Saturday, 6 February 2016

ایرانی جیلوں میں سنی قیدیوں سے ظالمانہ سلوک کی تصدیق


شام : بریگیڈ کمانڈر سمیت ایرانی پاسدران کے مزید 24 ارکان ہلاک

شام کے شہرحلب کے شمال میں دو قصبوں پر حملے کی کارروائی میں ایرانی پاسداران_انقلاب کے 24 ارکان ہلاک ہوگئے۔ شامی حکومت نواز قصبوں "نبل" اور "الزہراء" میں آپریشن کے دوران مارے جانے والوں میں، ایرانی شہر نیشاپور میں پاسداران انقلاب کی آرمرڈ بریگیڈ 21 کے کمانڈر میجر جنرل محسن قاجاریان بھی شامل ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام زمینی فوج کے سربراہ محمد پاکپور نے ایک سرکاری بیان میں قاجاریان کی موت پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔ پاکپور کے مطابق محسن قاجاریان "شام کی سرکاری فوج کی معاونت اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں ایک مشاورتی مشن کے دوران ہلاک ہوئے"۔
"فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق ان نئی ہلاکتوں میں ایرانی شہر قم میں آرمرڈ بریگیڈ 17 سے تعلق رکھنے والے پاسداران انقلاب کے دو افسران محمد حسین سراجی اور سجاد روشنائی بھی ہیں جو لڑائی کے دوران مارے گئے۔
ان کے علاوہ 7 دیگر ارکان کو بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان کے نام رضا عادلی، علی حسین کاهكش، علی رضا حاجی وند، فیروز حمیدی‌ زاده، محمد ابراهیم توفیقیان، مرتضی ترابی اور جواد محمدی ہیں۔
ایرانی ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ ان افراد میں سے اکثریت کا تعلق باسیج فورس کے زیرانتظام یونٹ "فاتحين" سے ہے۔ ان کو متعدد فوجی تربیتوں کے مکمل کرنے کے بعد شام بھیجا گیا تھا۔
یاد رہے کہ پاسدران انقلاب اور شیعہ افغان اور عراقی ملیشیائیں انقلابیوں کی بریگیڈز کے ساتھ سخت لڑائی کے بعد، حلب کے شمال میں واقع دو قصبوں نبل اور الزہراء میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئیں تھیں۔ اس دوران روسی طیاروں کے شدید حملوں کا سلسلہ جاری بھی جاری رہا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایسی تصاویر اور وڈیو کلپس نشر کیے ہیں جن میں پاسداران انقلاب اور ملیشیاؤں کے افغان، عراقی اور پاکستانی ارکان کو نبل اور الزہراء قصبوں کے اندر دیکھا جاسکتا ہے۔
دونوں قصبوں کے اطراف جمعہ کی صبح تک لڑائی کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران انقلابیوں نے "نبل" کے احاطے میں شامی فوج کے اہل کاروں سے بھری ایک بس کو ٹینک شکن میزائل ٹاؤ کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی منشیات کی تجارت ثاب


معروف ایرانی محقق اور مصنف مجید محمدی نے اپنے ایک مضمون میں منشیات کی تجارت میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کردار کا انکشاف کیا ہے۔ یہ مضمون فارسی زبان کی ایک اہم ویب سائٹ نے پوسٹ کیا ہے۔
ایرانی محقق نے اپنے مضمون میں کئی سوالات اٹھائے ہیں... مثلا : کیا پاسداران انقلاب کو منشیات کی تجارت کی ضرورت ہے؟ کیا پاسداران کے عقائد منشیات کی تجارت کی راہ میں حائل ہوتے ہیں؟ کیا پاسداران کے پاس اتنی لیاقت ہے جو انہیں منشیات کی تجارت کے قابل بناتی ہے؟ اور آخر میں کیا ایسے ثبوت اور شواہد موجود ہیں کہ جو اس گھناؤنی تجارت میں پاسداران کا ہاتھ ہونے کا انکشاف کرتے ہیں؟

