشار_الاسد پر ان کی والدہ کے جنازے میں شرکت کے دوران قاتلانہ حملہ ہوا ہے تاہم صدر اسد حملے میں محفوظ رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے روسی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر بشار الاسد کی والدہ انیسہ مخلوف کا ان کے آبائی شہر اللاذقیہ کے القرادحہ قصبے میں جنازے کا جلوس جا رہا تھا کہ اس دوران کچھ فاصلے پر راکٹ گرے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پرآنے والے بیانات میں بتایا گیا ہے کہ صدر بشار الاسد کی والدہ کے جنازے کے جلوس کو ’احرارالشام‘ نامی عسکری گروپ نے نشانہ بنایا تاہم اس کارروائی میں صدر اسد محفوظ رہے ہیں البتہ ایک فوجی اہلکار سمیت کم سے کم چار افراد مارے گئے۔
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق’’احرار الشام‘‘ نے انیسہ مخلوف کے جنازے کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم نے ’’گراڈ‘‘ میزائلوں کے ذریعے بشارالاسد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
بشارالاسد کی حمایت میں سرگرم سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کے صحفات میں بتایا گیا ہے کہ القرادحہ کے مقام پر گرنے والے راکٹوں سے چار افراد مارے گئے جن میں سے ایک کی شناخت فداء الخطیب کے نام سے کی گئی ہے۔ فداء ایک اسپتال کے قریب راکٹ گرنے سے مارا گیا۔ اسی طرح دوسرے راکٹ حملے میں رنا خیر بک نامی ایک لڑکی ہلاک ہوگئی۔ صدر کے باڈی حفاظتی عملے میں شامل ایک اہلکار اور احمد اسماعیل نامی ایک مقامی شخص کی بھی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق القرادحہ میں انیسہ مخلوف کی نماز جنازہ کے جلوس کے دوران کم سے کم 5 راکٹ داغے گئے۔ بعض سوشل صفحات پران کی تعداد پانچ سے زیادہ بتائی جاتی ہے تاہم زخمیوں کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں ہوسکا ہے۔

Monday, 8 February 2016

دمشق میں شیعہ جنگجوؤں کے‘‘لبیک یا خامنہ ای’’ کے نعرے

ایرانی خبر رساں اداروں نے ایک تازہ ویڈیو نشر کی ہے جس میں شمالی شام کے جنگ زدہ علاقے حلب میں جمع ایرانی، افغان، پاکستانی اور لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ’’لبیک یا خامنہ ای’’ کے نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے پرچم تلے شام میں لڑنے والے یہ جنگجو حلب کے نواحی علاقے ‘‘الزھراء’’ میں جمع ہیں اور اپنی فتح کا جشن منا رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فوٹیج میں شیعہ ملیشیا کے شدت پسندوں کو قصبے کو فتح کرنے کا جشن مناتے دیکھا جا سکتا ہے۔
 انہوں نے ہاتھوں میں ایرانی لیڈروں بالخصوص آیت اللہ علی خامنہ ای، ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی تصاویر بھی اٹھا رکھی ہیں اور ساتھ ہی وہ ایران زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔
 شیعہ ملیشیا کی جان سے حلب میں یہ جشن ایک ایسے وقت میں منایا گیا ہے شامی اور روسی فوج کی وحشیانہ بمباری اور شیعہ اجرتی قاتلوں کی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پچھلے ایک ہفتے میں شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے 40 ایرانی فوج اور غیرسرکاری جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
 مقتولین میں پاسداران انقلاب کے دو سینیر افسر قاسم بور اور اسماعیل شجاعی کے نام بھی شامل ہیں۔ انہیں شامی باغیوں نے حلب کے نبل اور الزھراء کے علاقے میں لڑائی میں ہلاک کیا۔

سعودی عرب : ایران کے 27 مشتبہ جاسوسوں کا ٹرائل

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں ایک فوجداری عدالت میں ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں ستاَئیس مشتبہ افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔
ان مشتبہ افراد میں زیادہ سعودی شہری ہیں ۔انھیں 2013ء میں الریاض ،مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور مشرقی صوبے سے کریک ڈاؤن کارروائیوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔
سعودی عرب کے محکمہ قومی سلامتی کے تحت ادارہ تفتیس وتحقیق(بیورو آف انویسٹی گیشن) اور پبلک پراسیکیوشن نے ان مشتبہ افراد کے خلاف فردِ الزامات تیار کر لی ہے۔
بیورو کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ملزموں کے خلاف ایران کے لیے جاسوسی میں ملوّث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
ان پر سعودی عرب کی متعدد اہم تنصیبات کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کرنا کا الزام بھی عاید کیا گیا ہے۔
یادرہے کہ سعودی وزارت داخلہ نے 19مارچ 2013ء کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں اٹھارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی۔
ان میں سولہ سعودی ،ایک لبنانی اور ایک ایرانی تھا۔ان میں سے لبنانی کو مناسب شواہد نہ ہونے کی بنا پر بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔
اس کے دوماہ بعد سعودی وزارت داخلہ نے دس مزید مشتبہ افراد کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ان میں ایک ترک ،ایک لبنانی اور آٹھ سعودی شہری تھے۔اس طرح ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد ستائیس ہوگئی تھی۔
وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق ان میں سے اکیس نے ایران کے لیے سعودی عرب کی جاسوسی کرنے کا اعتراف کر لیا ہے اور انھوں نے قانونی طور پر بھی اپنے اعترافی بیانات ریکارڈ کرادیے ہیں۔

Saturday, 6 February 2016

ایرانی جیلوں میں سنی قیدیوں سے ظالمانہ سلوک کی تصدیق


شام : بریگیڈ کمانڈر سمیت ایرانی پاسدران کے مزید 24 ارکان ہلاک

شام کے شہرحلب کے شمال میں دو قصبوں پر حملے کی کارروائی میں ایرانی پاسداران_انقلاب کے 24 ارکان ہلاک ہوگئے۔ شامی حکومت نواز قصبوں "نبل" اور "الزہراء" میں آپریشن کے دوران مارے جانے والوں میں، ایرانی شہر نیشاپور میں پاسداران انقلاب کی آرمرڈ بریگیڈ 21 کے کمانڈر میجر جنرل محسن قاجاریان بھی شامل ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام زمینی فوج کے سربراہ محمد پاکپور نے ایک سرکاری بیان میں قاجاریان کی موت پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔ پاکپور کے مطابق محسن قاجاریان "شام کی سرکاری فوج کی معاونت اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں ایک مشاورتی مشن کے دوران ہلاک ہوئے"۔
"فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق ان نئی ہلاکتوں میں ایرانی شہر قم میں آرمرڈ بریگیڈ 17 سے تعلق رکھنے والے پاسداران انقلاب کے دو افسران محمد حسین سراجی اور سجاد روشنائی بھی ہیں جو لڑائی کے دوران مارے گئے۔
ان کے علاوہ 7 دیگر ارکان کو بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان کے نام رضا عادلی، علی حسین کاهكش، علی رضا حاجی وند، فیروز حمیدی‌ زاده، محمد ابراهیم توفیقیان، مرتضی ترابی اور جواد محمدی ہیں۔
ایرانی ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ ان افراد میں سے اکثریت کا تعلق باسیج فورس کے زیرانتظام یونٹ "فاتحين" سے ہے۔ ان کو متعدد فوجی تربیتوں کے مکمل کرنے کے بعد شام بھیجا گیا تھا۔
یاد رہے کہ پاسدران انقلاب اور شیعہ افغان اور عراقی ملیشیائیں انقلابیوں کی بریگیڈز کے ساتھ سخت لڑائی کے بعد، حلب کے شمال میں واقع دو قصبوں نبل اور الزہراء میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئیں تھیں۔ اس دوران روسی طیاروں کے شدید حملوں کا سلسلہ جاری بھی جاری رہا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایسی تصاویر اور وڈیو کلپس نشر کیے ہیں جن میں پاسداران انقلاب اور ملیشیاؤں کے افغان، عراقی اور پاکستانی ارکان کو نبل اور الزہراء قصبوں کے اندر دیکھا جاسکتا ہے۔
دونوں قصبوں کے اطراف جمعہ کی صبح تک لڑائی کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران انقلابیوں نے "نبل" کے احاطے میں شامی فوج کے اہل کاروں سے بھری ایک بس کو ٹینک شکن میزائل ٹاؤ کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی منشیات کی تجارت ثاب