نگرانی اور احتساب کے بغیر

انسداد منشیات کی ایرانی کمیٹی کے نائب سربراہ نے 7 جنوری 2015 کو سرکاری نیوز ایجنسی "ارنا" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کی تصدیق کی تھی کہ ایران میں منشیات کی تجارت کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔
ادھر محقق مجید محمدی کے مطابق، پاسداران انقلاب اور دیگر فورسز بالخصوص فیلق القدس کو ایران اور خطے میں اپنے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بڑے مالی ذرائع کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ایسا پہلو ہے جس کی بنیاد پر ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ مذکورہ عناصر کا اس تجارت میں کوئی ہاتھ نہیں... خاص طور پر یہ کہ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایرانی حکومت کی عسکری سرگرمیوں کا اور بشار الاسد حکومت، حزب اللہ اور حوثیوں کے لیے اس کی سپورٹ کا سلسلہ نہیں رکا۔ اس امر کے باعث پاسداران انقلاب، ایرانی پارلیمنٹ کے منظور کردہ بجٹ کے علاوہ منشیات کی تجارت جیسے اضافی مالی ذرائع تلاش کرتی ہے۔
محقق نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ملک میں اسمگلنگ کے سامان کی زیادہ تر منڈیوں پر پاسداران انقلاب اور خاص طور پر فیلق القدس کا کنٹرول ہے۔ اس کے بعد وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک ایسے ملک میں جو پوری طرح اس فوجی ادارے کے سامنے سرنگوں ہے، منشیات کی انتہائی منافع بخش تجارت سے چشم پوشی کرنا کیسے ممکن ہے... اس لیے پاسداران انقلاب کی طرف سے گرین سگنل کے بغیر اس کی آنکھوں کے سامنے اتنی آسانی سے اسمگلنگ کا ہونا ممکن نہیں۔
​شرعی رخصت کے ساتھ منشیات کی تجارت
محقق نے یہ بھی سوال پیش کیا ہے کہ جب لاطینی امریکا میں بائیں بازو کی طاقتیں اور افغانستان میں شدت پسند عسکری عناصر منشیات کا کاروبار کر سکتے ہیں تو پھر ان ہی فضاؤں میں رہنے والے شیعہ گروپوں کو کون سی چیز اس کام سے دور رکھ سکتی ہے ؟
وہ مزید لکھتے ہیں کہ " لاطینی امریکا میں بائیں بازو والوں کی جانب سے منشیات کی امریکا اسمگلنگ کا مقصد سامراجیت کو تباہ کرنا ہے۔ اس لیے یہ تو فطری بات ہے کہ ان کے شیعہ ساتھی بھی ایرانی سرزمین کے راستے افغانستان سے یورپ منشیات کی اسمگلنگ پر آنکھیں موند کر رکھیں۔ بالخصوص ایران میں تو اگر نظام کو برقرار رکھنے کا ناگزیر تقاضہ آجائے تو اس کی خاطر توحید اور نماز پر بھی عمل روک دینے کی اجازت ہے۔ ایسے میں مذہبی حلقوں سے منشیات کی تجارت کے جواز کا شرعی فتوی حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں۔ یہ بات تو ویسے بھی معروف ہے کہ مذہبی حلقے افیون کو اور اسی طرح نشہ آور صنعتی لوازمات کو حرام نہیں قرار دیتے۔