معروف ایرانی محقق اور مصنف مجید محمدی نے اپنے ایک مضمون میں منشیات کی تجارت میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کردار کا انکشاف کیا ہے۔ یہ مضمون فارسی زبان کی ایک اہم ویب سائٹ نے پوسٹ کیا ہے۔
ایرانی محقق نے اپنے مضمون میں کئی سوالات اٹھائے ہیں... مثلا : کیا پاسداران انقلاب کو منشیات کی تجارت کی ضرورت ہے؟ کیا پاسداران کے عقائد منشیات کی تجارت کی راہ میں حائل ہوتے ہیں؟ کیا پاسداران کے پاس اتنی لیاقت ہے جو انہیں منشیات کی تجارت کے قابل بناتی ہے؟ اور آخر میں کیا ایسے ثبوت اور شواہد موجود ہیں کہ جو اس گھناؤنی تجارت میں پاسداران کا ہاتھ ہونے کا انکشاف کرتے ہیں؟

نگرانی اور احتساب کے بغیر

انسداد منشیات کی ایرانی کمیٹی کے نائب سربراہ نے 7 جنوری 2015 کو سرکاری نیوز ایجنسی "ارنا" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کی تصدیق کی تھی کہ ایران میں منشیات کی تجارت کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔
ادھر محقق مجید محمدی کے مطابق، پاسداران انقلاب اور دیگر فورسز بالخصوص فیلق القدس کو ایران اور خطے میں اپنے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بڑے مالی ذرائع کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ایسا پہلو ہے جس کی بنیاد پر ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ مذکورہ عناصر کا اس تجارت میں کوئی ہاتھ نہیں... خاص طور پر یہ کہ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایرانی حکومت کی عسکری سرگرمیوں کا اور بشار الاسد حکومت، حزب اللہ اور حوثیوں کے لیے اس کی سپورٹ کا سلسلہ نہیں رکا۔ اس امر کے باعث پاسداران انقلاب، ایرانی پارلیمنٹ کے منظور کردہ بجٹ کے علاوہ منشیات کی تجارت جیسے اضافی مالی ذرائع تلاش کرتی ہے۔
محقق نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ملک میں اسمگلنگ کے سامان کی زیادہ تر منڈیوں پر پاسداران انقلاب اور خاص طور پر فیلق القدس کا کنٹرول ہے۔ اس کے بعد وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک ایسے ملک میں جو پوری طرح اس فوجی ادارے کے سامنے سرنگوں ہے، منشیات کی انتہائی منافع بخش تجارت سے چشم پوشی کرنا کیسے ممکن ہے... اس لیے پاسداران انقلاب کی طرف سے گرین سگنل کے بغیر اس کی آنکھوں کے سامنے اتنی آسانی سے اسمگلنگ کا ہونا ممکن نہیں۔
​شرعی رخصت کے ساتھ منشیات کی تجارت
محقق نے یہ بھی سوال پیش کیا ہے کہ جب لاطینی امریکا میں بائیں بازو کی طاقتیں اور افغانستان میں شدت پسند عسکری عناصر منشیات کا کاروبار کر سکتے ہیں تو پھر ان ہی فضاؤں میں رہنے والے شیعہ گروپوں کو کون سی چیز اس کام سے دور رکھ سکتی ہے ؟
وہ مزید لکھتے ہیں کہ " لاطینی امریکا میں بائیں بازو والوں کی جانب سے منشیات کی امریکا اسمگلنگ کا مقصد سامراجیت کو تباہ کرنا ہے۔ اس لیے یہ تو فطری بات ہے کہ ان کے شیعہ ساتھی بھی ایرانی سرزمین کے راستے افغانستان سے یورپ منشیات کی اسمگلنگ پر آنکھیں موند کر رکھیں۔ بالخصوص ایران میں تو اگر نظام کو برقرار رکھنے کا ناگزیر تقاضہ آجائے تو اس کی خاطر توحید اور نماز پر بھی عمل روک دینے کی اجازت ہے۔ ایسے میں مذہبی حلقوں سے منشیات کی تجارت کے جواز کا شرعی فتوی حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں۔ یہ بات تو ویسے بھی معروف ہے کہ مذہبی حلقے افیون کو اور اسی طرح نشہ آور صنعتی لوازمات کو حرام نہیں قرار دیتے۔