پاسداران انقلاب کے اختیارات

مضمون میں ان اختیارات اور اہلیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو پاسداران
 انقلاب کے لیے منشیات کی تجارت اور کسی بھی دوسرے سامان کی اسمگلنگ کو آسان بناتے ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بندرگاہیں اور سمندری گزرگاہیں غیر سرکاری طور پر پاسداران کے قبضے میں ہیں اور یہ کسی بھی سرکاری ادارے کے زیرنگرانی نہیں، اس کے علاوہ ایرانی ہوائی اڈوں کی سیکورٹی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کو ان مقامات پر کسی بھی کام کی کھلی آزادی حاصل ہے۔ پاسداران انقلاب کی ملک کے تمام علاقوں، جامعات، اسکولوں، مساجد، امام بارگاہوں اور سرکاری دفاتر میں مخلتف شاخیں ہیں۔ اسی طرح وہ ایران میں پہاڑی علاقوں، جنگلوں، چٹیل میدانوں اور صحراؤں پر بھی مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
ثبوت کیا ہیں ؟
مجید محمدی کے مطابق منشیات کی تجارت میں پاسداران انقلاب کے ملوث ہونے کے متعدد ثبوت اور شواہد ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایرانی اعلیٰ اہل کاروں اور پاسداران انقلاب سے علاحدہ ہو جانے والے ارکان کے بیانات کو بنیاد بنایا ہے۔
ایران کے ایک سابق اٹارنی جنرل "دری نجف آبادی" نے 2 اگست 2008 کو فارسی زبان کے اخبار "رسالت" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ " اگر مغربی ممالک نے ایٹمی توانائی کے شعبے میں ایران کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ایران اپنی سرزمین کے ذریعے نہیں بلکہ سمندر اور دیگر پوائنٹس کے ذریعے نشہ آور لوازمات (منشیات) کے گزرنے کی اجازت دے سکتا ہے... اس لیے کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کو روکیں اور لاشوں کا نذرانہ پیش کریں جب کہ افغانستان ہزاروں ہیکٹر زمین پر افیون کی خشخاش کاشت کر رہا ہے"۔
اس بیان سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنی سرزمین کے راستے منشیات کی یورپ اسمگلنگ کی اجازت دی چوں کہ مغربی ممالک نے ایرانی ایٹمی پروگرام کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بی بی سی (فارسی سروس) نے 7 مارچ 2012 کو اپنی ایک خبر میں بتایا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم فیلق القدس کے ایک بڑے کمانڈر جنرل غلام رضا باغبانی کا نام منشیات کی اسمگلنگ میں شریک ہونے کے الزام میں زیرپابندی شخصیات کی فہرست میں شامل کر لیا۔
17 نومبر 2011 کو پاسداران انقلاب سے علاحدہ ہو جانے والے ایک افسر "سجاد حق پناہ" نے ٹائمز اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ منشیات کی تجارت اور اسمگلنگ ایران میں پاسداران انقلاب کی قیادت کے درمیان پھیل چکی ہیں، اور ان میں بعض کمانڈر تو براہ راست ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
افیون کی ہیروئن میں تبدیلی
سجاد حق پناہ کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب افغانستان سے اسمگل شدہ افیون لے کر اسے ایران میں ہیروئن اور مارفین میں تبدیل کرتی ہے۔ اس کے بعد جرائم پیشہ گینگز کی معاونت سے اسے دنیا کے مختلف حصوں میں اسمگل کرا دیتی ہے۔
حق پناہ نے جو علاحدگی سے قبل پاسداران انقلاب میں انفارمیشن سیکورٹی کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے، بتایا کہ "پاسداران انقلاب (منشیات کی اسمگلنگ کے لیے) لوجسٹک آپریشنز کے لیے (اپنی خصوصی) آمدورفت کی سمندری اور فضائی کمپنیوں سے استفادہ کرتی ہے، اس طرح اسے لا محدود اختیارات حاصل ہیں"۔
منشیات کی اسمگلنگ میں پاسداران انقلاب کے بڑھتے ہوئے کردار نے ایرانی جنرل انسپیکشن آرگنائزیشن کے سربراہ مصطفی بور محمدی کو بھی احتجاج پر مجبور کر دیا۔ محمدی نے جنوری 2013 میں روزنامہ "تجارت فردا" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ " اس میں کوئی شک نہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ کسی بھی شکل میں ہو وہ انسانیت کے ساتھ غداری ہے۔ اور اس میں کوئی فائدہ اور بھلائی نہیں ہے کہ ایک ادارہ (پاسداران انقلاب) ایسا کام کرے۔ جو کوئی بھی ایسا کر رہا ہے اور اس کے بارے میں سوچ رہا ہے تو بلا شک و شبہ وہ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ہم اس میں کسی قسم کی بھی بھلائی، برکت اور منفعت خیال نہیں کریں گے"