پاسداران انقلاب کے اختیارات

مضمون میں ان اختیارات اور اہلیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو پاسداران
 انقلاب کے لیے منشیات کی تجارت اور کسی بھی دوسرے سامان کی اسمگلنگ کو آسان بناتے ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بندرگاہیں اور سمندری گزرگاہیں غیر سرکاری طور پر پاسداران کے قبضے میں ہیں اور یہ کسی بھی سرکاری ادارے کے زیرنگرانی نہیں، اس کے علاوہ ایرانی ہوائی اڈوں کی سیکورٹی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کو ان مقامات پر کسی بھی کام کی کھلی آزادی حاصل ہے۔ پاسداران انقلاب کی ملک کے تمام علاقوں، جامعات، اسکولوں، مساجد، امام بارگاہوں اور سرکاری دفاتر میں مخلتف شاخیں ہیں۔ اسی طرح وہ ایران میں پہاڑی علاقوں، جنگلوں، چٹیل میدانوں اور صحراؤں پر بھی مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
ثبوت کیا ہیں ؟
مجید محمدی کے مطابق منشیات کی تجارت میں پاسداران انقلاب کے ملوث ہونے کے متعدد ثبوت اور شواہد ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایرانی اعلیٰ اہل کاروں اور پاسداران انقلاب سے علاحدہ ہو جانے والے ارکان کے بیانات کو بنیاد بنایا ہے۔
ایران کے ایک سابق اٹارنی جنرل "دری نجف آبادی" نے 2 اگست 2008 کو فارسی زبان کے اخبار "رسالت" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ " اگر مغربی ممالک نے ایٹمی توانائی کے شعبے میں ایران کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ایران اپنی سرزمین کے ذریعے نہیں بلکہ سمندر اور دیگر پوائنٹس کے ذریعے نشہ آور لوازمات (منشیات) کے گزرنے کی اجازت دے سکتا ہے... اس لیے کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کو روکیں اور لاشوں کا نذرانہ پیش کریں جب کہ افغانستان ہزاروں ہیکٹر زمین پر افیون کی خشخاش کاشت کر رہا ہے"۔
اس بیان سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنی سرزمین کے راستے منشیات کی یورپ اسمگلنگ کی اجازت دی چوں کہ مغربی ممالک نے ایرانی ایٹمی پروگرام کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بی بی سی (فارسی سروس) نے 7 مارچ 2012 کو اپنی ایک خبر میں بتایا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم فیلق القدس کے ایک بڑے کمانڈر جنرل غلام رضا باغبانی کا نام منشیات کی اسمگلنگ میں شریک ہونے کے الزام میں زیرپابندی شخصیات کی فہرست میں شامل کر لیا۔
17 نومبر 2011 کو پاسداران انقلاب سے علاحدہ ہو جانے والے ایک افسر "سجاد حق پناہ" نے ٹائمز اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ منشیات کی تجارت اور اسمگلنگ ایران میں پاسداران انقلاب کی قیادت کے درمیان پھیل چکی ہیں، اور ان میں بعض کمانڈر تو براہ راست ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
افیون کی ہیروئن میں تبدیلی
سجاد حق پناہ کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب افغانستان سے اسمگل شدہ افیون لے کر اسے ایران میں ہیروئن اور مارفین میں تبدیل کرتی ہے۔ اس کے بعد جرائم پیشہ گینگز کی معاونت سے اسے دنیا کے مختلف حصوں میں اسمگل کرا دیتی ہے۔
حق پناہ نے جو علاحدگی سے قبل پاسداران انقلاب میں انفارمیشن سیکورٹی کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے، بتایا کہ "پاسداران انقلاب (منشیات کی اسمگلنگ کے لیے) لوجسٹک آپریشنز کے لیے (اپنی خصوصی) آمدورفت کی سمندری اور فضائی کمپنیوں سے استفادہ کرتی ہے، اس طرح اسے لا محدود اختیارات حاصل ہیں"۔
منشیات کی اسمگلنگ میں پاسداران انقلاب کے بڑھتے ہوئے کردار نے ایرانی جنرل انسپیکشن آرگنائزیشن کے سربراہ مصطفی بور محمدی کو بھی احتجاج پر مجبور کر دیا۔ محمدی نے جنوری 2013 میں روزنامہ "تجارت فردا" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ " اس میں کوئی شک نہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ کسی بھی شکل میں ہو وہ انسانیت کے ساتھ غداری ہے۔ اور اس میں کوئی فائدہ اور بھلائی نہیں ہے کہ ایک ادارہ (پاسداران انقلاب) ایسا کام کرے۔ جو کوئی بھی ایسا کر رہا ہے اور اس کے بارے میں سوچ رہا ہے تو بلا شک و شبہ وہ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ہم اس میں کسی قسم کی بھی بھلائی، برکت اور منفعت خیال نہیں کریں گے"