Tuesday, 19 January 2016

جیش العدل کے مجاھدین نے کل صبح ایک اور کامیاب حملے کیے

جیش العدل کے مجاھدین نے کل صبح 2015 ۔ 01 ۔ 18 ۔کو ایران کے شہر سراوان کے علاقےمیں ایک فوجی چوکی کو بم دھماکے سے اڑا دیا ۔
 اورفوجی کیمپ کے بجلی لائین کو بھی بم دھماکے سے تباہ کردیا ۔ 
جس سے فوجی ہلاکتوں کے خدشات ہیں اور الحمدللہ جیش العدل کے مجاھدین بخیرو سلامتی اپنے کمیپ میں پہنچ گئے۔ 

جیش العدل کے مجاھدین نے کل رات 2015 ۔ 01 ۔ 18 کو سیب سوران میں 5 بم دھماکے کیے

جیش العدل کے مجاھدین نے کل رات 2015 ۔ 01 ۔ 18 کو ایران کے شہر سیب سوران  میں5 بم دھماکے کیے جس سے ایرانی فوج کو جانی اور مالی نقصان ہوئے ۔ 
ایک بم دھماکہ فوجی افسر کے کمرے میں ہوا ۔
 اور بقایا فوجی گاڑی پارکنگ و فوجی کمیپ میں میں ھوئے ۔ ایرانی فوجی کمیپ سے دھماکے کے بعد آگ کے شعلے بھڑک اٹھے ۔ 
جس کے بعد ایرانی فوجی اور کئی ھلیکیپٹرز آپہنچے  اور علاقے کو گہرے میں لے لیے ۔
 الحمد للہ مجاھدین جیش العدل بحفاظت اپنے کمیپ میں پہنچ گہے ۔   

Friday, 1 January 2016

جیش العدل کے مجاھدین نے آج 2016 ۔ 01 ۔ 01 کے صبح کو ایک ایرانی سپاہ پاسداران کے فوجی گاڑی کو بم سے تباہ کردیا

جیش العدل کے مجاھدین نے آج  2016 ۔ 01 ۔ 01 کے صبح 10:00 بجے کو ایک ایرانی سپاہ پاسداران کے فوجی گاڑی کو ایران کے شہر سراوان کے علاقے کوھک کے مقام پر بم دھماکے سے اڑا دیا ۔ 
جس میں سوار ایرانی حکومت کے سپاہ پاسداران کے فوجی افسر سمیت کئی ہلاک و زخمی ھوئے ۔
 بم دھماکے سے (دو ) گھنٹے بعد ایرانی روافض فوجیوں نے وہاں پہنچ کر تباہ شدہ فوجی گاڑی کو ہلاک و زخمی شدہ فوجیوں کے ساتھ آٹھا کر اس علاقے سے لے گئے ۔   
الحمدللہ  فدائیان جیش العدل بحفاظت اپنے کیمپ میں پہنچ گئے ۔ 
جیش العدل کے مجاھدین ایرانی روافض افواج و خامناہ ای اور اسکے مزدوروں کو خبردار کرتے ھوئے کہتے ہیں.
 کہ جب تک بے گناہ اہلسنت کے پکڑ دھکڑ اور پانسی کو نہ روکھا گیا تو جیش العدل کے جان فدا مجاھدین ایسے حملے کرتے رہیں گے اور ایران کو رافضیوں کے قبرستان بنا دینگے۔ 

برما میں مسلمانوں کے قتل عام میں بھی ایران کے ھاتھ ہیں


ہمیں برما میں مظلوم مسلمانوں پر جاری ظلم وستم اور قتل وغارت گری کا تو علم تها مگر آج ہی معلوم ہوا ہے کہ ان ایرانی رافضیوں نے مسلمانوں کے قتل عام میں بودیوں کو بهی اکیلا نہیں چهوڑا بلکہ اپنا حصہ ڈالتے ہوئے بهرپور تعاون بهی کیا.
سچ کہا ہے کسی نے کہ رافضی قوم مسلمانوں کے خلاف کسی بهی موقع کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتا.